ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج

اپ ڈیٹ 17 مارچ 2015

ای میل

متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین—۔فائل فوٹو/ اے ایف پی
متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین—۔فائل فوٹو/ اے ایف پی

کراچی: رینجرز کی درخواست پر کراچی پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

قائد ایم کیوایم کے خلاف مقدمہ سول لائنز تھانے میں رینجرز ترجمان کرنل طاہر محمود کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ عبدالخالق شیخ نے اس مقدمے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 7 اور 506 بی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

واضح رہے کہ الطاف حسین نے نجی چینل جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں نائن زیرو آپریشن میں شریک رینجرز اہلکاروں کے حوالے سے بظاہر کہا تھا کہ "رینجرز اہلکار ہیں نہیں تھے، وہ تھے ہو جائیں گے"۔

رینجرز کی جانب سے درج کروائے گئے مقدمے میں اسی بیان کو شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ بدھ کو صبح سویرے رینجرز کی بھاری نفری نے ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرواور اطراف کے مکانوں پر چھاپہ مارا اور متحدہ کے رہنماؤں عامر خان، عبدالحسیب ، ڈاکٹر سلیم دانش، ارشد حسین، ڈاکٹرایوب شیخ اور رکن سندھ اسمبلی ریحان ظفر سمیت متعدد کارکنوں کوحراست میں لیا گیا تھا جن میں اکثر کو بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔

آپریشن کے دوران رینجرز کی جانب سے نائن زیرو سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

الطاف حسین کے خلاف ایف آئی آر کی کاپی
الطاف حسین کے خلاف ایف آئی آر کی کاپی
الطاف حسین کے خلاف ایف آئی آر کی کاپی
الطاف حسین کے خلاف ایف آئی آر کی کاپی

مزید پڑھیں:نائن زیرو سے نیٹو اسلحہ برآمد، ولی بابر کا قاتل گرفتار

سندھ رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر کا کہنا تھا کہ نائن زیرو میں کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نائن زیرو کی طرف 21 راستے آتے ہیں، ان تمام کو بیرئیر لگا کر بند کیا گیا ہے، جو 'نو گو ایریا' کے زمرے میں آتا ہے اور رینجرز کو اختیار حاصل ہے کہ وہ نوگو ایریاز کا خاتمہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ خفیہ اطلاع پر چھاپے کے دوران جرائم پیشہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ایم کیو ایم رہنما عامر خان کو ساتھ رکھا گیا ہے، ان کو حراست میں نہیں لیا گیا، البتہ جرائم پیشہ افراد ان کے ہمراہ موجود تھے اس لیے ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

دوسری جانب رینجرز کے مطابق کسی بھی رکن اسمبلی کو حراست میں نہیں لیا گیا۔