سمندری طوفان ’نیلوفر‘ کی شدت میں اضافہ

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2014

ای میل

کراچی:سمندری طوفان 'نیلوفر' جس سے پاکستان اور ہندوستان میں آئندہ 36 گھنٹوں کے اندر تباہی کا خدشہ ہے، پاکستان کے جنوبی ساحلی علاقوں سے 910 کلو میٹر دور رہ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق نیلوفر جسے 'انتہائی شدید سمندری طوفان' قرار دیا گیا ہے، ہوسکتا ہے کہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے کمزور ہوکر 'سمندری طوفان' کی شکل اختیار کرلے۔

نیلوفر طوفان کے خطرے کے باعث بندرگاہ پر کشتیوں کا ڈھیر— فوٹو پی پی آئی
نیلوفر طوفان کے خطرے کے باعث بندرگاہ پر کشتیوں کا ڈھیر— فوٹو پی پی آئی

محکمہ موسمیات کے سربراہ توصیف عالم نے بتایا" انتہائی شدید گرد االود ہوائیں اور متعدل سے تیز بارشوں کا امکان ہے"۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستانی ساحلی علاقوں کی صورتحال بدھ سے جمعے تک خطرناک ہوسکتی ہے جس کے مدنظر سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کو کھلے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے جبکہ جو پہلے ہی کھلے سمندر پر موجود ہیں انہیں واپسی کی ہدایت کی گئی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مقامی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ طوفان کے پیش نظر احتیاطی اقدامات مکمل کرلیں۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے صوبائی سطح پر ماہی گیروں کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ آئندہ چند روز تک کھلے سمندر میں شکار کے جانے سے گریز کریں۔

بلوچستان میں صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نور محمد جوگیزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ مکران ڈویژن میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹںے کے لیے ضروری انتظامات کرلیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی مکران ڈویژن میں امدادی سامان پہنچا دیا ہے اور اور ہم شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب کراچی اور سندھ کی صوبائی انتظامیہ نے طوفان کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی کے علاقے سی ویو میں فائربریگیئڈ اور ایمبولینس کو الرٹ رکھا گیا ہے— آن لائن فوٹو
سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی کے علاقے سی ویو میں فائربریگیئڈ اور ایمبولینس کو الرٹ رکھا گیا ہے— آن لائن فوٹو

سندھ حکومت نے سمندری طوفان کے خطرے سے دوچار اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ کردیا ہے جبکہ کراچی کی بلدیاتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے مبارک ولیج اور ابراہیم حیدری سے لوگوں کے انخلاءکے انتظامات کرلیے ہیں۔

ڈی جی پی ٹی ایم اے سندھ سید سلمان شاہ کے مطابق ساحلی پٹی پر طوفان سے تین لاکھ کے لگ بھگ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی، ٹھٹھہ، سجاول اور بدین میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیا گیا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ساحلی پٹی سے ملحقہ اضلاع کے ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی کا نفاذ کردیا گیا ہے اور عملے کی تعطیلات کو منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ساحلی علاقوں سے فوری طور پر ماہی گیروں کو منتقل کرنے کے اقدامات پر بھی بات چیت کی جارہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو کیمپس میں رکھنے کی بجائے حکومتی عمارات میں رہائش فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بارشوں اور گردآلود ہواﺅں سے محفوظ رہیں جبکہ متاثرہ افراد کو تمام ضروری سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی ایم اے سندھ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طبور پر تیار ہے اور اس کا عملہ ہائی الرٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور کراچی انتظامیہ کو ڈرینز کی صفائی یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے پاکستان فشر فورک فورم اور دیگر این جی اوز سے درخواست کی ہے کہ وہ ماہی گیروں سے رابطہ کرکے انہیں احتیاطی اقدامات کے لیے اپنانے کا مشورہ دیں۔

