فیض احمد فیض کو گزرے 30 برس

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2014

ای میل

فیض احمد فیض — آن لائن فوٹو
فیض احمد فیض — آن لائن فوٹو

تمہارا شہر، تم ہی مدعی تم ہی منصف

مجھے یقین ہے میرا ہی قصور نکلے گا


اردو زبان کے عظیم ترین شعراء میں سے ایک فیض احمد فیض کی 30 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، آپ نے مشن ہائی اسکول سے میٹرک جبکہ مری کالج سیالکوٹ، گورنمنٹ کالج لاہور اور اورینٹل کالج میں زیر تعلیم رہ کر عربی میں ایم اے کیا۔

آپ نے 1936 میں سجاد ظہیر اور صاحبزادہ محمودالظفر کے ساتھ مل کرانجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد ڈالی۔

1941 میں ایلس جارج سے شادی کے بعد آپ نے بطور کیپٹن فوج میں ملازمت اختیار کی اور شعبۂ تعلقات عامہ سے وابستہ ہوئے۔

1946 میں فوج سے مستعفی ہو کر لاہور واپس آگئے اور قیام پاکستان کے بعد 1947 سے 1958 تک پاکستان ٹائمز، امروز اور ہفت روزہ لیل و نہار کے مدیر اعلیٰ رہے۔

9 مارچ 1951 کو سیفٹی ایکٹ کے تحت راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا، 4 سال تک فیض مختلف جیلوں میں مقید رہے اور 22 اپریل 1955 کو رہائی پائی۔

1958 میں سفر تاشقند کیا اور اُسی سال دسمبر میں دوسری بار سیفٹی ایکٹ کے تحت آپ کی گرفتاری عمل میں آئی جبکہ روزنامہ پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار مارشل لاء حکام نے اپنے قبضے میں لے لئے۔

1959 میں ان کی فلم 'جاگو ہوا سویرا' نمائش کے لئے پیش کی گئی، اسی سال آپ پاکستان آرٹس کونسل کے سیکرٹری بھی مقررہوئے۔

فیض کو 1962 میں روس کے سب سے بڑے لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا اور پھر 1962 سے 1964 تک انگلینڈ میں قیام کیا۔

بعد میں الجزائر، مصر، لبنان، شام، عراق، ہنگری اور دوسرے یورپی ممالک کے سفر کے ساتھ ساتھ متعدد کانفرنسوں میں بھی شرکت کی۔

آپ 1983 میں وطن واپس آئے اور لاہور میں مستقل سکونت اختیار کی اور 20 نومبر 1984 کو 73 سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کے سبب دنیائے فانی سے کوچ کیا۔

آپ کی شاعری کے مجموعوں میں نقش فریادی، دست صبا، زندان نامہ، دست تاسنگ، سر وادیٔ سینا، قرض دوستاں، میرے دل میرے مسافر اور سارے سخن ہمارے شامل ہیں جو ایک مجموعہ 'نسخہ ہائے وفا' کے نام سے ایک جلد میں شائع ہوچکے ہیں۔

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا