ممتاز قادری کے 90 وکیل

28 جنوری 2015

ای میل

۔ — رائٹرز فائل فوٹو
۔ — رائٹرز فائل فوٹو

اسلام آباد: منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق گورنرپنجاب کے سزایافتہ قاتل ممتاز قادری کی قانونی ٹیم کے ارکان کی تعداد پولیس سے کہیں زیادہ رہی۔

ممتاز کے دفاع کیلئے کم از کم نوے وکیلوں کے علاوہ 300 سے زائد حامی بھی عمارت کے باہر موجود تھے، جو ان کے حق میں پلے کارڈز اٹھائے نعرہ بازی کرتے نظر آئے۔

تاہم ، یہ تعداد پچھلی مرتبہ سے کم ہے کیونکہ 2011 میں اس مقدمہ کی سماعت کے موقع پر قادری کے کم از کم 3000 حامی عدالت کے باہر موجود رہتے تھے۔

منگل کو عدالت میں وکلاء صفائی لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کی سربراہی میں آئے۔ ایل ایچ سی کے ایک اور سابق جج میاں نذیر اختر بھی قادری کے پینل میں شامل ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات ایک سیکورٹی افسر نے ڈان کو بتایا کہ اس موقع پر عمارت کے اندر اور اطراف 20 پولیس اہلکاروں پر مشتمل تین تین ٹیمیں تعینات تھیں۔

اس کے علاوہ قادری کے حامی وکلاء ٹولیوں کی شکل میں عمارت کے مختلف حصوں میں کھڑے مقدمہ کے نتیجے اور فوجی عدالتوں پر قیاس آرائیاں کرتے رہے۔

تاہم، ان سب کے درمیان اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے مشابہت رکھنے والےایڈوکیٹ یاسر شکیل توجہ کا مرکز بنے رہے۔

یاد رہے کہ شکیل نے 2011 میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں پیشی کے موقع پر ممتاز کو چوما تھا۔

جسٹس صدیقی جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج تعینات ہوئے تو سوشل میڈیا پر شکیل کے ممتاز کو چومنے کی تصویر گردش کرنے لگی جس سے تاثر ملا کہ ایک پاکستانی جج قاتل کو چوم رہا ہے۔

ایڈوکیٹ شکیل ناموس رسالت فورم کے ایک عہدے دار بھی ہیں۔ یہ فورم وکلاء پر زور دیتا ہے کہ وہ ممتاز کی حمایت میں عدالت میں پیش ہوں۔

منگل کو سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے کونسل بیرسٹر جہانگیر خان جدون نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جعلی تصویر کی بنیاد پر جسٹس صدیقی کے خلاف پروگرام نشر کرنے پر ایک نجی ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کرے۔

جس پر بینچ نے کہا کہ کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔

سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس صدیقی نے کہا کہ مذکورہ چینل نے معافی مانگ لی ہے جس کے بعد معاملہ کو مزید اچھالنا نہیں چاہیئے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل ندیم شاہ نے کہا کہ سماعت کی تاریخ اچانک طے ہونے کی وجہ سے بہت سے وکیل نہیں پہنچ سکے۔

اگر ہمیں مزید وقت مل جاتا تو آج وکلاء کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