انہوں نے کنٹونمنٹ بورڈ اور بلدیاتی حکام کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ خطرناک اور بے کار سائن بورڈز کو فوری طور پر ہٹادیاج ائے تاکہ سمندری طوفان کے دوران وہ کسی سانحے کا سبب نہ بن سکیں۔

سی وی سے بل بورڈ کو ہٹایا جارہا ہے— آئی این پی فوٹو
سی وی سے بل بورڈ کو ہٹایا جارہا ہے— آئی این پی فوٹو

انہوں نے کے ایم سی، ضلعی بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی ہدایت کی ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور سمندر میں نہانے پر پابندی برقرار رکھی جائے۔

سمندر میں نہانے پر پابندی کے بعد سیکیورٹی اہلکار ساحلوں پر تعینات کی گئے ہیں— فوٹو اے پی
سمندر میں نہانے پر پابندی کے بعد سیکیورٹی اہلکار ساحلوں پر تعینات کی گئے ہیں— فوٹو اے پی

کمشنرکراچی نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سمندرکے قریب نہ جائیں، جبکہ سمندر میں نہانے پرپہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔


سمندری طوفان کے لیے کے الیکٹرک کا پلان


کےالیکٹرک کی جانب سےسمندری طوفان'' نیلوفر'' کےحوالےسےپلان جاری کردیا۔

کے الیکٹرک کے مطابق کراچی:طوفان کے باعث پول اور تاریں ٹوٹنےکا خدشہ زیادہ ہے جس کے لیے انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ تاروں سے پر درخت کی ٹہنیوں کو صاف کیا جائے۔

ترجمان کے مطابق صارفین ٹوٹے ہوئے تار اور پول سے دور رہیں۔


ماہی گیروں کا حکومتی سردمہرانہ ردعمل پر اظہار افسوس


ایک ماہی گیر کشتی میں سرخ جھنڈا لہرا کر دیگر کو خراب سمندری صورتحال سے خبردار کیا جارہا ہے— فوٹو پی پی آئی
ایک ماہی گیر کشتی میں سرخ جھنڈا لہرا کر دیگر کو خراب سمندری صورتحال سے خبردار کیا جارہا ہے— فوٹو پی پی آئی

پاکستانی فشرفوک فورم کے چیئرپرسن محمد علی شاہ نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، ڈی ڈی ایم اے اور دیگر حکومتی اداروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے سانحات کے خطرات کے باوجود تباہی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کسی قسم کی منصوبہ بندی اور مناسب انتظامات نظر نہیں آتے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کوئی بھی کشتیوں اور عملے کی مدد کرتا نظر نہٰں آتا، ان کے پاس کوئی نظام نہیں اس کے مقابلے میں وہ بس پی ایف ایف سے ہی تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔

محمد علی شاہ نے کہا کہ پی ایف ایف برادری کے رضاکار ساحلی پٹی پر ماہی گیروں کو خبردار کرنے کے لیے سرخ جھنڈوں کو لہراتے ہیں مگر حکومتی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کسی قسم کی مدد اور سہولیات فراہم نہیں کی جاتی۔

مبارک ولیج کے ایک ماہی گیری نے ڈان کو بتایا کہ اب تک کسی حکومتی نمائندے نے اس کے گاﺅں کا دورہ نہیں کیا اور نا ہی انخلاءکے انتظامات دیکھنے میں آئے ہیں۔

اس کے بقول ماہی گیر گاﺅں کے رہائشیوں نے طوفان کے پیش نظر اپنی کشتیاں اور چھوٹے جہاز اپنی مدد آپ کے تحت نسبتاً محفوظ علاقوں میں منتقل کردیئے ہیں۔

خلاء سے لی گئی سمندری طوفان نیلوفر کی ایک تصویر۔ —. فوٹو بشکریہ ناسا
خلاء سے لی گئی سمندری طوفان نیلوفر کی ایک تصویر۔ —. فوٹو بشکریہ ناسا