کیا آپ کی گائے برانڈڈ ہے؟

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2014

ای میل

ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ہاں بھئی، کتنے بکرے آگئے آپ کے؟

سوچ رہا ہوں اس بار ایک گائے اور کر لوں۔

یار عید سے پہلے پہلے بڑا ڈیپ فریزر لینا ہے۔

ایک دعوت میں ان جملوں کو بار بار سننے کے بعد میرا اس بات پر یقین پختہ ہوگیا، کہ قربانی اب صرف اسٹیٹس سمبل اور سماج میں اپنی ساکھ بنائے رکھنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔

عید الاضحیٰ قریب آتے ہی قربانی اور جانور سب سے گرما گرم موضوع ہوتا ہے۔ لیکن لوگ اس تہوار کے پیچھے موجود روحانیت پر بات کرنے کے بجائے جانوروں کی نسل، قیمت، سائز وغیرہ پر بات کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

جب بھی بقر عید آتی ہے، تو فطری طور پر ایک مقابلے کی فضا قائم ہوجاتی ہے، جس میں آپ اپنے خاندان والوں، پڑوسیوں، ساتھ کام کرنے والوں، دوستوں، اور یہاں تک کہ منڈی میں موجود دوسرے خریداروں سے بہتر جانور کی تلاش پر تل جاتے ہیں۔

آپ کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوتا ہے، کہ آپ کا جانور آپ کے جاننے والوں کے جانوروں سے زیادہ اچھا ہو، ورنہ دوسروں کے سامنے آپ کا کیا نام رہ جائے گا۔

ایک بڑے سائز کی گائے یا بکرا ڈھونڈنے کے چکر میں آپ ایک منڈی سے دوسری منڈی کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ اس سے نا صرف آپ کا توجہ ملتی ہے، بلکہ آپ کا دوسروں کے بٹووں کا سائز بھی معلوم ہوجاتا ہے۔

پھر جب جانور خرید لیا جائے، تو رشتے دار دوست احباب چانپ، پائے، کلیجی، مغز وغیرہ کے لیے آپ کے پاس بکنگ کروانا شروع کرا دیتے ہیں۔

یار جب آپ مغز فرائے کرائیں، تو پلیز ہمارے لیے بھی بھجوائیے گا۔

کلیجی تو جی ہم ہی لیں گے آپ سے۔

اوہو کیا زبردست جانور ہے، اس کی چانپوں میں سے کچھ ہمارے لیے بھی۔۔۔

اس طرح آپ کے گھر گوشت کی دکان کھل جاتی ہے، جہاں اپنی پسند کا گوشت بالکل مفت میں حاصل کیا جاسکتا ہے، اور اس کے بدلے ڈھیر سارا ثواب ملنے کی توقع ہے۔

جتنی زیادہ گائے یا بکرے لیے جائیں، سماج میں آپ کو اتنی ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور اگر جانور کی قیمت کا دکھاوا کیا جائے، تو پھر تو آپ کو ضرور رشک سے دیکھا جائے گا۔

آپ کو معلوم ہے اس سے بھی دلچسپ بات کیا ہے؟ ویسے تو سارا سال خواتین کا پسندیدہ موضوع لان ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی عید آتی ہے، تو لان کی جگہ بکرا لے لیتا ہے۔ سارا سال اسٹیٹس مہنگے لان سے بڑھتا ہے، عید آتے ہی مہنگے جانور سے۔

اگر خواتین کے لیے کوئی چیز لان سے زیادہ اہم ہوجائے، تو واقعی یہ تشویش کا باعث ہوگی۔

ویسے میں شرطیہ طور پر کہہ سکتی ہوں، کہ کئی دکھاوے باز لوگوں کے دل اس بات کے لیے مچلتے ہوں گے، کہ کاش ان کے جانور بھی برانڈڈ ہوتے، تاکہ وہ ساری دنیا میں مشہور کرتے پھریں کہ ان کے پاس سیمسنگ کا بکرا ہے، گوچی کی گائے ہے، یا کھادی کی بچھیا ہے۔

بلکہ جانور برانڈڈ ہو تو چکے ہیں، بس یہ کہ ان کے لیبل کچھ کم سٹائلش ہیں۔ آپ نے ٹی وی پر دیکھ ہی لیا ہوگا، کہ کچھ جانوروں کے نام بھولو نمبر 1، گلو بٹ بیل، اور شریف برادران جوڑی رکھے گئے ہیں۔

بیچارے غریب جانوروں کو اس طرح کے ناموں سے پکارنا کون سی شرافت ہے۔ کیا یہ کوئی سرکس ہے؟ اگر آپ کا جانور بڑا ہے، اور بے لگام گھوڑے کی جیسی چال چلتا ہے، تو اس کو گاڑیاں توڑنے والے اس شخص سے ملانا ضروری ہے؟

خدا کے واسطے اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ آپ کے گلو بٹ بیل کو اللہ کی راہ میں ذبح ہونا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ ایک ایسا ملک، جہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، جہاں گوشت کھانا ایک لگژری بن چکی ہے، جہاں بجلی کا بل دیکھ کر لوگوں کو ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے، جہاں ہر سال کوئی نا کوئی آفت آجاتی ہے اور لاکھوں لوگ دربدر ہوجاتے ہیں، وہاں صرف دکھاوے کے لیے اور معاشرے میں ساکھ بنانے کے لیے جانوروں پر اربوں روپے خرچ کرنا ضروری ہے؟

تھر سے لے کر وزیرستان تک، خوراک کی بات ہو یا مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی، حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔

تو پھر پیسہ انا کی تسکین کے مقصد پر کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کے لیے ہم امریکہ کو، یا پڑوسی ممالک کو الزام نہیں دے سکتے۔ ان جراثیموں کو ہم نے خود پالا ہے، اور اب یہ ہمارے معاشرے میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔

غلط ترجیحات کی وجہ سے ہم مذہبی رسومات کے پیچھے موجود منطق اور روح کو بھلا بیٹھے ہیں، اور عیدِ قربان ان میں سے ایک ہے۔

میں یہ نہیں کہنا چاہتی، کہ ان تہواروں کو ختم کر دیا جائے، لیکن اعتدال اور درمیانی راہ اپنا کر ہم معاشرے کا بیلنس برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اور اگر ایسا نا کیا گیا تو پانی میں پھینکے گئے پتھر کی طرح پورا معاشرہ ڈسٹرب ہوگا۔

ہر گزرتی عید کے ساتھ یہ شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ہمیں ہر چیز میں دو چیزوں کی عادت ہوگئی ہے۔ ایک انٹرٹینمنٹ، اور دوسرے سماج میں رکھ رکھاؤ۔ میں نے ذاتی طور پر ایسے لوگ دیکھے ہیں، جو قرضہ لے کر قربانی کرتے ہیں، تاکہ کہیں لوگ انہیں غلط نگاہوں سے نا دیکھیں، اور ایسا کرتے ہوئے وہ اس بات کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں، کہ قرضدار لوگوں کو قربانی کی چھوٹ حاصل ہے۔

قربانی نا کرنا انتہائی شرم کا مقام سمجھا جاتا ہے، بھلے ہی یہ فرض نہیں ہے۔ قربانی ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے، اور اس کے لیے انسان کسی کو جوابدہ نہیں ہے۔ جانوروں کی تعداد بڑھا کر آپ کو کوئی اضافی نمبر نہیں ملنے والے۔

یہ صرف اور صرف نیت کا معاملہ ہے، قیمت، سائز، یا تعداد کا نہیں۔

مذہب کو کمرشلائز کرنا بند کریں۔

انگلش میں پڑھیں۔