یہ پرانا کراچی نہیں

24 مارچ 2015

ای میل

صولت مرزا — اسکرین گریب
صولت مرزا — اسکرین گریب

جب دشمن کے گرد گھیرا تنگ ہوجائے

تو اسے بھاگنے کا ایک راستہ دو

اسے نظر آنا چاہیے

کہ موت کا متبادل بھی ہے

'سن زو، آرٹ آف وار'


صولت مرزا کی سزائے موت سے چند گھنٹے قبل ریلیز ہونے والی ویڈیو بہت ہی دلچسپ تھی جس میں وہ الطاف حسین، بابر غوری، اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان پر کئی افراد کے قتل کے احکامات جاری کرنے کا الزام لگا رہے تھے۔ یہ ویڈیو تقریباً تمام مقامی ٹی وی چینلز پر دکھائی گئی تھی۔

اس ویڈیو کا شوٹ کیا جانا اور اسے عوام میں لانا قانونی مراحل اور حیثیت کے بارے میں کئی دلچسپ سوالات کو جنم دیتا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے چند دنوں میں اس پر بہت زیادہ بحث کی جائے گی جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

اور کچھ ہی دیر بعد صولت مرزا کی پھانسی موخر کر دی گئی جس کی وضاحت کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ان کی طبیعت پھانسی دینے کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

اگر آپ اس پر یقین کرتے ہیں، تو شاید آپ کو ڈبل شاہ کے سچے اور بے قصور ہونے پر بھی یقین ہو گا۔

لیکن کچھ بھی ہو، لگتا تو یہی ہے کہ صولت مرزا اب کچھ عرصے کے لیے پھانسی سے بچے رہیں گے۔ ویسے بھی طبی بنیادوں پر انصاف سے بچ جانے کی پاکستان کی روایت ہے۔

اس سب سے ایک زبردست سیاسی تماشہ بن گیا ہے، لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ تماشہ پہلا ہے یا آخری۔ لیکن ہم اتنا تو یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ خفیہ طاقتوں نے اب واضح طور پر ایم کیو ایم، یا اس کے 'عسکری ونگ' کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ ایسا ایک ونگ موجود ہے، اور ہر ہڑتال کے دوران اسلحہ لہراتے ہوئے لڑکے نامعلوم نہیں بلکہ اچھی طرح 'معلوم افراد' ہیں۔

پڑھیے: 'برطانیہ کو ثبوت فراہم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں'

ایم کیو ایم کی جانب سے اکثر و بیشتر اس الزام کی تردید کی گئی ہے کہ پارٹی قیادت اس ونگ کو کنٹرول کرتی ہے۔ لیکن عام تاثر یہ ہے کہ ان عناصر کو پارٹی سے نکالنے میں ناکامی، اور ہڑتال کامیاب بنانے کے لیے ان کا استعمال فیصلہ سازی کے مراحل میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کی موجودگی کا ثبوت ہے۔

ایم کیو ایم کے کچھ ممبرانِ پارلیمنٹ اور عہدیداروں نے سرگوشیوں میں اکثر اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ کاش ان کی جماعت اس طرح کے عناصر سے پاک ہو جائے۔

لگتا ہے کہ نائن زیرو پر ہونے والا یہ آپریشن کراچی میں ہونے والی حالیہ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں ہوا تھا۔ اس کے بعد نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ پڑا۔ یہاں بھی دیکھنے والوں کے لیے چند نشانیاں موجود ہیں۔

چھاپے کے بعد الطاف حسین کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی، جو کہ رینجرز کے مطابق ان کے اہلکاروں کو دی جانے والی دھمکیوں کے ردِ عمل میں تھی۔ اور پھر صولت مرزا کی ویڈیو منظرِعام پر آئی۔

دیکھا جائے تو یہ ایک کلاسک تکنیک ہے:

ٹارگٹ کا انتخاب کریں، اور پھر اسے مسلسل اتنا دبائیں کہ اس میں سے کچھ نہ کچھ نکل ہی آئے۔ سوال بس اتنا ہے کہ 'کچھ' کیا چیز ہے اور نتائج کیا نکلیں گے۔

یہ اسلحہ بردار لڑکے جن کا مبینہ طور پر تعلق ایم کیو ایم سے ہے، شاید مسئلہ ہوں۔ لیکن یہ کسی بھی طرح کراچی کا اکلوتا مسئلہ نہیں ہیں۔

ایم کیو ایم اسے کھلے عام زیادتی قرار دے رہی ہے۔ ایم کیو ایم کی بنیاد ہی 'مہاجروں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے' کے نعرے پر تھی، اور بھلے ہی اس نعرے کے فوائد کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں، لیکن پھر بھی یہ استعمال ہوتا رہا ہے۔

یہ نعرے اس وقت زیادہ شدید ہوئے جب ایم کیو ایم کی متحدہ کو ری برانڈ کر کے ایک ایسی پارٹی بنانے کی کوشش، جس میں سب لوگ شامل ہوں، ناکام ہوئی۔ اس کے بعد ایم کیو ایم نے اب اپنی لسانی حمایت پر دوبارہ فوکس کرنا شروع کر دیا ہے، بھلے ہی اس کے نعرے اب اتنے کارگر نہیں رہے۔

لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کی لسانی حمایت اب ایک بار پھر اس کے نعروں پر یقین کرتے ہوئے یہ سمجھ بیٹھے کہ واقعی مہاجروں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیے: 'کراچی میں آنے والا وقت تحریک انصاف کا ہے'

