انسدادِ پولیو، پاکستان میں ایک خطرناک مہم

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2020

ای میل

اسلام آباد کا شرجیل، جو پولیو وائرس کی وجہ سے معذور ہوگیا تھا، اپنے گھر کے باہر وہیل چیئر پر بیٹھا ہے۔ —. فوٹو اے پی
اسلام آباد کا شرجیل، جو پولیو وائرس کی وجہ سے معذور ہوگیا تھا، اپنے گھر کے باہر وہیل چیئر پر بیٹھا ہے۔ —. فوٹو اے پی

پشاور: امریکا میں خسرے کی وباء کے دوران اس کی حفاظتی ویکسین پر بداعتمادی نے ایک بحث کو جنم دیا تھا، جبکہ پاکستان پولیو سے پاک کرنے کے لیے ایک خطرناک جنگ میں مصروف ہے۔

مغرب میں پولیو کے خاتمے کو طویل عرصہ گزرگیا، لیکن پاکستان میں طالبان کی جانب سے حفاظتی ویکسین پر پابندی، طبّی عملے کو حملوں کا نشانہ بنانے اور اس ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے پولیو کا مرض پاکستان میں موجود ہے۔

اس مستقل معذور کردینے والی بیماری کے وائرس سے کہیں زیادہ خطرناک اس کے خاتمے کی مہم ہوسکتی ہے، اس لیے کہ پولیو کے خاتمے کی مہم میں شریک ہزاروں رضاکاروں کو مختلف علاقوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے کے لیے اکثر اوقات مسلح گارڈ کے ساتھ بھیجاجاتا ہے۔

ایک رضاکار روبینہ اقبال کہتی ہیں، ’’جب ہم صبح گھر سے نکلتے ہیں تو دراصل اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ آیا ہم زندہ واپس آئیں گے، یا نہیں۔‘‘

پولیو انتہائی متعدی وائرس ہے، جو عام طور پر حفظان صحت کی غیرتسلی بخش صورتحال میں منتقل ہوجاتا ہے۔

اس وائرس کا کوئی علاج نہیں، جس سے زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچے متاثر ہوتے ہیں، اگرچہ اس کو صرف ویکسین کے ذریعے روکا جاسکتا ہے۔

جب تک ڈاکٹر جوناس سالک نے 1950 کی دہائی میں پولیو کی ویکسین ایجاد نہیں کی تھی، اس وقت تک امریکا میں پولیو نے والدین کو خوفزدہ کر رکھاتھا، اس لیے کہ ہر سال اس وائرس سے معذوری کے پندرہ ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آتے تھے۔

1980ء میں چھوٹی چیچک کے خاتمے کے بعد حکام نے اپنی توجہ پولیو پر مرکوز کردی۔

پاکستان میں یہ بیماری اور اس کی ویکسین کے خلاف شدید ردعمل زیادہ تر شمال مغربی علاقوں اور ساحلی شہر کراچی میں پایا جاتا ہے، اگرچہ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم ملک بھر میں جاری رہتی ہے۔

پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے والے رضاکاروں کی کوششوں کا دائرہ متاثرکن ہے۔

پشاور میں پیر 16 فروری کو انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جارہے ہیں۔ —. فوٹو اے پی
پشاور میں پیر 16 فروری کو انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جارہے ہیں۔ —. فوٹو اے پی

ملک میں پولیو ایمرجنسی آپریشن کے مراکز کی نگران ڈاکٹر رانا صفدر محمود کہتے ہیں کہ جنوری میں شروع کی گئی مہم کے دوران ملک بھر میں تین کروڑ پچاس لاکھ بچوں کا سرکاری ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

ایسے علاقے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں پولیو وائرس موجود ہے، چھوٹی مہمات زیادہ کثرت سے ان علاقوں میں منعقد کی جاتی ہیں۔ پولیو کے رضاکار مرکزی بس اسٹاپس اور ٹرین اسٹیشن پر بھی مسافر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں۔

پڑوسی ملک ہندوستان کو 2014ء میں پولیو سے پاک قرار دے دیا گیا تھا۔ سوا ارب کی آبادی والے اس ملک میں بڑے پیمانے پر ویکسین کی فراہمی ایک بڑا کارنامہ تھا۔

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان 2012ء میں کامیابی کے قریب پہنچ گیا تھا، لیکن پھر پچھلے سال پولیو کیسز کی بڑی تعداد نے اس کامیابی کو متاثر کردیا۔

امریکا میں جہاں والدین کا گروپ آٹزم کے بارے میں پریشان رہتا ہے اور معروف شخصیات بے اعتبار سائنسی مضمون پر انحصار کرتے ہیں، لیکن اس کے برعکس پاکستان کی انسدادِ پولیو کی ویکسین کے کو بندوق کی نوک کے ذریعے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی طالبان نے 2012ء میں پولیو ویکسین پر پابندی عائد کردی تھی، جب 2011ء میں امریکن نیوی سیلز کے ایبٹ آباد میں ایک چھاپہ مارکارروائی کے دوران القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا ہلاک کردیا تھا۔

اس کارروائی سے پہلے سی آئی اے نے ایک مقامی ڈاکٹر کو بھیجا تھا، جس نے اسامہ بن لادن کے گھر دے بچوں کے ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ہیپاٹائٹس ویکسین پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔

اس بات نے ایک ایسے ملک میں بداعتمادی کو جنم دیا، جہاں بہت سے لوگ یہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ یہ ویکسین دراصل مسلمان بچوں کو بانجھ بنانے کی سازش ہے۔

