داعش کا سونے چاندی کی کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ

11 نومبر 2014
— اے ایف پی / فائل فوٹو
— اے ایف پی / فائل فوٹو

بغداد : ریاست اسلامیہ یا داعش نے اپنی کرنسی متعارف کرانے اور سونے اور چاندی کی اشرفیوں کو واپس لانے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں سرگرم اس عسکریت پسند گروپ نے اپنی اسلامی کرنسی کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اپنی خلافت کی بنیاد مستحکم کرسکے۔

میل آن لائن کے مطابق یہ تنظیم اسلام کے اولین دور کے دینار کو واپس لانا چاہتی ہے اور عراقی شہر موصل اور صوبے نینوا کی مساجد میں سونے چاندی کی ان اشرفیوں کی واپسی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

عرب ممالک میں اس نام کی کرنسی تو استعمال ہورہی ہے مگر ان کے لیے استعمال ہونے والا میٹریل مختلف ہے۔

اس کے مقابلے میں داعش سونے اور چاندی کے سکوں کو اس ڈیزائن میں واپس لانا چاہتی ہے جو خلافت عثمانیہ کے عہد میں پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا۔

اس طرز کے دینار میں 4.3 گرام سونا استعمال کیا جاتا تھا جبکہ چاندی کے سکوں کو درہم کا نام دیا گیا تھا جس میں تین گرام چاندی کی آمیزش ہوتی تھی۔

داعش کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم مانا جارہا ہے کہ یہ تنظیم اپنی آزاد کرنسی کو اپنے زیرقبضہ علاقوں میں آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کرادے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ یہ اطلاعات سامنے آئی تھی کہ داعش بلیک مارکیٹ میں خام تیل فروخت کرکے روزانہ دس لاکھ ڈالرز کی آمدنی حاصل کررہی ہے۔

تبصرے (2) بند ہیں

muhammad younis Nov 12, 2014 04:58pm
tamam masael ka hal sirf allah aur us ke rasool ki attaet main hay
راضیہ سید Nov 14, 2014 01:27pm
داعش کے بارے میں کیا کہیں کہ ایک جانب ہمارے ملک میں بھی اسکے پوسٹرز لگائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب نواز شریف صاحب جرمنی میں کچھ اور ہی کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ، چلیں مان بھی لیا کہ داعش خلافت کے دور کو واپس لانا چاہتی ہے تو ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتی جو اسلامی دور میں تھے ، مشرق وسطئ کے امن کو تباہ و برباد کرنے کے لئے امریکا کے داعش کو تشکیل دینے کی خبر بہت پہلے ہیلری کلنٹن اپنی کتاب میں بتا چکی ہیں ، مشرق وسطی کی خبروں اور تجزیوں کے حوالے سے میں ایک ادنی طالب علم ہونے کی حثییت سے یہ بھی جانتی ہوں کہ داعش ایک یہودی یا تکفیری تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے ، داعش نے دنیا کے باقی ممالک سے آنے والے دہشتگردوں کے لئے یہ لازم قرار دیا ہے کہ وہ دڑاھی بھی منڈوائیں اور سگریٹ پئیں ، حالانکہ ایک اسلامی تنظیم کی حثیت سے انھیں ان کو تسبیح پکڑانا چاہیے تھیں ۔ اپنی کرنسی ، اپنا نصاب ، اپنا یونفارم ، اپنی غنڈہ گردی ، قتل و غارت ، جنسی بے وراہ روی دیکھا جائے تو یہی داعش کا اصل روپ ہے اور یہی اس کا اصل آئین ، اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی دور حاضر کے یزید کی اک کامیاب کوشش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