ممتاز قادری کیس کا اہم ریکارڈ پراسرار طور پر 'غائب'

اپ ڈیٹ 30 جنوری 2015

ای میل

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل میں سزایافتہ مجرم ممتاز قادری—۔فائل فوٹو/ رائٹرز
سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل میں سزایافتہ مجرم ممتاز قادری—۔فائل فوٹو/ رائٹرز

اسلام آباد: سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے سے متعلق اہم ریکارڈ پراسرار طور پر اٹارنی جنرل آفس سے غائب ہوگیا۔

اٹارنی جنرل آفس کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ میں کیس کی سماعت طے ہوجانے کے بعد انھیں اس بات کا علم ہوا کہ ممتاز قادری کیس کی اہم فائل جس میں قادری کی اپیل،ان کی سزا کا حکم، پولیس کی تفتیشی رپورٹس، جائے وقوع کا نقشہ، پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک ماہرین کی رپورٹ اور استغاثہ کے اہم نوٹس شامل تھے، ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ممتاز قادری کی اپیل پر کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقرر کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:ممتاز قادری کے 90 وکیل

اٹارنی جنرل آفس کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اس مقدمے سے متعلق اکتوبر 2011 اور 2012 میں ہونے والی سماعت تک کا ریکارڈ موجود ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ شاید کوئی ان 'گمشدہ' فائلز کو اسٹڈی کے لیے لے گیا ہے، لیکن اب تک ریکارڈ روم کو واپس نہیں کیا۔

مذکورہ افسر کے مطابق انھوں نے ہر جگہ اس فائل کو تلاش کرلیا ہے، تاہم ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی۔

یہی وجہ ہے کہ27 جنوری کو مذکورہ مقدمے کی گزشتہ سماعت کے دوران استغاثہ کے پاس اس کیس سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت میں مقدمات کی کارروائی کرنے والے قانونی افسر نے بینچ سے درخواست کی ہے کہ وہ سلمان تاثیر قتل کیس کے مقدمے کے لیے اٹارنی جنرل کو ایک بہتر پراسیکیوٹر مقرر کرنے کا نوٹس جاری کریں۔

سال 2011 اور 2012 میں اس کیس سے منسلک سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود جہانگیری نے ڈان کو بتایا کہ مذکورہ فائل اُس وقت تک ریکارڈ میں تھی، جب تک وہ آفس میں موجود تھے۔

'میں نے اس فائل کا مطالعہ کیا تھا اور متعلقہ ریکارڈ کی بنیاد پر کیس کی متعدد سماعتوں کے دوران عدالت میں دلائل دیئے تھے'۔

اٹارنی جنرل آفس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ممتاز قادری کیس کی فائل کسی دوسرے کیس کے ساتھ مل گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فائل ملنے کا امکانات ہیں، لیکن اگرایسا نہ ہوا تو اسے دوبارہ ترتیب دے لیا جائے گا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ فائل کو عدالتی ریکارڈز کی مدد سے دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کیس کی ایک علیحدہ فائل سپرنٹنڈنٹ پولیس کے دفتر میں بھی موجود ہے اور استغاثہ اس کیس کے ریکارڈ کی فوٹو کاپی نقول عدالتی ریکارڈ یا پولیس آفس کو درخواست دے کر حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک قانونی افسر کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ ریکارڈ 3 فروری کو کیس کی اگلی سماعت تک دوبارہ ترتیب نہیں دیا جا سکا تو مقدمے میں تاخیر ہوگی اور استغاثہ کے پاس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہوگا۔

ممتاز قادری کیس کے ممکنہ پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے وہ فائل ایڈیشنل اٹارنی جنرل آفس میں دیکھی تھی۔

اس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل افنان کریم کنڈی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