گلوکار سلیم رضا کو بچھڑے 31 برس بیت گئے

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2014

ای میل

سلیم رضا — آن لائن فوٹو
سلیم رضا — آن لائن فوٹو

ماضی کے معروف گلوکار سلیم رضا کی 31 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

مدھر آواز کے مالک سلیم رضا چار مارچ 1932 کو ہندوستانی پنجاب کے شہر امرتسر کے ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے، شروع میں ان کا نام Noel Dias رکھا گیا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی اور اپنا نام تبدیل کرکے سلیم رضا رکھ لیا۔

انھوں نے گلوکاری کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور 1955 میں فلم (نوکر) سے فلمی صنعت میں قدم رکھا اور اسی سال ریلیز ہونیوالی فلم (قاتل) کے گیت گا کروہ کافی مقبول ہوگئے۔

مگر انہیں اصل شہرت 1957 میں فلم (سات لاکھ) کے گیت یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں سے ملی، جس کے بعد انھوں نے متعدد فلموں کو اپنے گیتوں سے مزئین کیا، جن میں اے دل کسی کی یاد میں، جان بہاراں رشک چمن (عذرا) اور کہیں دو دل جو مل جاتے (سہیلی) جیسے متعدد یادگار نغمات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یہ جادو یہ نگاہیں (گلفام)، تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم (جب سے دیکھا ہے تمہیں)، میرے دل کی انجمن میں (قیدی) اور مشہور نعت شاہ مدینہ (نوراسلام) سرفہرست ہیں۔

تاہم 1966 میں فلم (پائل کی جھنکار) کے گیت حسن کو چاند جوانی کو غزل کہتے ہیں کے بعد ان کا زوال شروع ہوگیا۔

فلمی صنعت میں احمد رشدی، مہدی حسن، مسعود رانا، مجیب عالم اور دیگر گلوکاروں کی آمد کے بعد ان کی مانگ میں کمی آتی چلی گئی اور وہ مایوس ہو کر کینیڈا چلے گئے۔

جہاں انھوں نے 1975 میں موسیقی کا ایک اسکول قائم کیا، 25 نومبر 1983 کو گردے فیل ہونے کے باعث 51 سال کی عمر میں ان کا کینیڈا میں انتقال ہوگیا۔