کے ٹو سر کرنے کی 60 ویں سالگرہ پرپاکستانی پرچم سربلند

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2014

ای میل

کوہ پیمائوں کے مطابق مائونٹ ایورسٹ کو سر کرنا دنیا کے بلند ترین مقام تک پہنچنا ہے مگر کے ٹو کی بلند پر پہنچنے والے کو اصل کوہ پیماء کہا جاتا ہے۔ فائل فوٹو۔۔۔
کوہ پیمائوں کے مطابق مائونٹ ایورسٹ کو سر کرنا دنیا کے بلند ترین مقام تک پہنچنا ہے مگر کے ٹو کی بلند پر پہنچنے والے کو اصل کوہ پیماء کہا جاتا ہے۔ فائل فوٹو۔۔۔
پاکستانی کوہ پیماہ کیمپ IV پر، تصویر، Ev-K2-CNR
پاکستانی کوہ پیماہ کیمپ IV پر، تصویر، Ev-K2-CNR
پاکستانی ٹیم اطالوی کوہ پیماؤں کے ہمراہ، تصویر،  Ev-K2-CNR۔
پاکستانی ٹیم اطالوی کوہ پیماؤں کے ہمراہ، تصویر، Ev-K2-CNR۔
اوپر، دائیں، علی درانی، غلام مہدی، محمد صادق، حسن جان، 
نیچے، محمد طارق، رحمت اللہ بیگ، محمد حسن، علی روزی۔ ، تصویر، Ev-K2-CNR۔۔
اوپر، دائیں، علی درانی، غلام مہدی، محمد صادق، حسن جان، نیچے، محمد طارق، رحمت اللہ بیگ، محمد حسن، علی روزی۔ ، تصویر، Ev-K2-CNR۔۔

8611 میٹر بلند کے ٹو پہاڑ کو سر کرنے والی ٹیم کی کامیابی کے 60 سال کے بعد صرف پاکستان کے کوہ پیمائوں پر مشتمل ٹیم نے پاکستان کے اس مشکل ترین پہاڑ اور دنیا کے خطرناک ترین اس 8000 میٹر بلند پہاڑ کو سر کر لیا ہے۔

کوہ پیمائوں کی آٹھ ارکان پر مشتمل ٹیم میں علی درانی، علی روزی، حسن جان، محمد صادق، غلام مہدی، اور رحمت اللہ بیگ شامل تھے، ’’کے ٹو 2014 پاکستان مہم، 60 سال بعد‘‘ کی ٹیم نے کامیابی سے کے ٹو کو ہفتے کے روز سر کر لیا۔

اس ٹیم میں شامل کوہ پیما کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقوں سدپارہ، شگر اور ہوشے سے تھا۔

اس ٹیم کے سربراہ ہوشے کے مشہور کوہ پیما اور گائیڈ محمد تقی تھے جو سپنتک اور بروڈ پیک یا کے تھری سر کر چکے ہیں۔ حسن جان کا تعلق بھی ہوشے کے علاقے سے ہے وہ نانگا بربت، چہار کوزا، گشیر برم ٹو، اور بروڈ پیک سر کر چکے ہیں۔

اس ٹیم میں سدپارہ کے محمد صادق بھی شامل تھے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دنیا کے بہترین پورٹر ہیں جنہوں نے جی ون، جی ٹو اور بورڈ پیک تک جا چکے ہیں۔

ہوشے کے رہائشی غلام مہدی جی وی، جی ٹو، کے سیون، نانگا پربت، اور سپینتک تک جا چکے ہیں جبکہ انہی کے ساتھ علی درانی اس سے قبل بروڈ پیر کی بلندی تک گئے ہیں۔

علی روزی کا تعلق بھی ہوشے کے علاقے سے ہے، وہ بورڈ پیک اور جی ٹو سر کر چکے ہیں، محمد حسن جی ٹو، کے ٹو اور بورڈ پیک کی بلندئی تک جا چکے ہیں، شمشال کے رحمت اللہ بیگ بھی برفانی پہاڑوں کے کوہ پیما ہیں۔

