تھوڑی سی چوری ووری

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2015

ای میل

چاکلیٹس فروخت کے لیے رکھی ہیں لیکن ان کی قیمت ادا کرنا آپ کے ضمیر کا امتحان ہے۔ — تصویر بشکریہ لکھاری۔
چاکلیٹس فروخت کے لیے رکھی ہیں لیکن ان کی قیمت ادا کرنا آپ کے ضمیر کا امتحان ہے۔ — تصویر بشکریہ لکھاری۔
سڑک کنارے ایک میز پر پھل رکھے ہیں۔ — تصویر بشکریہ لکھاری۔
سڑک کنارے ایک میز پر پھل رکھے ہیں۔ — تصویر بشکریہ لکھاری۔

ڈنمارک کے دیہی علاقوں میں اکثر کسان اپنی مصنوعات فروخت کے لیے سڑک کے کنارے رکھ دیتے ہیں اور ساتھ میں ایک چھوٹا سا بکس جس میں روپے ڈالے جا سکتے ہیں، اور قیمت کے متعلق معلومات والا ایک بورڈ، یعنی آپ چیز پسند کریں، اپنی جیب سے پیسے نکالیں اور اس بکس میں ڈال دیں۔

میں نے کئی دفعہ اس قسم کی خوشگوار خریداری کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ پچھلے دنوں کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ایک شعبے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک کمرہ جسے کھانے کا کمرہ کہا جا سکتا ہے، اس میں مشروبات کے فریج کے ساتھ بھی قیمت کا ایک نوٹس لگا دیکھا، ساتھ ہی میز پرپڑی چاکلیٹ اور اس کے ساتھ ایک نوٹس، "براہِ مہربانی قیمت ادا کرنا نہ بھولیں۔"

اپنے شہر کی لائبریری سے کئی دفعہ پرنٹ لینے کا اتفاق ہوا۔ وہاں بھی ایک نوٹس لگا دیکھا کہ فی پرنٹ ایک کرون، اور قیمت لائبریری کاؤنٹر پر ادا کریں۔ کاونٹر پر جا کر بتائیں کہ پانچ پرنٹ ہیں اور یہ لیجیے پانچ کرون۔ میں جس جم میں کبھی کبھی ورزش کے لیے جاتا ہوں، وہاں پر شام پانچ بجے کے بعد کوئی نہیں ہوتا۔ آپ اپنے کارڈ کو اسکین کر کے اندر چلے جاتے ہیں، اور اندر جم والوں کی بہت سی مصنوعات جیسے جم کے بیگ، جوتے وغیرہ بیچنے کی غرض سے الماریوں میں سجے ہوتے ہیں اور ایسی الماریوں میں جن کا کوئی تالا نہیں ہوتا۔

ایسی درجنوں مثالوں سے آئے روز واسطہ پڑتا ہے، جن کو دیکھ کر اپنے انسان ہونے کا خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ ایسی روشن مثالوں سے ہمارے مذہب کی تاریخ بھی بھری ہوئی ہے۔ ہم جو کبھی بنا عیب بتائے اشیاء فروخت نہ کرتے تھے، اپنے منافع کی جائز حد کو خود طے کرنے کے قابل تھے۔ لیکن اگر ہم اپنے آج کو اس کسوٹی پر پرکھیں تو ہمارا معاشرہ مذہب کا جھنڈا پکڑے اپنے نفس کی بنائی ہوئی دنیا میں آباد ہے۔ ہماری تجارت اور تاجر صرف نماز روزے کو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں۔

میں اس معاملے کو ذرا اور کھودتا ہوں۔ پاکستانی ہونے کے ناطے میرا دل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہم بے ایمان، جھوٹے اور دغا باز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ایسی معمولی چیزیں کوئی بیچتا ہی نہیں، یعنی اگر آپ کے پاس کوئی دو چار کلو آلو یا مٹر ہیں تو آپ اس کو بیچیں گے ہی نہیں، کسی کو تحفہ دے دیں گے، یا اگر تحفہ نہیں دیں گے تو لوگ خود ہی تحفہ وصول کرلیں گے، آپ کو بتا کر آپ کی مرضی کے خلاف آپ کی اگائی ہوئی مصنوعات اٹھا لے جائیں گے اور آپ احتجاج کرتے رہ جائیں گے۔

