سوات کی خواتین کے لیے منفرد جرگہ

22 فروری 2015

ای میل

جرگے میں شریک خواتین — فوٹو سحر بلوچ
جرگے میں شریک خواتین — فوٹو سحر بلوچ

یہ سوات کے بٹورہ گاﺅں کے شمال مشرف میں واقع علاقے اگوارہ خیلہ کی ایک چمکتی ہوئی دوپہر تھی اور ہم شان بی بی کے صحن میں انتظار کررہے تھے ، یہ وہ جگہ ہے جہاں خواتین ایک جرگے کے لیے اکھٹی ہوئی تھیں۔

جرگے کی سربراہ (مشر) 39 سالہ تبسم عدنان کا کہنا تھا کہ یہ اکھٹے ہونے کے لیے ایک غیرمتوقع دن ہے مگر ایسا ضروری بھی تھا کیونکہ کچھ خواتین اپنے مسائل گزشتہ اجلاس میں بیان نہیں کرسکی تھیں۔

ان مسائل میں نفسیاتی سے لے کر نسوانی امراض اور شوہر یا سسرالی رشتے داروں کے خلاف طلاق یا پولیس کیس کے لیے درخواست دائر کرنے کے لیے قانونی مشورے تک سب شامل ہیں۔

انہوں نے کہا " مجھے یہ احترام حاصل کرنے میں دو سال کا عرصہ لگا"۔

حال ہی میں سیدو شریف میں ایک مزدور نے ایک آٹھ سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، پولیس کے پاس جانے سے پہلے بچی کے بھائی نے اس معاملے سے تبسم اور ان کے قانونی مشیر سہیل شوکت کو آگاہ کیا۔ ملزم نے جرم کا اعتراف کیا اور اب وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔

ایک حالیہ کیس ایک تیرہ سالہ یتیم لڑکی کا تھا جس کی شادی باپ کی عمر کے شخص سے کرائی جارہی تھی، جب پولیس نے لڑکی کے انکل کو گرفتار کیا تو خاندان کی بیٹھک ہوئی اور تبسم کو پولیس نے طلب کرکے لڑکی سے بات اور فیصلہ کرنے کے لیے کہا، بعد میں اس شادی کا منصوبہ بتدریج منسوخ کردیا گیا۔

یہ دا خواندو جرگہ یا بہنوں کی کونسل کی چند کامیابیاں ہیں جو کہ 2012 سے کام کررہی ہے۔

مردوں کی بالادست برادری میں تبسم کو سختیوں کا بھی سامنا ہوا، جب انہوں نے پہلی بار ایک لڑکی کو جلا کر ہلاک کرنے کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا اور خواتین کو اکھٹا کرنے کی کوشش کی تو ان کے چہرے کو دیکھ کر دروازے بند کردیئے جاتے تھے۔

خواتین ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھیں تاہم تمام تر دباﺅ کے باوجود تبسم اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اب انہیں ملنے والی دھمکیاں زیادہ خطرناک ہوگئی ہیں۔

تبسم کے خلاف جامعہ اشرفیہ لاہور نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے اور سوات کے ایک جرگے کے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ پختون برادری کو بدنام کرنے پر ان خواتین کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا جانا چاہئے، اسی کا نتیجہ ہے کہ تبسم ہراساں ہیں، تاہم وہ اکثر اپنا عزم دہراتی ہیں کہ انہوں نے اس جرگے کا آغاز کیا اور اگر تبسم کو کچھ ہوجاتا ہے تو ان کی خواہش کی ہے کہ ان کی والدہ اسے چلائیں۔

تبسم کا کہنا ہے کہ وہ دیگر خواتین کا فیصلہ نہیں کرسکتیں میری والدہ جانتی اور نتائج کو قبول کرسکتی ہیں"۔

اسی ڈر کے باعث انہوں نے اپنے پچیس رکنی گروپ کو گزشتہ سال نومبر میں رجسٹر کرایا۔ تبسم اپنی پہلی شادی کے بارے میں بتاتی ہیں جب ان کی عمر تیرہ سال تھیں اور خود پر ہونے والے تشدد نے انہیں اس مقصد کے لیے کھڑا ہونے پر مجبور کیا " میں سمجھ سکتی ہوں کہ جب کوئی آپ کے بارے میں غلط فیصلہ کرتا ہے تو کیسا مھسوس ہوتا ہے اور آپ کو اس کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں"۔