پاکستان میں دنیا کے 8000 میٹر بلند 14 پہاڑوں میں سے 5 موجود ہیں جن میں کے ٹو، گشرم برم ون، گشرم برم ٹو، بورڈ پیک اور نانگا پربت شامل ہیں، اس کے علاوہ 6000 میٹر سے 7000 میٹر کے سر نہ کیے جانے والے کئی بلند پہاڑ بھی ہیں۔

بہت سے پاکستانی اس بات سے لاعلم ہوں گے کہ’کے ٹو 2014 پاکستان مہم‘ کے ارکان کوہ پیما پاکستان کے مضبوط ترین افراد میں شامل ہیں، ان میں اکثر افراد بطور گائیڈ، کوہ پیما اور بلندی پر سامان لے جانے کا کام کرتے ہیں، ان میں اکثر افراد 7000 اور 8000 میٹر کے بلند پہاڑوں کا بقابل فخر کام کر چکے ہیں۔

درحقیقت کوہ پیمائی ایک مہنگا شوق ہے اور ایک مہم پر ہی کسی پاکستانی کے کم از کم 5000 ڈالر (تقریباََ 5لاکھ روپے) کے اخراجات آتے ہیں، اسی وجہ سے بہت سارے کوہ پیما زیادہ بلند پہاڑوں تک نہیں جا پاتے۔

1987 میں آسٹریلیا کے ایک کوہ پیمار اور صحافی گریگ چائلڈ نے کلیمبر میگزین کے لیے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ مغربی کوہ پیما کوہ ہمالیہ کے مقامی افراد کو شہیرپا اور پوررٹر(سامان اٹھانے والا) کے نام دیتے ہیں کوہ پیمائی کی ان مہمات میں یہ افراد بطور مزدور کام کرتے ہیں، جس کے لیے ان کو معاوضہ دیا جاتا ہے کیوں کہ یہ سوچا جا سکتا ہے کہ نیپال، پاکستان اور ہندوستان کے افراد ان پہاڑوں کو بس بطور روزگار ایک ذریعہ دیکھتے ہیں۔

حالیہ مہم کے لیے ای وی-کے ٹو- سی این آر کی ایس ای ای ڈی(سوشل اکنامک انوائرمنٹ ڈیولپمنٹ) اور اٹلی کی حکومت نے مدد فراہم کی تھی۔ اس مہم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے کوہ پیمائوں کو ان کی صلاحیتیں دکھانے کا موقع میسر آ سکے اور وہ دنیا کو بتا سکیں کہ پاکستانی کوہ پیما کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

ایس ای ای ڈی کا کمیونیکیشن کنسلٹنٹ منیر احمد نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو میں کہنا تھا کہ تمام کوہ پیمائوں بہتر ہیں اور کچھ آرام کے بعد وہ اسکردو پہنچ جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی کوہ پیمائوں کو ٹیکنکل سپورٹ فراہم کرنے والے اٹلی کے کوہ پیما اور کوہ پیمائی کے سفیر میچل کوسچی اور سائمن اریگن سمیت پاکستانی ٹیم لید محمد تقی اور غلام نبی زیادہ بلند پر جانے کی وجہ سے طبیعت ناسازی پر کیمپ فور سے واپس آگئے تھے۔

کے ٹو

ایورسٹ دنیا کا بلند ترین پہاڑ ہے جبکہ کے ٹو جس کو کوہ پیما اطالوی پہاڑ کا نام بھی دیتے ہیں اس کے بعد بلند ترین ہے اس پہاڑ کو 31جولائی 1954 کو اٹلی کے ایچلے کمپینن اور لینو ایکیڈلی نام کوہ پیمائوں نے پہلی بار سر کیا تھا۔

