کریئر کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2015

ای میل

اگر آپ نے وہ مضامین پڑھے ہیں جن میں آپ کی کوئی دلچسپی نہیں تھی تو آپ کی ناکامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ — Reuters/File
اگر آپ نے وہ مضامین پڑھے ہیں جن میں آپ کی کوئی دلچسپی نہیں تھی تو آپ کی ناکامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ — Reuters/File

کچھ دن قبل میں نے پاکستان کے ایجوکیشن سسٹم پر ایک بلاگ لکھا، جس میں ایک قاری نے اپنی رائے دی جس کا آغاز کچھ یوں تھا کہ "یہاں بندہ کیا کرے، سوچتا وہ ساری عمر کچھ اور ہے، کرتا کچھ اور ہے، اور ہوتا اس کے ساتھ کچھ اور ہے۔ یہ پاکستان ہے!!!"۔ یہ رائے پڑھ کر میں ٹھٹک گیا کیونکہ یہ وہ اذیت ناک سچ ہے جس سے ہماری قوم کے بیشتر نوجوان گزرتے ہیں اور ان کے خواب یوں ہی بکھر جاتے ہیں۔ اگر ہم اس کی تہہ میں جائیں تو ہمیں اس کے بے شمار عوامل نظر آئیں گے، ان میں سے ایک اہم وجہ نوجوان طلبہ کی مناسب کریئر کونسلنگ کی کمی بھی ہے، جس کی ایک مثال میں خود بھی ہوں۔

جب میں 7 کلاس میں تھا تو میں نے ٹائم میگزین میں ایک خارجہ امور کے تجزیہ نگار کا انٹرویو پڑھا جو بل کلنٹن کے لیے تقاریر لکھا کرتا تھا۔ میں اس وقت اس سے کافی متاثر ہوا اور تہیہ کیا کہ مجھے بھی بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کرنا ہے، اور خارجہ امور کا تجزیہ نگار یا صحافی بننا ہے۔ یہاں تک کہ میں میٹرک میں پہنچ گیا۔ تب میں نے دو اور فیصلے کیے: ایک یہ کہ میں نے کمپیوٹر سائنس کے حوالے سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کرنی، اور دوسرا فنانس کے حوالے سے کوئی جاب نہیں کرنی، کیونکہ دونوں سے مجھے خدا واسطے کا بیر تھا۔

میٹرک کے بعد جب میں نے آرٹس میں انٹرمیڈیٹ کرنے کا اعلان کیا تو مجھے ایسے لگا جیسے میں نے تعلیم چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہر طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ والدین، دوستوں، اور عزیز و اقارب نے اپنے اپنے تئیں بہت سمجھایا اور مجھے آرٹس پڑھنے کی وجہ سے آنے والی مشکلات کے بارے میں بھی بہت بھیانک تصویر کشی کر کے دکھائی۔ ایک دوست تو اتنے جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر آرٹس پڑھو گے، تو نہ تو جاب ملے گی اور نہ ہی شادی ہو سکے گی۔

اتنی مخالفت کے بعد آرٹس پڑھنے کا خیال دل سے نکال دیا اور سائنس کے ساتھ انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لے لیا اور سوچا کوئی بات نہیں، گریجویشن کے بعد ماسٹرز بین الاقوامی تعلقات میں کر لوں گا، لہٰذا خاموشی اور انتہائی بد دلی کے ساتھ بی ایس سی کا امتحان اچھے گریڈ میں پاس کر لیا، اور فوراً بین الاقوامی تعلقات اور دیگر سوشل سائنس میں داخلے کے لیے درخواست دے دی، لیکن شومئی قسمت یونیورسٹی نے یہ کہ کر داخلہ دینے سے انکار کر دیا کہ بین الاقوامی تعلقات میں صرف آرٹس والوں کو داخلہ دیا جائے گا۔ جہاں یہ بات میرے لیے انتہائی پریشان کن تھی، وہیں میرے والدین کے لیے باعثِ اطمینان بھی، لہٰذا فوری طور پر ایک ایسے مضمون کے انتخاب کے لیے کوششیں شروع ہو گئیں، جس کی جاب مارکیٹ میں زیادہ ڈیمانڈ ہو اور یہ قرعہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نام نکلا کیونکہ اس وقت آئی ٹی کا دور تھا۔

پڑھیے: میڈیا چینلز کی بھیڑ چال میں آج کی اہم ضرورت

آئی ٹی کے دو سال میں نے کیسے گزارے، وہ ایک اذیت ناک تجربہ ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک شاعر سے شاعری کے بجائے کمپیوٹر پروگرامنگ کروائی جائے۔ ماسٹرز کر کے جب جاب کی تلاش میں مارکیٹ میں آیا تو اس بات کا احساس ہوا کہ خالی آئی ٹی کی ڈگری لینے سے جاب نہیں مل سکتی کیونکہ کمپیوٹر سائنس میں آپ کو ڈگری کے ساتھ ساتھ دیگر ہنر اور اس میں رجحان کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو مجھ میں مکمل طور پر ناپید تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ میرے ساتھ والے سب طلبہ کو جاب مل گئی اور میں بیروزگار رہا۔

جب کہیں جاب نہ ملی تو سب کے مشورے سے بینک میں اپلائی کر دیا جہاں سے آفر لیٹر بھی آگیا۔ ایک بار پھر میٹرک میں خود سے کیا وعدہ یاد آیا کہ کچھ بھی ہو فنانس سیکٹر میں جاب نہیں کرنی، لیکن آفر لیٹر مجبوری میں قبول کیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پھر بینک میں پوری محنت سے کام کیا، لیکن یہ خلش پوری زندگی رہے گی کہ اگر میٹرک کے بعد آرٹس پڑھی ہوتی اور پھر بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہوتا تو آج یقیناً اپنی پسند کی جاب کر رہا ہوتا اور کہیں زیادہ کامیاب ہوتا کیونکہ آپ اپنی محنت سے ایک مقام خاص حد تک تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس میں پرفیکشن تب ہی آتی ہے جب آپ کا اس میں رجحان اور لگاؤ بھی ہو اور وہی آپ کی زندگی کا مقصد بھی-

یوں میری زندگی کے یہ دو غلط فیصلے مجھے میری زندگی کے مقصد سے دور لے گئے۔ ایسی ہی بے شمار مثالوں سے ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔ ہمارے ہاں طلبہ کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک وہ جو بہت محنتی اور ذہین ہوتے ہیں، ان کو زبردستی سائنس پڑھائی جاتی ہے۔ دوسرے وہ طلبہ ہوتے ہیں، جو قدرے متوسط ذہنی استعداد کے حامل ہوتے ہیں، انہیں کامرس کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں، اور جو طلبہ پڑھائی میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے ان کی قسمت میں آرٹس پڑھنا آ جاتا ہے اور یہ سوچے سمجھے بغیر والدین یا بڑے بہن بھائی زبردستی مضامین کا انتخاب کر کے انہیں وہ مضامین پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں جن میں ان کا کوئی رجحان نہیں ہوتا۔

اگر آپ نے اپنی پسند اور رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے مضامین کا انتخاب کیا ہے اور اس سے جڑا ہوا کریئر ہی آپ کی زندگی کا مقصد ہے تو کوئی بھی آپ کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتا، اور آپ اپنا مقصد ضرور حاصل کرتے ہیں۔

پڑھیے: کریئر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں

لیکن اس کے برخلاف اگر آپ نے وہ مضامین پڑھے جن میں آپ کی کوئی دلچسپی نہیں تھی تو آپ کی ناکامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یاد رکھیے، خودی سے آگاہی ایک بہت بڑی کامیابی ہے، اور اگر آپ نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اپنی طاقت کا اندازہ لگا لیا، اور اس ٹیلنٹ کو صحیح انداز میں استعمال کرنے کا فن سیکھ لیا، تو کامیابی آپ کا مقدر بن جائے گی ورنہ دوسری صورت میں اپ کی مثال ایک ایسی کشتی کی ہوگی جو ہوا کے دوش پر ہچکولے کھاتی کبھی یہاں جاتی ہے تو کبھی وہاں۔

میرے ذاتی خیال میں کوئی بھی طالب علم نالائق نہیں ہوتا۔ وہ نالائق تب تک ہوتا ہے جب تک اسے اس کی مرضی کے برخلاف تعلیم دی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں مناسب کریئر کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ غلط تعلیمی فیصلے کرتے ہیں اور غلط کریئر کا انتخاب کر کے اپنی زندگیاں برباد کر لیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سرپرستی میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کی سطح پر باقاعدہ کریئر کونسلر تعینات کیے جائیں، جو بچوں کے ذہنی رجحان کو دیکھتے ہوئے انہیں مناسب مشورے دے سکیں، ورنہ پاکستان کا یہی حال رہے گا کہ بجلی گھر تعمیر ہو نہیں رہے، لیکن الیکٹریکل انجینیئر ہر سال ہزاروں کی تعداد میں تیار ہو رہے ہیں، جو ملکی خزانے پر بوجھ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