عبداللہ شاہ غازیؒ ہمیں طوفان سے بچا لیں گے، آغا سراج

اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2014

کراچی: سندھ اسمبلی کے کچھ اراکین طوفان نیلوفر سے ملک کے ساحلی علاقوں میں آنے والے تباہی کے حوالے سے خاصے پریشان ہیں لیکن اسپیکر سندھ اسمبلی اسے سنجیدگی سے لینے پر تیار نہیں۔

منگل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک رکن اسمبلی نے کہا کہ طوفان کی آمد کے پیش نظر حکومت کو احتیاطی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاہم اسپیکر سراج درانی ان کی بات مذاق میں اڑا گئے۔

اس موقع پر سراج درانی نے ازراہ مذاق کہا کہ یہ تو کسی لیڈی کا نام ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر جب اراکین نے زور دیا کہ حکومت کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے تو اسپکر سندھ اسمبلی نے یقین دہانی کرائی جب تک سمندر کنارے عبداللہ شاہ غازی کا مزار ہے کراچی کو کچھ نہیں ہوسکتا۔

’عبداللہ شاہ غازی کا مزار کی وجہ سے آج تک بچتے آئے ہیں اور انشااللہ اس مرتبہ بھی بچیں گے‘۔

آغا سراج درانی نے کہا کہ جن لوگوں کو طوفان کا خوف ہے وہ اندرون سندھ چلے جائیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سنگین نوعیت کا طوفان کراچی آنے والے دنوں میں پاکستان اور ہندوستان کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا اور اس میں دن بدن شدت آتی جا رہی ہے۔

طوفان کے نتیجے میں زیریں سندھ خصوصاً کراچی اور بدین میں شدید بارشوں کی بھی توقع ہے۔

تبصرے (7) بند ہیں

KMI Oct 28, 2014 05:26pm
If Baba Ghazi all have to do, so why you are sitting in assembly!!!!!!!!!!!!! Take some measures to save innocent and poor people life to whom you always ask for vote and scarifies.
Ali Tahir Oct 28, 2014 06:18pm
Extremely irresponsible response by Agha Siraj Durrani.
anilkumar Oct 28, 2014 06:21pm
thek hi tu keh rahy hain ........... govt tu bchaa nhin sakti
حسین عبداللہ Oct 28, 2014 07:43pm
کسی بزرگ ہستی کے سبب کسی ممکنہ خطرے کا ٹل جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں بلکہ بحثیت مسلمان ہمارا یہ اعتقاد ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطرے کے آگے ریت میں سردبادیا جائے یہ اس قسم کے اعتقاد کی غلط تشریح ہے بھروسہ توکل کا مطلب یہ ہے اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ کے حوالے کرو یہ نہیں کہ اونٹ کو کھلا چھوڑو اور پر اللہ توکل کرو
Muhammad Asim Oct 29, 2014 11:41am
کراچی ایک ساحلی شہر ہونے کے باوجود اکثر طوفانوں سے بچا رہتا ہے ۔ عوام الناس میں اس حوالے سے یہ چیز مشہور ہے کہ اس شہر کے تمام ساحلی علاقوں پر بعض بزرگوں کے مزارات ہیں جو اس شہر کی حفاظت کرتے ہیں ۔ یہ تصورات ایک ایسی قوم میں پھیلے ہوئے ہیں جو حاملِ قرآنِ عظیم ہے ۔ قرآنِ مجید اس یاددہانی سے بھرا ہوا ہے کہ اللہ کے سوا انسانوں کا نہ کوئی مددگار ہے اور نہ کوئی اور حامی و ناصر اور محافظ۔ اس کا کوئی نیک بندہ کبھی اپنے آپ کو اس حیثیت میں پیش نہیں کرسکتا۔ یہ صرف شیطان ہے جو لوگوں کے ذہن میں مشرکانہ اوہام پیدا کرتا رہتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسانوں کا ایک ہی حامی و ناصر ہے ۔ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ زندہ ہے اور ہر کسی کو زندگی دیتا ہے ۔ وہ ہر کسی کا سہارا ہے اور ہر شے کو تھامے ہوئے ہے ۔ ہر چیز اس کی ملکیت ہے اور اسے ہر چیز کا مکمل علم رہتا ہے ۔ تمام طاقت اور اقتدار کا مالک۔ اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ وہ مخلوق کی حفاظت سے لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں تھکتا۔ مخلوق تمام تر اس کی محتاج ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کے کسی فیصلے میں مداخلت کرسکے ۔ اس کے حضور اپنی بات پیش کرنے کا ایک ہی راستہ ہے ۔ عاجزی، پستی اور اس کی بڑ ائی کا اعتراف۔
Kashif Ali Oct 29, 2014 12:26pm
Only ALLAH can safe Karachi,,,No BABA TABA can do any thing, those who are in Grave cannot do anything.
SHER SULEMAN Oct 31, 2014 10:06am
Durani Sb. must be so advised by the Met. Department to exude such confidence! Mazars don't mean a thing but to some who indulge in 'Puja-paat' due to their 'jahalat' and ignorance of Islam. Allah (swt) may have Mercy on them and bless them 'Noor e Eman', ameen.