کراچی میں موجود دوسرے گروہوں کے خلاف ایکشن نہ ہونے سے تاثر مضبوط ہو گا۔ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسا کوئی ایکشن نہیں ہو رہا۔ لیاری کے گینگز کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، اور واقعی ایک غیر اعلانیہ (اور زیادہ تر غیر عدالتی) ایکشن دوسرے گروپس کے خلاف بھی لیا گیا ہے۔ لیکن اس آپریشن کے منصوبہ سازوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ کھیل تاثر کا کھیل ہے، اور اصل ایکشن کے ساتھ ساتھ دکھاوا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

سادہ الفاظ میں کہا جائے تو کراچی میں دیگر گروپوں سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں اور مجرمان کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے، اور اس کی عدم موجودگی میں ایم کیو ایم کا 'زیادتی' والا نعرہ مزید لوگوں کو اپنی طرف راغب کرے گا۔

ایم کیو ایم کے تمام گروہوں کو دیوار سے لگانا بھی سخت گیر عناصر کے ہاتھ مضبوط کرے گا، جس کی وجہ سے پر تشدد جوابی حملہ ہو سکتا ہے۔ شاید یہ بھی منصوبے کا حصہ ہے، کہ انہیں جوابی حملے پر مجبور کیا جائے، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جواز مل جائے گا۔

لیکن ایم کیو ایم میں بھی ایسی طاقتیں ہیں جو اس خون خرابے سے نکلنا چاہتی ہیں، اور ان طاقتوں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہ چیز ایجنڈے میں موجود نظر نہیں آتی، اور ایم کیو ایم پر لگاتار حملے ان قوتوں کے ہاتھ کمزور کر دیں گی، بھلے مختصر عرصے کے لیے ہی۔

ویسے یہ بھی ممکن ہے کہ پارٹی میں موجود معتدل عناصر رابطے میں ہوں اور وہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات بھی مہیا کر رہے ہوں، لیکن ایسا ہونے کی صرف امید کی جا سکتی ہے، یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔

لیکن اس کے علاوہ اور بھی بیانیے ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی حمایت کی جانی چاہیے، صرف اس لیے کیونکہ یہ 'ترقی پسند' اور 'سیکولر' ہے۔ اس کی وجہ سے کئی لوگ ایم کیو ایم پر تنقید کرنے میں اتنے ہچکچاتے ہیں، کہ وہ جان بوجھ کر مکمل طور پر اس جماعت کی زیادتیوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔

پڑھیے: ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ کا امتحان

دوسری جانب کچھ لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک غنڈہ گرد جماعت ہے، اور وہ ایک ایک ووٹ بندوق کے زور پر لیتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔

اس کے علاوہ دو دیگر بیانیے بھی ہیں۔

ایک کے مطابق ایم کیو ایم کو ٹارگٹ کرنے کا مطلب جمہوریت کو ٹارگٹ کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات دلائل پر پوری نہیں اترتی۔ جمہوری سیاسی جماعتیں (یہاں مطلب ان جماعتوں سے ہے جو الیکشن میں حصہ لیتی ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ وہ کس طرح کام کرتی ہیں) اپنے اوپر اعتبار و اعتماد اس وقت کھو دیتی ہیں جب وہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال کرتی ہیں۔

اسی طرح سے ایسے بھی لوگ ہیں جو صرف ذاتی یا اداروں کے مفاد کی وجہ سے، یا صرف سمجھ بوجھ کی کمی کی وجہ سے ایم کیو ایم کے رویے کو جمہوریت کا مسئلہ سمجھ لیتے یں، اور اس سے ان سیاستدانوں کو برا بھلا کہنے کا ایک اور دروازہ کھل جاتا ہے جو ہمارے سارے مسائل کی جڑ ہیں۔ یہ نظریہ بھی گہرائی نہیں رکھتا۔

اگر ہم صولت مرزا کے الفاظ کو سچ سمجھ لیں، تو ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے کیوں بابر غوری کو اپنی حکومت میں وزیر کا عہدہ دیا اور عشرت العباد کو گورنر سندھ رہنے دیا۔

جانیے: قائدِ حزبِ اختلاف کی سندھ میں گورنرراج کی حمایت

کیا ہم واقعی یہ تسلیم کر لیں کہ وہ تمام ریاستی اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں پر اپنی مضبوط گرفت کے باوجود مرزا کے جرائم میں ان افراد کے کردار سے ناواقف تھے؟

کہا جاتا ہے کہ پاگل پن ایک ہی کام بار بار دہرانے، اور مختلف نتائج کی توقع کرنے کو کہتے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ 1992 کا کراچی یا پاکستان نہیں ہے۔ جب پاکستان کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہو، تو عسکری ونگز کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ مر چکے لوگ انصاف چاہتے ہیں، اور زندہ لوگ ریلیف۔

لیکن اگر کوئی غیر متوقع ردِ عمل سے بچنا چاہتا ہے، تو اسے لوہار کے ہتھوڑے کے ساتھ ساتھ سنار کی ہتھوڑی بھی رکھنی چاہیے، اور ایسی لکڑی بھی جس کے ساتھ گاجر لٹکائی جا سکے۔

اور اس لیے ہمیں اپنے دیکھے اور ان دیکھے آقاؤں کی ذہانت پر یقین رکھنا چاہیے، اور ان کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے یہ یقین کرنا بہت ہی مشکل ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