اتوار پندرہ فروری کو پولیو مہم کے دوران پولیو رضاکار بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہے ہیں۔ —. فوٹو اے پی
اتوار پندرہ فروری کو پولیو مہم کے دوران پولیو رضاکار بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہے ہیں۔ —. فوٹو اے پی

پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کے پولیو سے متعلق مرکزی شخصیت ایلیس ڈیوری کہتے ہیں ’’دسمبر 2012ء سے مسلح عسکریت پسندوں نے قطرے پلانے والے رضاکاروں کی ٹیم کو نشانہ بنانا شروع کیا جو اب ایک ’’خوفناک سیریل کلنگ ‘‘ بن گیا ہے۔

ڈاکٹر رانا صفدر محمود کہتے ہیں کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں شریک 75 رضاکار جب سے ہلاک کردیے گئے ہیں۔

منگل کے روز پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حکام کو گولیوں سے چھلنی چار افراد کی لاشیں ملیں، جو ایک پولیو مہم کی تیاری میں مصروف تھے اور ہفتے کے روز سے لاپتہ تھے۔

پولیو سے متاثرہ بجے اور دیگر لوگ جو ایک علاقے سے دوسرےعلاقے میں سفر کرتے ہیں، شہروں میں بلکہ ان ملکوں میں بھی جہاں سے پولیو کا خاتمہ کیا جاچکا ہے، نئے پولیو کیسز کا سبب بن سکتے ہیں۔

پاکستان کے علاوہ صرف افغانستان اور نائجیریا دو ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

پولیو کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستانی حکومت نے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں ایمرجنسی آپریشنز کے مراکز قائم کیے ہیں، جہاں حکام روزانہ ملاقات کرتے ہیں، اس طریقہ کار نے نائجیریا میں بے حد مدد کی ہے۔

ایسے بعض علاقے جہاں پولیو کا خطرہ زیادہ ہے، وہاں قطروں کی صورت میں پلائی جانے والی ویکسین کے بجائے، طویل عرصے تک مؤثر رہنے والی ایسی ویکسین متعارف کرائی گئی ہے، جسے انجکشن کے ذریعے دیا جاتا ہے۔

پاکستانی فوج نے پچھلے سال جون کے دوران شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں کارروائی شروع کی تھی، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو اس خطے سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا تھا، یوں پولیو کے رضاکاروں کے لیے ان بچوں تک بالآخر رسائی ممکن ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر رانا صفدر محمود نے بتایا کہ پچھلے دوسالوں کے بعد پہلی مرتبہ نومبر میں جنوبی وزیرستان کے اندر گھر گھر جاکر پولیو کے قطرے پلانے کی مہم بھی شروع کی گئی، اور پولیو رضاکاروں کے خلاف حملوں کی شدت میں بھی کمی آئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

راولپنڈی میں ایک بس ٹرمینل پر کنٹینر میں قائم انسدادِ پولیو کے مرکز میں ایک رضاکار داخل ہورہا ہے۔ —. فوٹو اے پی
راولپنڈی میں ایک بس ٹرمینل پر کنٹینر میں قائم انسدادِ پولیو کے مرکز میں ایک رضاکار داخل ہورہا ہے۔ —. فوٹو اے پی

اس کے علاوہ حکام نے یہ بھی بتایا کہ پولیو رضاکاروں کے تحفظ کے لیے نئی سیکورٹی حکمت عملی پر بھی عمل کیا جارہا ہے۔

ایلیس ڈیوری کہتے ہیں کہ ’’پچھلے سال تک کوئی بھی شمالی وزیرستان نہیں جاسکتا تھا، پولیو رضاکاروں کو قتل کیا جارہا تھا۔ اب یہ مسائل بہتر ہوئے ہیں اور یہ تبدیلی ڈرامائی طور پر ظاہر ہوئی ہے۔‘‘

پولیو کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ہچکچاہٹ کے شکار لوگوں کو قائل کرنے کے لیے وہ اپنی دلیلوں کا استعمال کرتے ہیں، جس طرح کہ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے تھے۔

تاہم انہیں اس کام سے روکنے کے لیے ہراساں کیے جانے کے واقعات بھی یاد آسکتے ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں بہت سے لوگ خواتین کے گھر سے باہر نکل کر کام کرنے پر اعتراض کرتے ہیں۔

بیوروکریسی کے چیلنجز بھی پولیو مہمات میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

پولیو رضاکاروں کو شکایت ہے کہ انہیں معاوضے کی ادائیگی بروقت نہیں کی جاتی ہے۔

باجوڑ کے قبائلی علاقے میں پولیو ورکروں نے حال ہی میں احتجاج کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ انہیں پچھلے پانچ مہینوں سے ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔

ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ پے چیکس کے طریقہ کار کو تبدیل کرکے اب ادائیگی رضاکاروں کے بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست جمع کردی جاتی ہے۔

لیکن انہوں نے کہا کہ تاخیر کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔

پاکستانی حکام لوگوں کو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے پر قائل کرنے کے ضمن میں مذہبی برادری سے مدد لینے کے لیے رابطہ کررہے ہیں۔

اس کوشش میں محمد اسرار مدنی بھی حصہ لے رہے ہیں، وہ شمال مغربی شہر نوشہرہ میں بااثر حقانیہ مذہبی مدرسے میں تدریس کرتے ہیں۔

اسرار مدنی نے بتایا ’’میں ہر مدرسہ، ہر مسجد تک پہنچنا چاہتا ہوں تاکہ مذہبی عالموں کو قائل کرسکوں اور لوگوں میں آگہی بیدار کرنے کے لیے راستہ ہموار کرسکوں۔‘‘