رام داس کدم کارانگ نمبر

04 دسمبر 2015

ای میل

ویسے تو ہندو دھرم میں سانپوں کی بہت قدر کی جاتی ہے اور انھیں ’’ناگ دیوتا‘‘ کا سمان دیا جاتا ہے۔ ہندو دھرم میں سانپ کو جو درجہ اور مرتبہ حاصل ہے ہماری معلومات کے مطابق کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔اکثر مندروں میں سانپ کے بُت موجود ہوتے ہیں ۔

کراچی کے دریا لال مندر کی بالائی فصیل پر چالیس سانپوں کی شبیہیں بنی ہوئی ہیں ۔مندر کے پجاری جے کمار کے مطابق یہ سانپ مندر کے دربان ہیں، جو ہر آنے والے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

ہندوستان میں اس وقت مذہبی جنون کو ایک مخصوص گروہ نے بڑھاوا دیاہے۔وہ خود کو سب سے سچا اور مخلص ہندو سمجھتے ہیں،لیکن ہمیں اس وقت حیرت ہوئی جب گذشتہ دنوں انڈین ریاست مہارشٹراکے وزیر ماحولیات رام داس کدم نے اپنے ایک بیان میں انڈین فلم انڈسٹری کے نامور اداکار وں دلیپ کمار ، شاہ رخ خان اور عامر خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر چہ ہم نے دلیپ کمار ، شاہ رخ خان اور عامر خان کو بہت محبتیں دیں لیکن ان کے بیانات سے ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے سانپوں کو پالا ہے ‘‘۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ رام دس کدم مہارشٹرا کے وزیر ماحولیات ہیں، انھیں اس بات کا قطعاًکوئی ا نداز نہیں کہ ہندو سماج اور ماحولیات کو برقرار رکھنے کے لیے سانپوں کا کیا کردار ہے ۔ سانپ ہندو درھرم میں ایک دیوتا کی حیثیت رکھتا ہے اور ہندو برداری سے وابستہ افراد ’’ناگ پنچمی ‘‘کا تیوہار (تہوار) مناتے ہیں۔

منشی رام پرشادماتھر اپنی کتاب ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت ، مطبوع 1942میں لکھتے ہیں کہ "عموماً ہر جان دار اسی وقت ستاتا ہے جب وہ بھوکا ہو یا دب جائے اسی لیے ناگ پنچمی پر بعض لوگ ساپنوں کو دودھ پلادیتے ہیں تاکہ وہ سیر ہو کر اپنا راستہ لیں اور کسی کو نہ ستائیں اس کے علاوہ عام طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ ساپنوں کی صرف چند قسم زہریلی ہوتی ہیں باقی سب قسم انسانوں کے واسطے عموماً اور کسان کے واسطے خصوصاً بہت مفید ہیں کیوں کہ یہ چوہوں کو جو مکانات کے سامان اور کھیتوں کے اناج کو تباہ کر ڈالتے ہیں ، ان کے بلِ کے اندر جا کر کھا جاتے ہیں اور سامان اور اناج کی حفاظت کا باعث ہوتے ہیں لیکن اور کوئی نقصان نہیں پہنچاتے ۔ "

"سانپ یا ناگ فطرت کا ایک حصہ ہیں اور فطرت سے بغاوت ممکن نہیں ۔ اگر سانپوں کا اصل کردار دیکھا جائے تو وہ یہ ہے کہ انسانوں کو اناج زیادہ سے زیادہ فراہم کیا جا سکے ۔ موجودہ دور میں وہ لوگ جنھیں سانپوں کی افادیت اور اہمیت کے حوالے سے کوئی بھی معلومات نہیں ہے وہ فضلوں کے لیے جراثیم کش ادویات کے استعمال کے ساتھ ساتھ سانپوں کو بھی مار دیتے ہیں۔ "

ماحولیات کے وزیر کو کم از کم اس بات کا ادراک ضرور ہونا چاہیے کہ سانپ اس وقت ہی انسانوں کو ڈستے ہیں جب انھیں تنگ کیا جائے ۔ ہمارا خیال ہے کہ رام داس کدم کو اس حوالے سے معلومات بلکل نہیں ہے ۔ یہ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دلیپ کمار، شاہ رخ خان اور عامر خان کو سانپوں سے تشبیہ دی ۔

راجہ راجیسور راؤ اصغر کی مرتب کردہ ہندی اردو لغت میں سانپ یا ناگ کے بارے میں جو تشریح کی گئی ہے وہ کچھ یوں ہے ۔ ’’ناگ ‘‘کشیپ منی کی زوجہ (کدرو) کے بیٹے جن کی شکل سانپوں کی سی ہوتی ہے ۔ جو پاتال میں رہتے ہیں اور دیوتا کہلاتے ہیں۔ ’’ناگ پنچمی ‘‘ساون سدی پنچمی جس روز سانپ کی پوجا کی جاتی ہے ۔ نسیم اللغات میں درج ہے کہ ناگ پنچمی ہندوؤں کا تہوار جو بھادوں میں ہوتا ہے اور ہندو اس روز سانپ کو پوجتے اور دودھ پلاتے ہیں۔

