'گائے گی دنیا گیت میرے'

اپ ڈیٹ 18 دسمبر 2014

ای میل

رشید عطرے — فائل فوٹو
رشید عطرے — فائل فوٹو

حسن کو چاند جوانی کو غزل کہتے ہیں جیسے لازوال نغموں کے خالق پاکستان کے معروف موسیقار رشید عطرے کو ہم سے جدا ہوئے آج 47 برس ہوگئے۔

موسیقار رشید عطرے 1919 کو امرتسر میں پیدا ہوئے، انھوں نے فنی کریئر کا آغاز 1945 میں لاہور میں بننے والی فلم 'شیریں فرہاد' سے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے بمبئی میں نتیجہ سمیت 6 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔

پاکستان میں انکی پہلی فلم بیلی تھی، جو کامیاب نہیں ہوسکی، فلمساز نذیر نے فلم 'شہری بابو' شروع کی تو موسیقی کیلئے انھوں نے رشید عطرے کا انتخاب کیا۔ یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی اور اس طرح رشید عطرے کی کامیابی کا شاندار سفر شروع ہوا۔

انہوں نے سرفروش، سوال، وعدہ، نیند، قیدی اور موسیقار جیسی فلموں کو اپنی موسیقی سے لازوال بنا دیا.

جیسے 'قیدی' فلم کا مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ، یا فلم 'سوال' کا لٹ الجھی سلجھا جا رہے بالم یا 'شہید' کے گیت نثار میں تیری گلیوں کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔

رشید عطرے نے پچیس سالہ فنی کریئر میں 80 فلموں کی موسیقی ترتیب دی، جن میں بیشتر اردو تھیں تاہم چند پنجابی گانے جیسے فلم 'مکھڑا' کا گیت دلاں ٹھہر جا آج بھی کانوں میں رس گھول دیتا ہے۔

رشید عطرے نے اپنے فنی کریئر میں تین بار نگار ایوارڈ اپنے نام کیا جن میں فلم 'سات لاکھ' کے گیت آئے موسم رنگیلے سہانے پر انھوں نے اپنا پہلا نگار ایوارڈ جیتا تھا، یہ گانا آج تک لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔

انھوں نے 'موسیقار' کے نام سے ذاتی فلم بھی بنائی، جس کی موسیقی انکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اس فلم کا ایک گیت 'گائے گی دنیا گیت میرے' درحققیت ان کے تخلیقی کاموں کے سدا بہار ہونے کا ثبوت ہے۔

رشید عطرے 18دسمبر 1967 کو لاہور میں 51 سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