عراق میں پڑتی دراڑیں

23 جون 2014

ای میل

ایک دہائی پہلے عراق کی تین طرفہ تقسیم کا جو امکان کچھ لوگوں نے پیش کیا تھا، لگتا ہے کہ اب حقیقت بننے جا رہا ہے-
ایک دہائی پہلے عراق کی تین طرفہ تقسیم کا جو امکان کچھ لوگوں نے پیش کیا تھا، لگتا ہے کہ اب حقیقت بننے جا رہا ہے-

عراق، فرقہ وارانہ خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے جس سے 1947 میں ہندوستان کے بٹوارے کے موقع پر ہونے والے خونی بٹوارے جیسی خونریزی کے امکانات بڑھ گئے ہیں-

اپنی ہی دنیا میں رہنے والے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اس موقع پر ایک ناقابل فہم نظریے کے ساتھ میدان میں کودے ہیں کہ گیارہ سال پہلے عراق پر امریکہ کی زیر قیادت افواج کی چڑھائی کا آجکل کے واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں-

خود ان کے خیال میں وہ بلااشتعال جارحیت جس سے عراق میں بے مثال افراتفری پھیلی، ایک اچھا کام تھا جسے شام میں بھی دہرایا جانا چاہئے- مزید یہ کہ اصل خامی جلد واپسی میں پوشیدہ ہے جس کے ازالے کے لئے ایک بار پھر فوجی مداخلت کی جا سکتی ہے-

خوش قسمتی سے ان کے پاگل پن کا دوسروں پر کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا- ان کے یادگار ساتھی، بش، رمزفیلڈ اور وولفو وٹز نے اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے- یہی حال کولن پاول کا بھی ہے جنہوں نے 2003 میں اقوام متحدہ میں اپنی پریزنٹیشن میں بار بار عراقی سرزمین پر ابو مصعب الزرقاوی کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے صدام حسین کے القاعدہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا-

اردن سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند زرقاوی، امریکہ کے تعاون سے افغانستان میں ہونے والے جہاد کے ویٹرن تھے اور بلاشبہ اپنے آپ میں ایک خطرہ تھے پر ان کے ٹریننگ کیمپس اس کرد علاقوں میں تھے جنھیں مغرب نے نو فلائی زون قرار دے کر محفوظ کیا ہوا تھا-

وہ اس وقت اندر داخل ہوئے جب غیر ملکی فوجوں کی جارحیت نے انہیں موقع فراہم کیا اور اس بڑے پیمانے پر اودھم مچایا جو صرف مغربی غاصبوں کا خاصہ ہے- امریکی فوج کے حملے میں 2006 ان کی ہلاکت کے بعد اس بارے میں بہت سے دعوے کئے گئے کہ عراق میں القاعدہ اب قصہ پارینہ بن چکی ہے-

عراق کا بٹوارہ ایک حقیقت بن سکتا ہے-

تاہم اس سب کے باوجود یہ اسلامک اسٹیٹ آف عراق میں تبدیل ہو گئی اور آخر کار ابو بکر بغدادی کی سربراہی میں اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ الشام (آئی ایس آئی ایس) بن گئی جس کی بربریت ہی کو القاعدہ سے اس کے اخراج کا سبب مانا جاتا ہے-

زیادہ پرانی بات نہیں کہ ایمن الظواہری نے آئی ایس آئی ایس کو شام سے نکل جانے کا حکم دیا تھا جہاں اس کے پاس بنیادی طور پر وہ علاقے تھے جو بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے دوسرے گروہوں نے چھوڑ دیے تھے-

لگتا تو نہیں کہ آئی ایس آئی ایس نے اس حکم کی تعمیل کی کیونکہ رپورٹس سے اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ جب چند روز پہلے آئی ایس آئی ایس کے جنگجوؤں کی شام کی جانب سے پیشقدمی کی وجہ سے 30,000 عراقی فوجیوں نے موصل چھوڑتے وقت جو جنگی ساز و سامان چھوڑا تھا اس میں سے زیادہ تر شام پہنچ چکا ہے-

جب ٹونی بلیئر نے یہ تجویز کیا کہ شام میں مغربی مداخلت سے آئی ایس آئی ایس کے عزائم کو زک پہنچ سکتی تھی تو وہ اس بات کے امکان کو قطعی طور پر نظرانداز کر رہے تھے کہ اسد حکومت پر حملے سے اس کے بالکل مخالف اثرات ہوتے- ان کا یہ کہنا کہ امریکی اور برطانوی اتحاد نے صدام کو اقتدار سے نہ ہٹایا ہوتا تو عراق میں پھر بھی ایسا ہی ہونا تھا جیسے کہ نام نہاد عرب اسپرنگ میں ہوا، لگتا ہے کہ وہ بالکل ہی بھول گئے کہ عراق پر قبضہ ہی اس فنومنا کی ابتدا کا پیش خیمہ ثابت ہوا تھا-

یہ بات بالکل بھی حیرانی کی نہیں کہ آئی ایس آئی ایس، عراق اور شام کی سرحد کو ایک صدی پہلے اینگلو فرنچ معاہدے سیاسی خدوخال کے مخالف مسخ کرنے حوالے سے اپنے رول کو کس طرح دیکھتی ہے- پر اس سے بغداد کی سنی فورسز کے خلافت قائم کرنے کے عزائم کو ہلکا لینے کی بھی گنجائش نہیں-

مزے کی بات یہ ہے کہ امریکیوں کی طرف سے وہ تبصرہ نگار اور تھنک ٹینکس جو آج سے کچھ عرصہ پہلے تہران پر بمباری کی باتیں کر رہے تھے اب ایک ممکنہ ڈھیلے ڈھالے ایرانی امریکی اتحاد کی باتیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں-

یہ امکانات، جس کے اشارے دونوں جانب سے ملے تھے، ممکنہ طور پر ریاض اور تل اویو کی ناراضگی کے پیش نظر ممکنہ طور پر ختم ہو گئے ہیں-

ایران کے بارے میں رپورٹس ہیں کہ اس نے پاسداران انقلاب اور مشیروں، دونوں حوالوں سے بغداد کی مدد ہے، جبکہ امریکہ نے اپنا ایک ایئر کرافٹ کیریئر، جارج ایچ ڈبلیو بش خلیج میں پہنچا دیا ہے اور صدر اوبامہ نے کہه دیا ہے کہ ان کے سامنے سوائے زمینی فوجوں کی دوبارہ تعیناتی کے، سارے آپشنز کھلے ہیں-

ساتھ ہی انہوں نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو بھی سنیوں کے ساتھ پل بنانے کے لئے تنبیہ کی جنہیں سالوں سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے- ہو سکتا ہے کہ اس کام کے لئے تاخیر ہو چکی ہو کیونکہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ سنی قبائلیوں اور بعث پارٹی کے بکھرے ہوۓ لوگوں نے آئی ایس آئی ایس کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے-

امریکی فضائی حملوں کے گیم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کے بارے میں کافی شکوک و شبہات ہیں- دوسری طرف شیعہ ملیشیاز کو بھی رضاکاروں کی آمد سے قوت ملی ہے جبکہ کردش پیش مرگا نے کرکوک کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے-

ایک دہائی پہلے عراق کی اس طرح تین طرفہ تقسیم کا جو امکان کچھ لوگوں نے پیش کیا تھا لگتا ہے کہ اب حقیقت بننے جا رہا ہے- پر اس امکان کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے جو خونی قیمت چکائی جا رہی ہے وہ نہ صرف بہت زیادہ ہے بلکہ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے-

آئی ایس آئی ایس کی زیر قیادت قوتوں کی کامیابی کے اثرات مسلم دنیا کے دوسرے حصوں میں جاری اس قسم کی دوسری تحریکوں پر بھی پڑیں گے، خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے طالبان-

پاکستانی طالبان کو تو اس وقت پاکستانی افواج کی جانب سے حملے کا سامنا ہے اور اس کے نتیجے میں شمالی وزیرستان سے بڑے پیمانے پر سویلین آبادی کا انخلاء ہو رہا ہے- تاہم شاید اس خطرے کے خاتمے کے لئے ان کے خلاف ملٹری آپریشن کرنے میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اور اس خطرے کی شدت اس ماہ کے شروع میں پاکستان کے مصروف ترین ایئرپورٹ پر ہونے والے بے خوف حملے سے ظاہر ہوتی ہے-

ویسے اپنے بھائیوں کا اس طرح قتل عام پاکستان کے لئے نئی بات نہیں، جیسا کہ عراق سے رپورٹ کیا جا رہا ہے- تاہم بہرحال یہاں پر اس پیمانے پر تو کبھی ایسا نہیں ہوا جیسا کہ آئی ایس آئی ایس کی جانب سے 1,700 افراد کے قتل کی اطلاعات درست ثابت ہو رہی ہیں- تاہم اگر آئی ایس آئی ایس جیسی گمراہ تحریکوں کی کامیابی وقتی ثابت نہ ہوئی تو یہ اس سے کہیں زیادہ سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے-

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: شعیب بن جمیل