قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کی برسی

21 دسمبر 2014

ای میل

حفیظ جالندھری — فائل فوٹو
حفیظ جالندھری — فائل فوٹو

پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کی 32 ویں برسی آن منائی جا رہی ہے۔

حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900 کو ہندوستانی پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم 1905 میں جالندھر کی جامع مسجد سے شروع کی اور قرآن مجید ناظرہ پڑھا۔

وہ 1907 میں مشن ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی سکول جالندھر میں داخلہ لیا۔

1909 میں حصول علم کیلئے دوآبہ آریہ اسکول میں ایڈمشن حاصل کیا، یہیں سے ان کے دل میں جذبۂ حریت بیدار ہوا۔

حفیظ جالندھری نے شاہنامہ اسلام لکھ کر اسلامی دور کی ابتدائی جنگوں کو نہایت پُر اثر انداز میں نظم کا جامہ پہنانے کا آغاز کیا۔

انہوں نے اردو شاعری اور پاکستان کیلئے مثالی خدمات سر انجام دیں اور قومی ترانہ تحریر کرکے ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے، وہ بیک وقت ایک غزل گو اور نعت گو شاعر بھی تھے۔

ان کی کچھ غزلیں اور نظمیں بھی ایسی ہیں جو اردو ادب میں زندہ جاوید ہوچکی ہیں اور انہی میں سے ایک ‘ابھی تو میں جوان ہوں’ شامل ہے۔

حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے لیکن ان کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور ان کا لکھا گیا قومی ترانہ ابد تک ارضِ پاک پر گونجتا رہے گا۔

ہم میں ہی تھی نہ کوئی بات، یاد نہ تُم کو آ سکے​

تُم نے ہمیں بُھلا دیا، ہم نہ تمہیں بُھلا سکے​