ممتاز قادری کے وکلاء کو جنت کی امید

04 فروری 2015

ای میل

ممتاز قادری کے حمایتی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے جمع ہیں۔ —. فوٹو اے ایف پی
ممتاز قادری کے حمایتی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے جمع ہیں۔ —. فوٹو اے ایف پی

اسلام آباد: سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی حمایت میں عدالت میں اکھٹا ہونے والے وکلاء کو امید ہے کہ انہیں اس کے بدلے میں ’جنت بطور انعام‘ عطا ہوگی۔ ان کا خیال ہے کہ اس مجرم کا دفاع کرنا ان کی ’مذہبی ذمہ داری‘ ہے۔

منگل کی خنک صبح وہ یہاں پہنچے۔ ان میں ہر عمر، رنگ و خدوخال کے لوگ تھے، دبلے بھی موٹے بھی، درمیانی عمر کے بھی، بوڑھے بھی اور نوجوان بھی۔ روایتی داڑھی کے ساتھ خم دار جُبّے میں ملبوس یا کلین شیو خوبصورت گرم کوٹ پہنے ہوئے۔

ان میں سے بہت سے لوگ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں جمع تھے، اور باقی لوگ جو اندر نہیں داخل ہوسکے باہر ٹھنڈ میں منتظر کھڑے رہے۔

جو لوگ اندر موجود تھے، وہ بمشکل ہی سکون سے کھڑے رہ سکتے تھے، لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے انہیں دھکے لگ رہے تھے، کچھ لوگوں نے دیوار کا سہارا لے لیا تھا۔ لوگوں کی بڑی تعداد اکھٹا ہونے سے یہ چھوٹا سا کمرہ گرم اور مرطوب ہوگیا تھا، جبکہ باہر پھوار پڑ رہی تھی۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سزا کے فیصلے کے خلاف ممتاز قادری کی طرف سے جمع کرائی گئی ایک درخواست کی سماعت کے دوران پنجاب بار کونسل کے رکن سجاد اکبر عباسی، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، راولپنڈی کے سابق صدور توفیق آصف اور احسن الدین شیخ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق صدر نصیر کیانی نے شرکت کی۔

یہ سب لوگ ممتاز قادری کے بنیادی وکلاء سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف اور ریٹائرڈ جسٹس میاں محمد نذیر احمد کی مدد کے لیے وہاں موجود تھے۔ میاں نذیر نے قادری کے دفاع کے لیے ریٹائرمنٹ لی تھی۔

وہاں پر موجود ایک وکیل نے تبصرہ کیا ’’یہ دونوں وکیلِ صفائی اس مقدمے کے ججوں سے سینئر ہیں۔‘‘

لیکن یہ اپنے ’مذہبی فریضے‘ کی ادائیگی کے لیے یہاں موجود دوسرے لوگوں سے زیادہ سرگرم نظر آئے۔

جب ڈان نے ایک وکیل محمد وقاص ملک سے سوال کیا کہ وہ کیوں اس مقدمے میں ان کے ساتھ منسلک ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: ’غازی علم دین، جنہوں نے ایک گستاخِ رسول کو قتل کیا تھا، کی جانب سے قائدِاعظم محمد علی جناح پیش ہوئے تھے۔‘‘

جب ایک دوسرے وکیل نے انہیں یاد دلایا کہ غازی علم دین کو سزا سنائی گئی تھی اور انہیں پھانسی پر لٹکادیا گیا تھا، تو وقاص ملک نے کندھے اچکائے اور کہا ’’اس دوران غیرمسلموں کی حکومت تھی اور جس جج نے سزا سنائی تھی، وہ بھی غیرمسلم تھا۔‘‘

عدالتی کارروائی کے بعد اسی طرح کے خیالات کا اظہار لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے بھی کیا۔

