اسے 'لائک' نہ کریں

اپ ڈیٹ 06 مارچ 2014

ای میل

پاکستان آئڈل کے ایک شو میں حدیقہ کیانی نے کانوں کے بندے پہنے ہوۓ تھے- یہ کوئی عام سے بندے نہیں تھے بلکہ ان کی شکل ایک بڑے تکون جیسی تھی جس کے بیچوں بیچ ایک بڑی سی آنکھ بنی ہوئی تھی-
پاکستان آئڈل کے ایک شو میں حدیقہ کیانی نے کانوں کے بندے پہنے ہوۓ تھے- یہ کوئی عام سے بندے نہیں تھے بلکہ ان کی شکل ایک بڑے تکون جیسی تھی جس کے بیچوں بیچ ایک بڑی سی آنکھ بنی ہوئی تھی-

آپ سب نے پاکستان آئڈل کے بارے میں تو سنا ہوگا- یقیناً حدیقہ کیانی کے بارے میں بھی سنا ہوگا، اور انکو سنا بھی ہوگا- بہت ممکن ہے آپ جامعہ بنوریہ فیم، مفتی نعیم صاحب سے بھی واقف ہونگے- لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتے کہ ان تینوں کے درمیان کیا چیز مشترک ہے، ان تینوں کے بیچ ایک وسیح عالمی سازش کا ایسا جال ہے جو تاریخ کے گرد آلود پنوں پر محیط ہے-

پاکستان آئڈل کے ایک شو میں حدیقہ کیانی نے کانوں کے بندے پہنے ہوۓ تھے- یہ کوئی عام سے بندے نہیں تھے بلکہ ان کی شکل ایک بڑے تکون جیسی تھی جس کے بیچوں بیچ ایک بڑی سی آنکھ بنی ہوئی تھی- انہوں نے شاید اسے فیشن کا حصّہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہوگی، لیکن مفتی نعیم حقیقت جان گۓ تھے: حدیقہ شیطانی قوتوں کی غلام تھیں-

نہیں وہ مڈل ارتھ (Middle Earth ) کا شیطان جادوگر، سورون نہیں، بلکہ وہ خطرناک عالمی غلبہ پرست جنہیں 'فری میسن' کے طور پر جانا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے 'الومناتی' (Illuminati )، بعض اوقات فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے- جو ہم جانتے ہیں وہ یہ کہ 'فری الومناٹی' (Free Illuminati ) زیادہ تر پاپ سٹارز مشتمل ہوتی ہے، یا ایسی مشہور شخصیات جنکی کسی تکونی شے کے ساتھ تصویر ہو، یا وہ کبھی اپنی زندگی میں آنکھ مارتے دکھائی دے ہوں- ایک اور چیز جسے ہم مانتے ہیں وہ یہ کہ فری الومناٹی جہاں بھی جاتے ہیں اپنا نشان ضرور چھوڑ جاتے ہیں، چاہے وہ کانوں کے بندوں کی شکل میں ہوں، ڈالر کا نوٹ ہو، یا لندن اولمپکس کا ایک آنکھ والا ماسکوٹ- وہ چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں پہچانیں-

مفتی نعیم نے انہیں پہچان لیا، اور بڑی 'تفتیش' اور 'ریسرچ' کے بعد دنیا کو یہ بتانے کا بیڑا اٹھایا- پاکستان 'آئیڈیل' جیسا کہ وہ اسے بلاتے ہیں، یہودی فری میسن کی جنسوں کو آپس میں ملانے، بے حیائی پھیلانے اور سب سے بدتر یہ کہ پاکستانی نوجوانوں میں موسیقی کا شوق ابھارنے کی سازش ہے-

انکا یہ کہنا تھا کہ علماء یہ برداشت نہیں کر سکتے، انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی چھ منٹ کی ویڈیو میں اس شو کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا-

اس پوسٹ پر کی جانے والی لائکس اور کمنٹس کا جائزہ لینے پر حیرت انگیز تو نہیں لیکن آنکھیں کھول دینے والے حقائق ضرور نظر آۓ- ان میں سے اکثریت 'جزاک الله' اور 'آپ نے تو ہماری آنکھیں کھول دیں' قسم کے تبصرے تھے-

تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اور خود کو ایک سوشل سائنٹسٹ سمجھتے ہوۓ میں نے حضرات کے پیجز پر کلک کرنے کی غلطی کردی- ان میں سے بہت سے تو تعلیمی ریکارڈ اور خود کی تصویروں کے ساتھ دیکھنے میں اصلی لگے، انکی لائکس ناگوار پاپ موسیقی سے لے کر مختلف فوٹبال ٹیموں پر مشتمل تھیں- لیکن جب آپ متعلقہ پیجز پر جاتے ہیں تو منظر افسوسناک سے ڈراونا ہوتا چلا جاتا ہے-

اب آپ سپاہ صحابہ کے فین پیجز پر ہیں، اب آپ لشکر جھنگوی کی شان میں قصیدے پڑھ رہے ہیں، اب آپ ایسے یوزرز (users ) دیکھ رہے ہیں پروفائل پکچر پر حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن کی تصویریں لگی ہیں- ایک قدم اور، اور آپ دجالی ڈرونز کے حوالوں اور اصل دشمن کی نشاندہی کرنے والی ناقص ویڈیو سے بھی آگے نکل جائیں گے-

یہاں آپ کو بڑی ہوشیاری سے تیار کے گۓ پروپیگنڈا اور بالکل درست نشانے پر لگنے والے ریکروٹمنٹ لیکچر (recruitment lecture ) ملیں گے- آن لائن آپ کو ٹی ٹی پی اور القائدہ کے آفیشل پیجز دیکھنے کو ملیں گے- اور یہ تو محض آغاز ہے-

تھوڑا اور گہرائی میں جائیں، تو یہاں اصل میں بم بنانے کی تکنیک، ٹریننگ ویڈیوز، عالمی دہشتگردی کے فورم اور چیٹ روم موجود ہیں-

یہ ہے انٹرنیٹ کے کئی طریقہ استعمال میں سے ایک استعمال: یہ بڑی حد تک مختلف اور اکثر گمراہ کن مفادات کے حامل افراد کو باہم ملاتا ہے-

قتل ہونے اور کھاۓ جانے کے لئے کسی رضامند شکار کی تلاش میں ہیں؟ یہ بھی ممکن ہے، اگر ہمّت ہے تو Armin Meiwes کے بارے میں پڑھیں- اس طرح کے گروپ مخصوص لوگوں کے خود شناختی حلقے بن جاتے ہیں جنکے مشترکہ کلچر میں سے ایک یہ ہے کہ ' میں ٹھیک ہوں، آپ ٹھیک ہیں، یہ تو دوسرے لوگ ہیں جو نہیں جانتے اسکی اصل جاۓ وقوع کہاں ہے'-

جب بات آتی ہے پرتشدد مذہبی عسکریت کی، تو دشمن یہی 'دوسرے لوگ' ہیں- انٹرنیٹ کی بے نام، خفیہ دنیا، بھرتیوں کے لئے بہترین جگہ ہے- بنیاد پرست بننے کے لئے اب کسی انتہا پسند سے براہ راست رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، نہ کسی تکفیری کو جگہ جگہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے- یہ سب کام آپ اپنے گھر میں آرام سے بیٹھ کر بھی کرسکتے ہیں-

سنہ دو ہزار نو کے 'سرگودھا فائیو' کے کیس کو لے لیجیے: مبینہ طور پر مقامی ملیٹنٹس سے منسلک ہونے کے لئے پاکستان آنے والے پانچ امریکی نوجوانوں کا رابطہ انتہا پسندوں سے یو ٹیوب پر جاری جہادی ویڈیوز پہ کمنٹس کے ذریعہ ہوتا رہا تھا-

لیکن ظاہر ہے یہ پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے جہاں انتہا پسندوں تک آسانی سے رسائی ممکن ہے؟ کیونکہ یہاں ایسے علاقے اور سینٹرز موجود ہیں جہاں انتہا پسند نظریات پھیلتے اور اثر انداز ہوتے ہیں-

لیکن ذرا سوچیں، کوئی ایک کروڑ پندرہ لاکھ پاکستانی اکیلے فیس بک پر موجود ہیں، اور یہ تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے- یہاں مختلف شادی کی تصویروں کو لائک کرنے والے ہر ایک یوزر کے لئے، ایک بھرتی کرنے والا، ایک مختیار، ایک ہینڈلر موجود ہے، اور وہ انتظار کر رہا ہے کسی بیوقوف کا، کسی گمراہ کا، کسی نفسیاتی کا-

ایسے لوگ وہاں موجود ہیں، اور 'بین پاکستان آئڈلز ' سے فقط چند کلک کی دوری پر ہیں-

انگلش میں پڑھیں

ترجمہ: ناہید اسرار