جیکب آباد: ماتمی جلوس میں دھماکا، 24 ہلاک

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2015

ای میل

جائے وقوع کا ایک منظر—رائٹرز۔
جائے وقوع کا ایک منظر—رائٹرز۔

کراچی: سندھ کے شہر جیکب آباد میں ایک ماتمی جلوس کے دوران دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور چار بچوں سمیت کم از کم 24افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں.

ڈان نیوز کے مطابق دھماکا جیکب آباد کے لاشاری محلے میں نو محرم کے جلوس میں ہوا.

ڈان سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی جیکب آباد ظفر اقبال نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے جائے وقوع سے ایک لاش کا نچلہ حصہ برآمد کیا ہے جو ممکنہ طور پر خود کش بمبار کا ہوسکتا ہے.

ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ ڈاکٹر حسن مراد شاہ نے کہا کہ جیکب آباد ضلع کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ اردگرد کے اضلاع سے بھی ایمبولینسز کو طلب کرلیا گیا ہے.

پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر جائے وقوع کو گھیرے میں لیکر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جبکہ زخمیوں کو سول اسپتال اور امام میڈیکل سینٹر جیکب آباد منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے.

دھماکے کے بعد سندھ-بلوچستان سرحد کو سیل جبکہ رینجرز اور پولیس کو تعینات کردیا گیا ہے.

خیال رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع بولان میں ایک امام بارگاہ کے باہر مبینہ خود کش حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے تھے.

اس سے قبل پیر کو کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں دو بچوں سمیت 11 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے.

دھماکے کے بعد ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بارودی مواد بس کی چھت کے پچھلے حصے میں رکھا گیا تھا، جس کے پھٹنے سے مسافر بس تباہ ہوئی۔

دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف نے جیکب آباد میں دھماکے کی مذمت کی ہے جبکہ انہوں نے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور غمزدہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا.