ایان کی درخواست ضمانت پر حکومت، کسٹم کو نوٹس

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2015

ای میل

ماڈل کے وکیل خرم لطیف کھوسہ نےموقف اختیار کیا کہ کسٹم حکام نے ان کی موکلہ کو  منی لانڈرنگ کے جھوٹے الزمات کے تحت گرفتار کیا—۔فائل فوٹو/ آئی این پی
ماڈل کے وکیل خرم لطیف کھوسہ نےموقف اختیار کیا کہ کسٹم حکام نے ان کی موکلہ کو منی لانڈرنگ کے جھوٹے الزمات کے تحت گرفتار کیا—۔فائل فوٹو/ آئی این پی

لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار فیشن ماڈل ایان علی کی درخواست ضمانت پر وفاقی حکومت اور کسٹم حکام کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس انوار الحق اور جسٹس ارشد محمود تبسم پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو ایان علی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی اور مدعین کو اگلے ہفتے تک کے لیے نوٹسز جاری کردیئے۔

ایان علی کے وکیل ایڈووکیٹ خرم لطیف کھوسہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسٹم حکام نے ایان علی کو منی لانڈرنگ کے جھوٹے الزمات کے تحت گرفتار کیا۔

ماڈل کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی موکلہ بغیر کسی وجہ کے گزشتہ 4 ماہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں، جبکہ کسٹم ایکٹ کے مطابق اگر ملزم کوئی خاتون ہو اور تفتیش مکمل ہوگئی ہو تو انھیں ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے۔

ایان علی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ ان کی موکلہ ایک خاتون ہیں اور تفتیش مکمل ہوگئی ہے لہذا عدالت سے درخواست ہے کہ انھیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔

مزید پڑھیں:ایان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

سپر ماڈل ایان علی کو رواں برس 14 مارچ کو اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب دورانِ چیکنگ ان کے سامان میں سے 5 لاکھ امریکی ڈالر برآمد ہوئے تھے۔

ایان کی درخواست ضمانت راولپنڈی کی کسٹم عدالت اور لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مسترد کی جاچکی ہیں۔

بعد ازاں ایان علی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی، جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ماڈل کی درخواست ضمانت کی سماعت کے لیے دو رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