بندر کے ہاتھ میں استرا

اپ ڈیٹ 24 اگست 2015

ای میل

لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔
لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔

زمانہء قدیم میں معمولی جرائم میں ملوث پائے گئے لوگوں کو لکڑی کے اسٹاکس، جن میں سر اور ہاتھوں کے باہر نکلنے کے لیے خانے بنے ہوتے تھے، میں جکڑ کر چوک پر کھڑا کر دیا جاتا تھا تاکہ آنے جانے والے ان کا مذاق اڑائیں۔ چین کے ثقافتی انقلاب کے دوران سرخ سپاہی نظریاتی دشمنوں کی پریڈ کرواتے، ان کے گلے میں پلے کارڈز ڈالتے، اور بلند آواز میں ان کے جرائم دہراتے۔ ان تمام سزاؤں کا مقصد درد پہنچانے کے بجائے بے عزت کرنا اور دوسروں کو خبردار کرنا ہوتا تھا۔

خوش قسمتی سے ہم نے اب بہت ترقی کر لی ہے، اور اب اس طرح کی حقیقی سزاؤں کے بجائے ہم انٹرنیٹ پر ہی ہتکِ عزت کر لیتے ہیں، جبکہ سرخ سپاہی بھی پہلے کے مقابلے میں اب لاکھوں کروڑوں ہیں۔

سوشل میڈیا پر بے عزت کرنے کے دور میں خوش آمدید۔ اب آپ فیس بک یا ٹوئٹر پر جو بھی پوسٹ کرتے ہیں اسے آپ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور کیا جائے گا تاکہ ہمارے اجتماعی غصے کی تسکین اور تفریح کا سامان پیدا ہوسکے۔ اس میں نہ ہی حدود کا خیال رکھا جاتا ہے، اور نہ ہی تناظر کا۔

یہی چیز ایک نوجوان نے چند دن پہلے سیکھی۔ ہری پور میں پی ٹی آئی کو شکست کے بعد ریحام خان کے بیٹے ساحر نے ٹوئٹر پر 'پاکستانی عوام' کے بارے میں چند ناپسندیدہ خیالات کا اظہار کیا۔ ٹوئیٹ کم علمی پر مبنی جبکہ اشتعال انگیز تھی، مگر 70 فیصد کے قریب ٹوئیٹس ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔ چند ہی لمحوں میں غصے سے بھرے ہوئے ٹوئٹر صارفین کے جتھوں کے جتھے ان کی ٹائم لائن پر آنا شروع ہوگئے۔

پھر ٹوئٹری جاسوسوں نے اس کی چند سال قبل کی ٹوئیٹس کھوج نکالیں جب وہ پی ٹی آئی کے کچھ خاص حامی نہیں تھے اور یوں یہ لوگ خوش ہوگئے کیونکہ انہیں 'بے نقاب' کرنے کے لیے ایک اور 'منافق' مل گیا تھا۔ چند ٹوئیٹس ساحر نے ڈیلیٹ کر دیں، لیکن آپ جو بھی چیز آن لائن پوسٹ کرتے ہیں اس کا اسکرین شاٹ لیا جا سکتا ہے اور لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ ان کے پچھلے خیالات اب تبدیل ہو چکے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے ہی ان کی بات مانی۔ "کیا لوگ وقت کے ساتھ اپنے ذہن اور اپنے خیالات بھی تبدیل کر سکتے ہیں؟ یہ تو پاگل پن ہے۔"

حال ہی میں ایک امریکی پبلک ریلیشنز ایگزیکٹو جسٹین ساکو کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا ہوا۔ جنوبی افریقہ جانے سے قبل انہوں نے اپنے 170 کے قریب ٹوئٹر فالوورز کے لیے ایڈز سے متاثر ہونے کے بارے میں ایک بہت ہی نسل پرستانہ اور غیر مضحکہ خیز لطیفہ لکھ چھوڑا۔ جب وہ اپنی منزل پر پہنچیں تو ان کے لیے بیسیوں ہزار جوابات (زیادہ تر گالم گلوچ سے بھرپور) انتظار کر رہے تھے۔ ان جوابات میں کہیں کہیں موت کی دھمکی بھی تھی تو انہیں ملازمت سے فارغ کیے جانے کے مطالبات بھی، جس پر عمل کیا گیا۔ کیا ان کی ٹوئیٹ اشتعال انگیز تھی؟ ہاں۔ کیا کم علمی پر مبنی تھی؟ بلاشبہ۔ کیا وہ اس بات کی مستحق تھیں کہ سوشل میڈیا پر عوامی غصے اور شہہ سرخیوں میں آنے کی وجہ سے ان کا کریئر عملی طور پر ختم کردیا جائے؟ بالکل نہیں۔ یہ پاگل پن کی ایک واضح مثال ہے۔

چند دن قبل 14 اگست کی ایک ویڈیو، جس میں ایک لڑکے کو راہگیر عورت کے ساتھ نامناسب حرکات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، عوام میں پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر جو شور اٹھا، وہ جائز تھا لیکن ایک فیس بک پیج نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ایک لڑکے کی شناخت اور فون نمبر جاری کر دیے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یا تو انہوں (فیس بک پیج) نے یہ غلطی سے کیا، یا پھر جان بوجھ کر وہ عوامی غصہ ایک ہدف کی طرف موڑنا چاہتے تھے۔ اب اس لڑکے نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے ہیں کیونکہ وہ لاکھوں لوگ اسے دھمکیوں سے نواز رہے ہیں جن کے نزدیک انٹرنیٹ پر موجود معلومات غلط ہو ہی نہیں سکتیں۔ یہ تو پاگل پن ہے۔

ہاں ایسے لوگ ضرور موجود ہیں جن کے ساتھ ایسا کیا جانا چاہیے، لیکن یہ سب کچھ ایک اخلاقی فریم ورک میں ہونا چاہیے۔ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی موقع پر کوئی نہ کوئی فضول بات کہتا ہے یا ایسی کوئی حرکت کرتا ہے۔ اس کی وجہ غصہ ہو سکتا ہے، لاعلمی ہوسکتی ہے، یا صرف یہ کہ ہمیں اپنے خراب دن کی بھڑاس نکالنی ہوتی ہے۔ تصور کریں کہ وہ تمام باتیں ریکارڈ کی جائیں اور انہیں وقت آنے پر آپ کے خلاف استعمال کیا جائے۔ کیا آپ اس سے نمٹ سکیں گے؟ کیا آپ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کو ایسی صورتحال میں ڈالا جائے؟

اگر ہم اسی طرح اپنا ہر لفظ ناپ تول کر استعمال کریں کہ کہیں کسی عام طور پر درست تسلیم کی گئی بات کے خلاف کچھ نہ کہہ دیں، کسی کو کچھ برا نہ لگ جائے اور ہمارے خلاف سوشل میڈیا مہم نہ شروع ہوجائے، تو ایک ایسی دنیا وجود میں آئے گی جہاں سوشل میڈیا پوسٹس بچکانہ ہوا کریں گی۔ اور یہ واقعی پاگل پن ہوگا۔

انگلش میں پڑھیں.

یہ مضمون ڈان اخبار میں 24 اگست 2015 کو شائع ہوا.

لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