فوج سے براہِ راست بات کی جائے: بابر

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2014

ای میل

سینیٹر فرحت اللہ بابر۔ فائل فوٹو
سینیٹر فرحت اللہ بابر۔ فائل فوٹو

خاموش طبع فرحت اللہ بابر نے پیر کے روز بہت سے لوگوں کو حیران کردیا۔

نرم مزاج سینیٹر نے بجائے اسکرپٹ لکھنے والوں کے بارے میں تقریر کرنے اور حکومتی ارکانی کے تکبر پر ان کی گوشمالی کرنے کے انہوں نے فوج کے ساتھ مذاکرات کی تجویز پیش کردی۔

ایوان میں موجود بہت سے اراکین ان کی تقریر پر حیرت زدہ رہ گئے۔ وہ سوچنے لگے کہ درحقیقت ان کے ذہن میں کیا ہے؟

جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’’سویلین سے ان فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی جو کہیں اور کیے جارہے ہیں۔‘‘

لیکن کیا اس سے ایک تنازعہ پوری قوت سے جنم نہیں لے گا؟ اس لیے کہ سویلین نے 2007ء میں فوج کے مقام کو تسلیم کیا تھا، جب ایک کمزور لیکن ناقابلِ شکست فوج کے ساتھ مذاکرات کے بعد بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پاکستان واپس آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا ’’نہیں، میڈیا میں کسی قسم کی پوائنٹ اسکورنگ کے بغیر یہ مذاکرات خفیہ رکھے جائیں گے۔‘‘

سینئر سیاستدان نے بلاجھجک تجویز دی کہ پریس ریلیز کے ذریعے پیغامات دینے، ریاست کے اندر ریاست کے بارے میں مبہم تقاریر اور جی ایچ کیو پر مختصر، خفیہ اور کمرہ بند اجلاسوں کے بجائے براہِ راست تبادلۂ خیال کیا جائے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کے سر اس بات کا سہرا جائے گا کہ انہوں نے دیگر اراکینِ پارلیمنٹ کے بجائے ایک حل پیش کیا ہے، دیگر سیاست دان محض یہ کہہ کر تنقید کررہے ہیں کہ ’نامعلوم افراد‘ نے پی ٹی وی پر حملے کو نہیں روکا، یا جب وہ پارلیمانی خودمختاری کے بارے میں گرج برس رہے ہوتے ہیں تو ’چار کا ٹولہ‘ کہہ کر آوازیں کستے ہیں۔

بے شک حالیہ سیاسی بحران کے پہلے دن سے ہی فوجی مداخلت کے خدشات موجود ہیں۔

فوج اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ فوج دو احتجاجی جماعتوں میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا، جن میں سے ایک نے وفاقی حکومت اور دوسری نے حکومتِ پنجاب کے خلاف سخت مؤقف اختیار کررکھا ہے۔

ن لیگ کے عہدے داروں نے علامتی طور پر اور ایک موقع پر واضح طور پر حوالہ دیا تھا، بعض وزراء کا اصرار ہے کہ ان کی مشکلات سابق جنرل پرویز مشرف کے غداری کے مقدمے سے جُڑی ہوئی ہیں۔

دوسری جانب عمران خان اور طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ فوج نے ریڈزون میں ان کی کسی معاملے پر مدد نہیں کی، جبکہ ایمپائر کی انگلی یا دوسرے اشارے دیتے ہوئے وہ دونوں ہی خوشی سے سرشار نظر آئے تھے۔

پھر جاوید ہاشمی کے الزامات نے اس تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی تھی۔

لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے اقتدار کے دوران فوج کا کیا کردار تھا، سچ کو تسلیم کرنے کے تصور کی اجازت دیتا ہے۔

میموگیٹ سے ریمنڈ ڈیوس تک اور پھر کیری لوگر بل کے تنازعے تک، یہ بات تو واضح تھی کہ فوج اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے فوج پر بالواسطہ دباؤ ڈالنے کے خلاف نہیں تھی۔

یہی ایک اہم وجہ ہے کہ جس سے اس خیال میں شبہات کم ہوجاتے ہیں کہ مسلم لیگ نے مشرف کے مقدمے، ہندوستان کے خلاف تجارت اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ جیسے معاملات پر سخت نکتہ نظر اختیار کیا تھا، فوج کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ نواز شریف فوج کا حجم کم کرنا چاہتے ہیں۔

موجودہ بحران نے 2008ء سے 2013ء کے دوران کی بہت سی یادوں کو تازہ کردیا ہے۔

اس پس منظر کے برخلاف فرحت اللہ بابر کے الفاظ ایک کاری ضرب ثابت ہوئے ہیں، اس لیے کہ سابق صدر کے ترجمان کی حیثیت سے انہوں نے ان تمام بحرانوں کو قریب سے دیکھا تھا، جن کا سامنا پیپلزپارٹی کو کرنا پڑا تھا۔