جب خواتین جمع ہوگئیں تو شان نے اعلان کیا کہ سب سے پہلے ٹال دردیال کی خواتین کو درپیش پانی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس کی بیٹی کو ملک قبیلے نے اپنی طرف سے پانی بھرنے پر سزا دی اور درخواست کی کہ اس بارے میں مقامی انتظامیہ کے نمائندگان سے بات چیت کی جائے۔

ایک اور موضوع مینگورہ کے مرکزی ہسپتال میں نفسیاتی دیکھ بھال کا حصول تھا، تبسم کے مطابق صرف جنوری میں ہی سوات میں 23 خواتین نے خودکشی کی " تشدد کو دیکھنا یا برداشت کرنا کچھ خواتین کے لیے بوجھ بن جاتا ہے، وانی اور سوارہ کے معاملات بھی ہر دوسرے ہفتے سامنے آتے ہیں، یہ مسائل بزرگوں کے جرگے میں نہیں اٹھائے جاتے"۔

سوات عام جرگہ سے تعلق رکھنے والے زاہد خان کے مطابق پختون ثقافت میں ایک جرگے ایک مرد کے زیرتحت ہوتا ہے " اس میں برادریوں کے تمام حصوں کی نمائندگی کی ضرورت ہوتی ہے، وانی اور سوارہ جیسے مسائل کو سامنے لائے جانے کی ضرورت ہے اور ہم ایسا کرتے بھی ہیں مگر میں تبسیم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مردوں کی بالادستی کی روایت کو تبدیل نہ کریں"۔

انہوں نے کہا " ہم کوئی مختلف نام رکھ سکتی ہیں اور ہم ان کو سپورٹ بھی کریں گے جو کہ ہم اب بھی کررہے ہیں خاص طور پر اس وقت جب وہ خواتین کی تعلیم کی بات کرتی ہیں"۔

وانی اور سوارہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے زاہد خان نے وضاحت کی کہ اس تصور کو ناجائز قرار دیا جاچکا ہے، سواری کا مطلب اسواری یا ایسی ٹرانسپورٹ ہے جو ایک خاتون کو کسی مخالف گروپ کے گھر لے جائے تاکہ امن کا قیام ہوسکے " یہ ایک پرانی روایت ہے جس کے تحت ایک خاندان کا سب سے قیمتی اثاثہ بھیجا جاتا ہے، ایک ماں یا ایک بہن تاکہ دوسرے خاندان کے ساتھ تنازع ختم ہوسکے"۔

وہ مزید بتاتے ہیں " ناناواتے یا معافی کا اقدام خواتین کرتی ہیں کیونکہ ان کا احترام کیا جاتا ہے اور وہ مضبوط ہوتی ہیں، ہمارے کچھ لوگوں نے دیگر صوبوں کا سفر کرکے غیرت کے نام پر قتل کا طریقہ جانا اور اس کے بعد اس مشق کا آغاز ہوگیا"۔

زاہد خان خود سوات میں فعالیت کی ایک مثال ہے جو کہ اپنی جنگ لڑرہے ہیں، اگست 2012 میں طالبان پر تنقید پر ان کے سر میں ایک گولی اتار دی گئی تھی۔

تبسم کے جرگے کے قانونی مشیر سہیل شوکت کا کہنا ہے " ہم الگ تھلگ ہوکر کام نہیں کررہے کیونکہ اس طرح ہم اپنے اقدامات میں آمرانہ انداز اختیار کرلیں گے، انتظامیہ کو ساتھ لر کے چلنا ضروری ہے کیونکہ ہم قانون سے بالاتر نہیں اور بیشتر جرگے اسی خیال کے تحت کام کررہے ہیں۔ ہم یہاں خواتین اور مرد یا خواجہ سراﺅں کے لیے کام کررہے ہیں جو اپنے حق کے لیے آواز بلند نہیں کرسکتے۔

شان کے گھر سے تمام خواتین سورج غروب ہونے سے قبل چلی گئیں اور تبسم نے کہا " ہم نے بہت طویل راستہ طے کیا ہے اور اب ہمارے لیے پیچھے ہٹنا آسان نہیں رہا"۔