کراچی میں زمینوں پر قبضے کی تحقیقات شروع

اپ ڈیٹ جولائ 26 2015

ای میل

کراچی میں سوک سینٹر پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفاتر کا داخلی راستہ۔ —. فائل فوٹو پی پی آئی
کراچی میں سوک سینٹر پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفاتر کا داخلی راستہ۔ —. فائل فوٹو پی پی آئی

کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے افسران کے بیانات قلمبند کرنا شروع کر دیئے۔

دوسری جانب سندھ رینجرز کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ سوک سینڑکے لینڈ ڈپارٹمنٹ پر چھاپہ کی کمانڈ ایف آئی اے نے کی تھی، رینجرز اہلکار سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : رینجرز اور ایف آئی اے کا سوک سینٹر پر چھاپہ

ڈان نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کے ڈی اے کے دفتر پر چھاپے انکروچمنٹ سیل کے اعلی افسر سمیت کئی حکام سے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایف آئی اے نے کے ڈی اے افسروں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیل بھی جمع کرنا شروع کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لینڈ ڈپارٹمنٹ کے افسران کے اثاثہ جات بھی چیک کیے جا رہے ہیں۔

آپریشن کی کمانڈ ایف آئی اے نے کی

دوسری جانب رینجرز نے چھاپے کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے جس میں ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سوک سینڑ کے لینڈ ڈپارٹمنٹ میں چھاپے کی کمانڈ ایف آئی اے نے کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : رینجرز کے دعووں کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم

ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران رینجرز اہلکاروں نے صرف سیکیورٹی فراہم کی تھی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل نصف شب کو رینجرز اور ایف آئی اے نے کراچی میں سوک سینٹر پر چھاپہ مار کر زمینوں کا ریکارڈ قبضے میں لیا تھا۔

ایف آئی اے ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ چھاپہ زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے مارا گیا۔

ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ وفاقی حکومت کے اداروں سے تعلق رکھنے والی 700 سے 800 ایکڑ زمین قابل اعتراض طریقے سے نجی افراد کو دی گئیں۔

سوک سینٹر پر پہلا چھاپہ: 'رینجرز نے موسم پر تبادلہ خیال کیا تھا'

واضح رہے کہ ایک ماہ قبل بھی رینجرز نے سوک سینٹر پر چھاپہ مارا تھا جس کے بعد سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زداری، سندھ کے وزیر اعلی سید قائم علی شاہ اور سینٹر فرحت اللہ بابر نے اس کارروائی پر شدید تنقید کی تھی۔