کوہ پیمائوں کے مطابق مائونٹ ایورسٹ کو سر کرنا دنیا کے بلند ترین مقام تک پہنچنا ہے مگر کے ٹو کی بلند پر پہنچنے والے کو اصل کوہ پیماء کہا جاتا ہے۔

8000 میٹر بلند پہاڑوں میں نیپال میں انا پرنا کے بعد سب سے زیادہ شرح اموات کے ٹو پر ہی ہیں، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے بلند ترین مقام پر پہنچنے والے 4 کوہ پیمائوں میں ایک کوہ پیما ہلاک ہوا۔

1856میں یورپ کی ایک ٹیم نے اس کا سروے کیا، تھامس مونٹگمری اس ٹیم کے ایم ممبر تھے جنہوں نے اسکا نام ’’کے ٹو‘‘ تجویز کیا تھا جس کو قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں دوسرا بلند ترین پہاڑ مانا گیا تھا۔

مگر بعد میں کے ون، کے تھری، کے فور اور کے فائیو کو بلترتیب میہشر برم، گیشر برم فور، گیشر برم ٹو اور گیشر برم ون کے نام دیئے گئے۔

اسی خطے میں 1892 میں برطانیہ کے مارٹن کونوے کی سربراہی میں کوہ پیمائوں کی ایک ٹیم نے بالتورو گلیشئر کے کونکورڈیا کی بلندی پر پہنچے تھے۔

1902 میں کے ٹو کو شمال مشرقی طرف سے پہلی بار سر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، آسکر ایکنسٹائن، الیسٹر کرولی، جولز جیکورٹ- گوئلارموڈ، ہینریچ فنال، وکٹر ویزلی اور گائے نولز اس ٹیم کا حصہ تھے۔

اس حوالے کرولی نے اپنی کتاب کنفیسنش اور الیسٹر کرولی میں لکھا کہ ہمیں پہاڑ تک پہنچنے میں ہی 14دن لگ گئے۔

اس کوشش میں کوہ پیما بیماری اور دیگر وجوہات سے کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے۔

اس ناکام کوشش کے بعد 1939 میں ایک اور خطرناک کوشش کی گئی جس میں ایک ٹیم فریٹز ویسنر کی قیادت میں 200 میٹر کی بلند تک ہی جا پائی تھے وہ حادثے کا شکار ہو گئے اور اس ٹیم کے کوہ پیما ڈوڈلی وولف، پسانگ کیکولی، پسانگ کیتار، اور پینتسو لاپتہ ہوگئے۔

1953 میں کی ایک امریکی کوہ پیما ٹیم اس کی بلند کے بہت قریب پہنچ کر بھی اس کو سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی، اس مہم جو ٹیم کی قیادت چارلس ہوسٹن کر رہے تھے مگر یہ 7800میٹر کی بلند پر پہنچ کر طوفان کا شکار ہو گئے اور دس دن تک طوفان کا سامنا کرنے کے بعد واپس آگئے۔

31 جولائی 1954 کو پہلی بار ایک اطالوی کوہ پیما ٹیم نے سر کیا، جب ایشلے کمپنینی اور لیکے ڈلی اس کی بلند تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، اس مہم میں اٹلی کے والٹر بوناٹی اور پاکستان کے ہنزہ کے پورٹر عامر مہدی نے کوہ پیمائوں کے لیے آکسیجن کے سیلنڈر 210 میٹر کی بلندی تک لیے جانے میں مدد کی، اور یوں پاکستان کا یہ پہاڑ اطالوی پہاڑ بن گیا۔

پاکستانی کوہ پیماہ اشرف امان اور نذیر صابر 52 ارکان پر مشتمل ایک ٹیم اور پندرہ سو قلیوں کی ایک فوج کے ساتھ کے ٹو سر کرنے نکلے جہاں انہیں سخت موسم کا سامنا کرنا پڑا اشرف امان کے ٹو سر کرنے والے پہلے پاکسانی ہیں جنہوں نے سات اگست 1977 کو کے ٹو کو سر کیا۔