ایسا لگ رہا تھا کہ عدالت میں بھی اسی طرح کے خیالات غالب تھے۔

پنجاب بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین محمد اظہر چوہدری نے کہا کہ انہوں نے ایک کروڑ روپے واپس کردیے، پچھلی پی پی پی کی حکومت نے انہیں اس کی پیشکش کی تھی، اور انہوں نے 2011ء کے دوران سلمان تاثیر قتل کیس میں سرکاری وکیل بننے سے انکار کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ خود بھی ممتاز قادری کے حامی ہیں۔

ممتاز قادری اپنے حمایتی وکلاء کے ہمراہ۔ —. فائل فوٹو رائٹرز
ممتاز قادری اپنے حمایتی وکلاء کے ہمراہ۔ —. فائل فوٹو رائٹرز

پنجاب بار کونسل کے رکن سجاد عباسی نے ڈان کو بتایا کہ ممتاز قادری کی حمایت کرنا ان کی قانونی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار نے آہستگی اور سرگوشی میں کہا ’’اس مقدمے کے سرکاری وکیل کو خصوصی طور پر یقین دلایا گیا ہے کہ اگر وہ ممتاز قادری کی اپیل خارج کروانے میں کامیاب ہوگیا تو اس کو امریکا کا ویزہ دیا جائے گا۔‘‘

انہوں نے کہا ’’اس مقدمے کے بعد سرکاری وکیل کے لیے اس ملک میں زندہ رہنا مشکل ہوجائے گا۔‘‘

جیسا کہ دیگر لوگوں کا کہنا تھا کہ جس جج نے ممتاز قادری کو مجرم قرار دیا تھا، وہ پہلے ملک چھوڑ کر چلا گیا تھا، باوجود اس حقیقت کے کہ جس پر کچھ لوگوں نے اصرار کیا کہ وہ اب بھی ملک میں موجود ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے سابق صدر احسن الدین جو عمران خان کے خلاف ہتک عزت پر بیس ارب روپے کے دعوے کے مقدمے میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی نمائندگی کررہے ہیں، کہتے ہیں: ’’ممتاز قادری کو حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کا وکیل اس مقدمے میں شامل کریں۔ میں اس مقدمے میں خواجہ شریف کی معاونت کررہا ہوں۔‘‘

ایڈوکیٹ احسن الدین شیخ عدالتی کارروائی کے خاتمے تک کمرہ عدالت میں موجود رہے، اور اس وقت تک وہاں سے نہیں گئے، جب تک کہ خواجہ شریف نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔

اسلام آباد کے ایک نوجوان وکیل نے دعویٰ کیا کہ 33 وکلاء ممتاز قادری کی نمائندگی کررہے ہیں، اور دیگر بڑی تعداد میں ان کی حمایت میں کھڑے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 27 جنوری کو اس مقدمے کی پہلی سماعت کے موقع پر کم از کم 90 وکلاء نے عدالتی کارروائی میں شرکت کی تھی جبکہ اس وقت یہ تعداد کم تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات ایک سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ ممتاز قادری کے وکلاء کی تعداد تین درجن سے زیادہ نہیں تھی۔

تاہم ستائیس جنوری کے مقابلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کے باہر ممتاز قادری کے حمایتیوں کی تعداد دوگنا تھی۔ کارروائی شروع ہوئی تو یہ لوگ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے ملحقہ سروس روڈ پر اکھٹا ہوگئے تھے۔ انہوں نے پاکستان سنی تحریک (پی ایس ٹی) کے پرچم اُٹھا رکھے تھے، وہ کارروائی ختم ہونے تک وہاں موجود رہے۔

ممتاز قادری کے بھائی ملک محمد سفیر بھی ان لوگوں کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ ’’وہ جیل میں مطمئن ہیں اور ہمیں ملاقات کے لیے آنے سے منع کردیا ہے۔‘‘

اس سے قبل ایک نوجوان وکیل نے کمرہ عدالت میں کہا تھا ’’ہم نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ورنہ آپ دیکھیے کہ بنّوں میں کیا ہوا تھا۔ لوگوں نے جیل توڑ کر قیدیوں کو آزاد کروالیا تھا۔‘‘