دریائے چناب کی سیلابی لہروں کے شکار افراد

09 ستمبر 2014

ای میل

وزیر آباد گجرات بائی پاس کے قریب ایک گائوں کا منظر— وائٹ اسٹار فوٹو
وزیر آباد گجرات بائی پاس کے قریب ایک گائوں کا منظر— وائٹ اسٹار فوٹو

خواتین ایک دوسرے سے اس طرح گلے ملنے میں مصروف تھیں جیسے برسوں سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی، مرد بچوں کو ایسے چوم رہے تھے جیسے وہ جنگ لڑ کر گھر واپس آئے ہوں۔

ایک شکستہ حال کشتی کچھ دیر پہلے ہی جلال پور بھٹیاں سے پانچ کلومیٹر دور دریائے چناب کے ساتھ واقع ایک گاﺅں بون فاضل میں ہفتے کی رات سے پھنسے سولہ خواتین اور بچوں کو لیکر پہنچی تھی۔

صفیہ بی بی جلال پور بھٹیاں کے قریب جمال تاﺅن میں جمع لوگوں کے ہجوم میں آگے بڑھ کر کشتی میں موجود اپنے خاندان تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں جس دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے روکنے کی کوشش پر ان کا کہنا ھتا" اگر آپ ہماری مدد نہیں کرسکتے تو کم از کم ہمیں ہمارے پیاروں سے تو دور نہ کریں"۔

صفیہ کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھری ہوئی تھیں، جبکہ اس کے متعدد مرد و خواتین بھی تھے جن کے پیارے دریائے چناب کی غضبناک لہروں کے باعث اپنے گاﺅں ڈوبنے سے قبل نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں، مویشی اور قیمتی سامان سے محروم ہوگئے۔

اب یہ لوگ ضلعی انتظامیہ سے التجا کررہے ہیں کہ کشتیوں کا انتظام کرکے ان کے مشکل میں پھنسے رشتے داروں کو نکالا جائے، مگر کشتیاں اور ہنگامی امداد بہت سست روی سے پہنچ رہی ہے۔

ڈی سی او حافظ آباد محمد عثمان کی سربراہی میں انتظامیہ کافی وقت لے رہی ہے اور مقامی ایم این اے سائرہ افضل تارڑ کے استقبال سے قبل جب ان سے بات کی گئی تو ان کا دعویٰ تھا کہ بیس کشتیاں پہلے ہی بھیجی جاچکی ہیں" ہم نے بارہ سو افراد کو بچایا ہے"۔

سائرہ افضل تارڑ نے اپنی لگژری گاڑی سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالا، جبکہ دیگر ضلعی حکام نے ڈان کو بتایا کہ ان کے پاس ایک کشتی بھی نہیں اور وہ لوگوں کو بچانے کے لیے فوج کی معاونت پر ہی انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

ایک عہدیدار نے بتایا" اگر کوئی یہ کہے کہ کشتیاں دیہاتیوں کو بچانے کے لیے بھیجی گئی ہیں تو وہ جھوٹ بول رہا ہے، ہم نے اب تک کسی کو بھی نہیں بچایا ہے"۔

فوج کی ایک ٹیم ابھی دو کشتیوں کے ساتھ پہنچی ہے مگر انہیں ٹرک سے نکالنا مشکل ہوگیا کیونکہ ہر ایک فوری طور پر انہیں اپنے گاﺅں بھیج کر اپنے پیاروں کو بچانا چاہتا تھا، یہی وجہ تھی جب ایک کشتیوں کو پانی میں اتارا گیا تو ایک میں کریکس پڑ چکے تھے جبکہ دوسری کا انجن اسٹارٹ نہیں ہوا، دو مزید کشتیاں بھی کچھ دیر بعد لائی گئیں جن میں سے صرف ایک کو ہی بھیجا جاسکا۔

اس صورتحال میں بون فاضل سے کشتی کی آمد دریائے چناب کے پانیوں میں پھنسے دیگر متاثرہ افرد کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئی، تین ملاحوں کا ہجوم نے ہیرو کی طرح استقبال کیا۔

ایک ملاح نے بتایا" وہاں ابھی بھی چار سے پانچ سو مزید دیہاتی امداد کے منتظر ہیں، کچھ اپنی چھتوں پر جبکہ دیگر درختوں پر چڑھ گئے ہیں"۔