منشی رام پرشاد ماتھر کے مطابق ناگ ایک قوم کا نام بھی تھا اور ستھیاوالوں کے قومی نشان پر سانپ کی تصویر ہوتی تھی۔ ہندووں کے عقیدہ کے بموجب سانپ دشمن انسان باعث موت ہے۔ مہادیوجی کے جسم پر سانپ لپٹے ہوئے فناکی علامت ظاہر کرتے ہیں اوربشنو(وشنو) بھگوان کی سواری گرڑپر ندکی ہے جو ساپنوں کو کھا جاتا ہے ۔ بعض قوموں میں ناگ پنچمی کے روز بھی تصاویر بنائی جاتی ہیں ان میں زیادہ تر حشرات الارض کی شکلیں ہوتی ہیں۔ یہ لڑکیوں کا بھی تیوہار(تہوار) ہے اور وہ اس روز نئی گڑیوں سے کھیلتی ہیں اور بعض جگہ لڑکے گڑیوں کو پیٹتے ہیں ۔ اب ناگ پنچمی کے متلق خیالات ملاخط فرمائیے ۔

بعض کہتے ہیں کہ چوں کہ سمندر میں سانپوں کی ایک رسی بنائی گئی تھی جس کے باعث چودہ جواہرات سمندر سے نکلے تھے اور مہادیوجی نے زہر پینے کے بعد اپنے جسم پر سانپ لپیٹنے کے باعث زہر کی گرمی سے کسی قدر نجات حاصل کی تھی ۔ اس لیے یہ تیوہار (تہوار) بطور یادگار منایا جاتا ہے ۔ سانپ کے جسم کا نصف حصہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔

بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ سانپ زہریلی ہوا کھینچ کر اپنے جسم میں جذب کرلیتے ہیں۔ جہاں کالے ناگ رہتے ہیں وہاں کبھی کبھی خزانے بھی ملتے ہیں۔ شری متی راج دلاری سالہ مان سروور میں لکھتی ہیں کہ یہ تیوہار (تہوار) شیش ناگ کی بہن منسادیوی کے نام پر ہوتا ہے ۔ یہ دیوی سنہری رنگت والی نہایت خوبصورت ہے اور کمل کے پھول پر پالتی مارے بیٹھی ہے اس کے تمام بدن پر سانپ لپٹے ہیں کہتے ہیں ا س کو سانپ کا زہر دور کرنے میں خاص دسترس ہے ۔ ممالک متوسط میں اس دیوی کو کوئی نہیں جانتا ۔ شمالی ہند کے بعض مقامات پر یہ تیوہار (تہوار) ساڑھ میں منایا جاتا ہے۔

بعض لوگوں کی رائے ہے یہ تیوہار(تہوار) سوجہ سے منایا جاتا ہے کہ اس روز ستی جی مہادیوجی سے عرصہ کی مہاجرت کے بعد ملی تھیں اس خوشی میں انھوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اس روز دعا مانگے گا وہ قبول ہو گی۔ مہاراشٹرمیں اسکو شرن گوری پوچا کہتے ہیں۔ اس روز ایودھیاور مرزا پور میں جھولا جھولنا شروع ہوتا ہے اور گیارہ دن تک رہتا ہے ۔

انڈیا میں ایک شہر کا نام ’’ناگ پور ‘‘ہے انڈین کشمیر کے ایک علاقے کانام ’’اننت ناگ ‘‘ہے اسی طرح ناگ سے متعلق نام بھی رکھے جاتے ہیں مثلاً ناگ پال اور کئی ایسے نام ۔ لیکن اس بات کا بلکل اندازہ نہیں کہ یہ نام ناگ یا سانپ کے حوالے سے ہیں یا کسی قومیت یا نسل کے حوالے سے ۔ دریاؤں کی بل کھاتی راہوں کو بھی سانپ یا ناگ سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔

اگر انڈین فلم انڈسٹری میں بننے والی 70اور80کی دہائی میں بننے والی فلموں کا جائزہ لیا گیا تو ان میں سے اکثر کامیاب فلموں کا موضوع سانپ ہی ہوتا ہے ۔ وہ اکثر ہیرو کو اس وقت مدد فراہم کرتا ہے جب وہ کسی بہت بڑے مشکل میں پھنسا ہوا ہوتا ہے ۔ سانپ وشنو بھگوان سواری ہے جب کہ شیوبھگوان کے گلے کا ہار بھی ہے ۔

ہندوستان اور پاکستان کے بے شمار مندروں میں ناگ دیوتا کی پوجا کی جاتی ہے اور اسے تقدس کا درجہ حاصل ہے ۔ وزیر ماحولیات رام داس کدم نے انڈین فلم انڈسٹری کے نامور اداکاروں دلیپ کمار، شاہ رخ خان اور عامر خان پر تنقید کرتے ہوئے انھیں آستین کا سانپ قرار دیا ہے. انھوں نے دلیپ کمار کی اس قربانی کو بھی فراموش کردیا کہ وہ یوسف خان سے دلیپ کمار بنے تھے۔ انہوں نے یہ بھی فراموش کردیا کہ شاہ رخ خان کی بیوی ہندو ہے اور ان کے گھر میں عید، ہولی ، دیوالی کی تقریبات ایک ہی طرح سے منائی جاتیں ہیں۔

چلیں اسے بھی چھوڑیں عامر خان کی فلم پی کے جس نے انڈیا میں ریکارڈ بزنس کیا۔ اس فلم کے حوالے سے ایک اصطلاح جو بہت زیادہ مشہور ہوئی وہ تھی رانگ نمبر کی ، لگتا ہے رام داس کدم نے رانگ نمبر ڈائل کردیا۔