تنویر نقوی کو گزرے 42 برس بیت گئے

01 نومبر 2014

ای میل

برصغیر کے ممتاز نغمہ نگار تنویر نقوی  — آن لائن فوتو
برصغیر کے ممتاز نغمہ نگار تنویر نقوی — آن لائن فوتو

آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے جیسے لاتعداد ناقابل فراموش گیتوں کے خالق برصغیر کے ممتاز نغمہ نگار تنویر نقوی 6 فروری 1919 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔

ان کا اصل نام سید خورشید علی تھا تاہم انھوں نے فلمی دنیا میں تنویر نقوی کے نام سے شہرت پائی۔

انہوں نے بارہ سال کی عمر سے شاعری کا آغاز کیا اور 1938 میں پہلی بار فلم 'شاعر' کے لئے گیت لکھے اور بمبئی کی فلموں کے لئے گیت نگاری کرنے لگے۔

قیام پاکستان سے قبل فلم 'انمول گھڑی' نے انہیں شہرت دی جس کے گیتوں میں: آواز دے کہاں ہے سب سے زیادہ مقبول ہوا، مگر آجا میری برباد محبت کے سہارے اور جوان ہے محبت حسین ہے زمانہ بھی زبان زد عام ہوئے۔

پاکستان آمد کے بعد انھوں نے پہلی پاکستانی فلم 'تیری یاد' کے گیت لکھے تاہم پاکستان میں انہیں اصل شہرت 1959 میں فلم 'کوئل' کی گیت نگاری پر ملی، جس کے گیتوں: رم جھم رم جھم پڑے پھوار یا مہکی فضائیں گاتی ہوائیں اور دل کا دیا جلایا نے مقبولیت کی تمام حدوں کو توڑ دیا۔

اسی طرح 1960 میں ریلیز ہونے والی فلم 'ایاز' کا گیت رقص میں ہے سارا جہاں اور 1962 میں فلم 'شہید' کا گیت میری نظریں ہیں تلوار بھی آج تک لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔

اس کے علاوہ فلم 'انارکلی' کے گیت کہاں تک سنو گے کہاں تک سناﺅں یا جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے سمیت متعدد کامیاب فلموں کے گیت ان کے زور قلم کا نتیجہ تھے، انہیں شاندار کارکردگی پر کئی اعزازات سے نوازا گیا۔

انہوں نے کئی فلموں کے لیے کئی خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں جن میں فلم 'نور اسلام' کی نعت شاہ مدینہ، یثرب کے والی اور فلم 'ایاز' کی نعت بلغ العلیٰ بکمالہ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔

بے مثال گیتوں کے تخلیق کار تنویر نقوی یکم نومبر 1972 کو اپنے لاکھوں مداحوں کو سوگوار کرکے اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے، مگر ان کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھول دیتے ہیں۔