اس بحران میں نواز شریف کی موجودہ جدوجہد اسی طرز کی ہے، جیسی کے زرداری کی تھی، اگرچہ زرداری کی پوزیشن کافی کمزور تھی، انہیں پارلیمنٹ میں اپنی تعداد برقرار رکھنے کے لیے متلون مزاج اور حریص اتحادیوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

عمران خان کی جانب سے لگائے جانے والے انتخابی دھاندلیوں کے الزامات کی مثال لی جائے تو اس کی پارلیمنٹ میں موجود تقریباً ہر ایک سیاسی جماعت نے توثیق کی ہے۔

پیپلزپارٹی سے لے کر اے این پی اور جے یو آئی-ایف تک ہر ایک نے اس فتح کے بارے میں فریاد کی کہ انہیں دھوکہ دیا گیا تھا۔

یہاں تک کہ اگر عمران خان کچھ لیے بغیر سوائے زیادہ سے زیادہ ایک عام عدالتی کمیشن کے قیام کے مطالبے کو تسلیم کرواکر، واپس لوٹ جاتے ہیں، توبھی ضدی مزاج نواز شریف کو اب ہنگامہ خیز پانچ سالوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ نواز شریف سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ محض ایک ماہ کے بحران کی وجہ سے اپنے خاندان سے آگے بڑھ کر اپنے دیگر اراکین پارلیمنٹ کو بھی اقتدار میں شریک کریں گے۔

نواز شریف کو اب سمجھوتے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، جس طرح زرداری نے اپنے متعلق بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے تصورات کے ساتھ حکومت کی۔

وہ تصورات یہ تھے کہ مشکلات میں گھرے ہوئے جنرل مشرف نے زرادری پر لگا بدعنوانی کا داغ دھویا، اور یہ کہ وہ پاکستان کی محنت سے کمائی ہوئی دولت لوٹ کر اپنے سوئس اکاؤنٹ میں جمع کررہے ہیں۔

این آر او عملدرآمد کیس اور اس کے نتیجے میں قانونی جوئی، جس نے ایک وزیراعظم کو برطرف کروادیا، سے یہ یقین دہانی ہوجاتی ہے کہ زرداری کبھی چین سے نہیں بیٹھ سکے تھے۔

اگر اس وقت اسی طرح کا پرانے اسکرپٹ کے تحت یہ ڈرامہ ہورہا تو پھر شاید مبینہ دھاندلی اور ماڈل ٹاؤن سانحے کی تحقیقات نواز شریف کی راتوں کی نیند چھین لیں گی۔

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی دنوں ہی نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جس میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اسٹیو جابس کا کہنا ہے کہ لیکن جہاں ہمیشہ آگے بڑھ کر رابطہ کرنا مشکل ہو، تو ان میں سے کوئی ایک پیچھے سے شامل ہوسکتے ہیں۔

اور ان کے یہ الفاظ پاکستانی سیاست کے لیے درست ثابت ہوئے ہیں، جہاں مستقبل کے لیے پیش گوئی کرنا مشکل لیکن ماضی کا تجزیہ کرنا آسان ہوتا ہے۔

پورے سال مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کے الزامات کو نظرانداز کیے رکھا۔ مایوسی کی حالت میں پی ٹی آئی نے ریلیوں اور پھر ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا، جس کے موقع پر بالآخر وزیراعظم نے ایک عدالتی کمیشن کے قیام کی تجویز دی۔

نواز شریف کو احساس نہیں تھا کہ پی ٹی آئی اس معاملے کو سنجیدگی سے لے گی، انہوں نے اس کا اندازہ نہیں لگایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئے فاصلوں کو دوسروں کی جانب سے استعمال کیا جائے گا۔

اگر نواز شریف اس عدالتی کمیشن کا اعلان چھ ماہ پہلے کردیتے تو کیا یہ بحران پیدا ہوتا؟

اسی طرح کا لمحہ زرداری کے دورِاقتدار میں بھی آیا تھا۔

جب صدر نے عدلیہ کی بحالی سے انکار کردیا تھا اور ان کے گورنر نے پنجاب میں 2009ء کے دوران ایمرجنسی نافذ کردی تھی، تب کیا کچھ ہچکچاہٹ کے شکار نواز شریف نے اپنی مکمل حمایت عدلیہ کی تحریک کے لیے نہیں دی تھی، اور کیا اسلام آباد مارچ کی قیادت نہیں کی تھی؟

اس وقت نواز شریف سے زیادہ فوج نے 2009ء کے لانگ مارچ سے حاصل کیا تھا، جب وہ اس نظام کو بچانے کے لیے بیچ میں کود پڑی تھی۔

فرحت اللہ بابر تجویز دیتے ہیں کہ نواز شریف کو فوج کے ساتھ بلاجھجک تبادلہ خیال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیٔے۔