کشتی میں سوار ایک خاتون نے بتایا کہ اس نے پوری رات پانی میں ایک دھاتی ڈبے پر کھڑے رہ کر گزاری تھی۔

مگر ڈی سی او کا کہنا تھا کہ صرف کچھ سو افراد کو ہی ضلع حافظ آباد کے ڈیڑھ سو دیہات میں سے نکالے جانے کی ضرورت ہے مگر اتوار کی سہ پہر چک بھٹیاں کے ایک رہائشی فخر عالم نے صحافیوں کو موبائل فون پر بتایا صرف پندرہ ہزار افراد تو اس کے ہی گاﺅں میں سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اسی طرح کھوتے شاہ نامی گاﺅں کے رہائشی عبدالستار نے بتایا کہ لوگوں کو سیلاب سے خبردار کرتے ہوئے علاقہ چھوڑ جانے کا کہا گیا تھا مگر" پانی کی آمد کا انتباہ غریب افراد کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، کوئی بھی اپنے گھر چھوڑ کر نہیں گیا، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے تحفظ کے لیے انخلاءکے انتظامات کے ساتھ ہماری املاک اور مویشیوں کا تحفظ کرتی"۔

جلال پور بھٹیاں سے میلوں دور قادر آباد ہیڈورکس میں محکمہ آبپاشی پنجاب کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس نے برسوں سے دریائے چناب کو اتنا غضبناک نہیں دیکھا" آخری بار جب دریا میں اس قدر شدید سیلاب آیا وہ 1997 کا سال تھا جب بیراج سے 8 لاکھ 73 کیوسک پانی چھوڑا گیا، جبکہ آج پانی کی انتہائی سطح 9 لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ ہے"۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران دریائے چناب نے مرالہ سے سیالکوٹ تک تباہی پھیلائی یہ وہ جگہیں ہیں جہاں سے یہ دریا ہندوستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے، جبکہ شدید بارشوں اور ڈرینز میں پانی کی سطح بڑھنے سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔

بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ ہوگئیں، سینکڑوں بستیاں ڈوب گئیں، ہزاروں گھر بہہ گئے اور متعدد شاہراہیں بند ہوگئیں اور درجنوں ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔

حکومتی ردعمل سست اور ناکافی ہے خاص طور پر وزیرآباد اور حافظ آباد جہاں ڈان کی ٹیم رپورٹنگ کے لیے موجود تھی جسے وزیرآباد گجرات بائی پاس پر واقع ایک گاﺅں چندا کوٹ کے ایک رہائشی محمد حسین نے بتایا" پانی کی سطح گزشتہ تین روز سے بلند ہورہی تھی اور ہفتے کی رات سب سے بدترین ثابت ہوئی، متعدد گھر منہدم ہوگئے اور ہماری فصلیںمکمل طور پر تباہ ہوگئیں، مگر اب تک کوئی بھی ہماری مدد کے لیے نہیں آیا"۔

یہ گاﺅں چناب سے پانچ منٹ کے فاصلے پر واقع ہے اور محمد حسین کا مزید کہنا تھا" ہم نے اپنی مدد آپ کے تھت علاقے سے انخلاءکیا تاہم اب بھی تین خاندان اپنے گھر کی چھتوں میں پھنسے ہوئے نکالے جانے کے منتظر ہیں"۔

شاہ نواز بی بی جن کے خاندان کو ایک مقامی کشتی کے مالک نے نکالا،اپنے گاﺅں چنی سلطان میں سیلاب کے بعد نظر انداز کیے جانے پر حکومت اور منتخب نمائندوں پر برس پڑیں" جب انہیں ہمارے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ہر وقت ہمارے ارگرد ہوتے ہیں، جب ہمیں ان کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو کوئی بھی نظر نہیں آتا، اب وہ ہمارے نام پر فنڈز اکھٹا کریں گے جس میں سے کچھ بھی ہمیں نہیں ملے گا"۔

محمد ارشد جس کے خاندان کو اسی کشتی کے مالک نے بچایا، اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی دریا میں بہہ جانے کے بعد بھی غصے کی بجائے شکر کا اظہار کررہا ہے" میرے لیے یہی کافی ہے کہ میری بیوی اور بچے میرے ساتھ موجود ہیں"۔