میں اس میں مذہب کو نہیں اپنے معاشرے کو الزام دیتا ہوں، لیکن کیا اس طرح کی ہٹ دھرمی اور ایک طرح کی چوری ہی ہمارا کلچر اور ہمارے معاشرے اور ہماری قوم کی پہچان بن کر رہ گئی ہے؟ پھر میں سوچتا ہوں کہ دیکھیے صاحب، چوری ضرورت کا نام ہے، ضرورت ختم ہو جائے تو چوری ختم ہو جاتی ہے۔ اب ہمارے معاشروں میں لوگوں کی بنیادی ضروریات ہی پوری نہیں ہو پاتیں تو بیچارے اگر کھانے کی چیزیں کہیں سے بلا اجازت لے لیتے ہیں تو برا کیا ہے؟ اور اب مہذب معاشروں میں بنیادی ضروریات کا مسئلہ نہیں رہا اس لیے ان کا اور ہمارا تقابل بنتا ہی نہیں۔

لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں جہاں ضروریات بھی رستے کی دیوار نہیں وہاں بھی لوگ چور کیوں ہیں؟ کیا اچھی تنخواہ لینے والے اور اچھے گھروں میں رہنے والے سمجھ میں نہ آنے والی چوریوں میں ملوث نہیں؟ دفتر سے کاغذ چوری کر کے گھر میں استعمال کرنا، بچوں کے یا ذاتی استعمال کے پرنٹس اور فوٹوکاپیاں دفتر کے پرنٹر سے کرنا، ٹی بیگ یا خشک دودھ اٹھا لانا، سرکار کی کار پر بچے ڈھونا، ایمبولینسوں اور یونیورسٹیوں کی پوائنٹ بسوں پر بارات لے جانا، اور درجنوں مثالیں ہیں جن میں ہمارا پڑھا لکھا طبقہ 'مال مفت دل بے رحم' کے مصداق اس چوری کو اپنا حق سمجھ کر کرتا ہے۔

اس پر بھی میں قائل نہیں ہوں کہ ان معمولی اشیاء کے ادھر ادھر ہو جانے پر میں اپنے ملک کے پڑھے لکھے طبقے پر چوری کا ہی الزام لگا ڈالوں۔ یورپ میں گھر اور دفتر میں ایک تفریق ہوتی ہے۔ چھٹی والے دن آپ کا افسر آپ کو کام پر نہیں بلا سکتا، حتیٰ کہ دفتری وقت کے ختم ہونے پر آپ کا افسر آپ کو کال بھی نہیں کرسکتا اور ہمارے ہاں جب ایک دفعہ آپ کہیں ملازم ہو گئے، تو آپ سوتے جاگتے، دفتر میں اور دفتر سے باہر سیٹھ کے ملازم ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا کام کتاب کی پروف ریڈنگ ہو لیکن افسر کی گاڑی خراب ہونے کی صورت میں اس کو ورکشاپ لے جانے والے بھی آپ ہوں گے، اس لیے ایسے دفتر سے کچھ کاغذ اٹھا بھی لیے جائیں تو کیا مضائقہ ہے؟

پھر میں سوچتا ہوں چلیے کچھ کم تعلیم یافتہ لوگ تو ایسا کر لیتے ہوں گے، لیکن ہمارے ملک کے دانشور راستے سے بھٹکے ہوئے کیوں ہیں؟ کیوں یہ ٹولیوں میں بٹے ہوئے ہیں، اپنی دلیل کے زور پر کم فہم لوگوں کو کسی سرمایہ دار کے زیر نگیں کرنے پر مصر ہیں؟ کیوںکہ ان کو صرف اپنے ہی پیٹ کی فکر ہے؟ پھر میں کہتا ہوں ایک زندگی لگا کر جن لوگوں نے سبق سیکھا ہو کہ اس معاشرے میں آگے بڑھنے کا راستہ یہی ہے، تو بیچارے کیوں نہ اس راستے کو اپنائیں؟ حاکمِ وقت کے خیالوں سے متفق ہونے کا ثمر ہی نزولِ نعمت کا پیش خیمہ ہے، تو مشکل راستے کا انتخاب کیوں کیا جائے؟

چلیے چھوڑیے کیا کسی مسجد میں بھی چندے کا ڈبہ محفوظ ہے؟ کسی کسان کی عیدِ قربان کے لیے پالی ہوئی بھیڑ بکری نہیں اٹھا لی جائے گی؟ ہم اپنے دفتروں سے لوگوں کو اعتبار دینے کے ایک سلسلے کا آغاز کر سکتے ہیں؟ لیکن پھر سوچتا ہوں جس ملک میں مزدور لکڑی کے ایک ڈبے سے بھی سستا ہو، وہاں لکڑی کا ایک ڈبہ رکھنے کی بھی کیا ضرورت ہے۔