• KHI: Fajr 4:46am Sunrise 6:07am
  • LHR: Fajr 4:01am Sunrise 5:29am
  • ISB: Fajr 4:00am Sunrise 5:31am
  • KHI: Fajr 4:46am Sunrise 6:07am
  • LHR: Fajr 4:01am Sunrise 5:29am
  • ISB: Fajr 4:00am Sunrise 5:31am

'کراچی حملے سے متعلق وزارتِ داخلہ کا پیشگی خط ملا تھا'

شائع June 30, 2014
فائل فوٹو—
فائل فوٹو—

اسلام آباد: ڈی جی سول ایوی ایشن نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن کو آج پیر کے روز ایک بریفنگ میں بتایا ہے کہ کراچی ائیرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے سے متعلق وزارتِ داخلہ کا پیشگی خط موصول ہوا تھا، لیکن اس کو پر عملدرامد نہیں کیا گیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں ڈی جی سول ایوی ایشن ائیرمارشل ریٹائرڈ یوسف نے کراچی ائیرپورٹ پر حملے سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ حملے سے متعلق وزارت داخلہ کا پیشگی خط ملا تھا، لیکن خط کے مندرجات پر عملدرآمد میں سست روی اختیار کی گئی۔

ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ کولڈ اسٹوریج کا معاملہ میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

اس موقع پر سینیٹر کلثوم پروین نے ان سے استفسار کیا کہ واقعے میں کہیں اندر کا بندہ تو ملؤث نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ائیرپورٹ جیسے حساس مقام پر حملے کی وجوہات جاننا ضروری ہیں۔

ڈی جی سی اے اے نے بتایا کہ کراچی ائیرپورٹ حملے میں 10 میں سے 5 دہشت گرد داخل ہونے کے ساتھ ہی مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ائیرپورٹ کی سیکورٹی کے لیے نیا پلان تیار کرلیا ہے۔

اجلاس کے ان مزید کہنا تھا کہ کہا کہ ائیرپورٹ کی سیکورٹی کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری نیسکام کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیسکام نے ائیرپورٹ کا وزٹ کرکے سیکورٹی اقدامات تجویز کرلیے ہیں۔ ایچ ایم سی واہ کو 30اے پی سی اور 50 اسٹیل بنکرز کا آرڈر دے دیا ہے۔

ڈی جی سی اے اے نے کہا کہ ہم نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروائی ہیں،کولڈ اسٹوریج سے کوئی لاش نہیں ملی تھی، سات افراد اپنے دفاتر میں ایک جگہ چھپے ہوئے تھے اور باہر نہیں آسکے۔

خیال رہے کہ رواں مہینے 8 جون کو کراچی ائیرپورٹ پر دس کے قریب دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور فورسز کی جانب سے پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے جوابی آپریشن میں تمام دہشت گردوں سمیت 28 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تبصرے (1) بند ہیں

راضیہ سید Jun 30, 2014 03:26pm
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وزارت داخلہ کو پہلے ہی حملے کے متعلق معلومات تھیں تو ائیر پورٹ کے تحفظ کے لیے پہلے سے ہی اقدامات کیوں نہیں کئے گئےلیکن بات تو یہ ہے کہ وزیر داخلہ کا اہم مواقع پر رابطہ نمبر بند ہوتا ہے اور وہ کسی کو دستیاب نہیں ہوتے جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی معلومات کے حصول کے موقع پر کہنا جات اہے کہ جناب آج تو چھٹی ہے ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔اسی طرح سول ایوی ایشن والے اب تو بڑی بڑی بریفنگ دے رہے ہیں تو جب آپ کو وزارت داخلہ نے خبردار کیا تھا تب آپ نے فوری ایکشن کیوں نہیں لیا؟ کیوں لوگوں کی زندگیوں کو دائو پر لگا دیا ؟ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ میڈیا نے کولڈ سٹوریج کے واقعے کو بڑھا چڑ ھا کر بیان کیا اگر ایسا ہوتا تو کوئی بھی سٹوری منظر عام پر نہیں آتی ، پیلی بات تو یہ کہ ہمیشہ وقت پر ہی کسی بھی اہم مقام کی حفاظت اور لوگوں کے بچائو کی کوئی تدبیر کیوں نہیں کی جاتی ؟ ہم ہمیشہ کسی حادثے کے ہی انتظار میں کیوں ہوتے ہیں کہ یہ ہوگا ہم یہ کریں گے ورنہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیھٹے رہیں گے ، چاہے وہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں آنے والا زلزلہ ہو ، ائیر پورٹ پر حملہ ہو ، مہران ائیر بیس کا واقعہ ہو ، راولپنڈی میں گکھڑ پلازہ مٰیں آتشزدگی ہو ، جی ایچ کیو پر حملہ ہو ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت کیوں نہیں دیتے ؟

کارٹون

کارٹون : 15 اگست 2024
کارٹون : 14 اگست 2024