عسکریت پسندی کے خلاف جنگ، ہم کہاں کھڑے ہیں؟

01 جنوری 2016

جیسا کہ پاکستان میں سال 2015 کا سورج ہمارے شمال مغربی قبائیلی علاقوں میں غروب ہوچکا ہے تاہم یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ملک میں اگر عسکریت پسندی ختم نہیں ہوئی تو ہم کہا ہیں اور ہم کہا کھڑے ہیں؟

اگر سال 2008 کی صورت حال کا جائزہ لیں، جب عسکریت پسندوں کے سربراہ بیت اللہ محسود نے سوات امن معاہدے کی خلاف ورزی اور سوات کے شمالی ضلع میں فوجی آپریشن کی حمایت کرنے پر پختون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو مستعفی ہونے یا نتائج کے لیے تیار رہنے کا پانچ روزہ الٹی میٹم دیا تھا۔

اس کے بعد سال 2009 کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے جب عسکریت پسندی اور دہشت گردی اپنے عروج پر تھی۔ خیبر پختون خوا میں ریاست کی رٹ کم ہو کر صرف 38 فیصد رہ گئی تھی۔

عسکریت پسندوں کی ہٹ لسٹ پر سرفہرست جماعت اے این پی اپنی حکومت کی سیٹ صوبے کے شمالی شہر ایبٹ آباد کی جانب منتقل کرنے کا سوچ رہی تھی۔ فاٹا تقریبا ہاتھ سے نکل چکا تھا اور خیبر پختون خوا نکلنے ہی والا تھا۔

ادھر تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات میں سال 2015 میں خیبر پختون خوا میں اب حکومت کی رٹ 100 فیصد تک قائم ہوچکی ہے تاہم فاٹا کے مجموعی طور پر 27000 مربع کلومیٹر کے علاقے میں 1373 مربع کلومیٹر کا علاقہ کلیئر کروایا جانا باقی ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ علاقے جہاں ابھی کام جاری ہے ان میں شمالی وزیرستان کے علاقے شوال اور دتہ خیل جبکہ خیبر پختون خوا کا علاقہ راجگل شامل ہے۔ یہ علاقے عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں نہیں ہے تاہم وہ سرحد پار سے کارروائیوں اور بم دھماکوں تک محدود ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختون خوا کے کچھ اضلاع میں عسکریت پسندوں نے سلیپر سیلز کی مدد سے ٹارگٹ کلنگ اور بھتے کا دوبارہ آغاز کیا ہے جس میں حالیہ چند مہینوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تاہم پولیس کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال 2015 کے پہلے تین ماہ میں دہشت گردی کے واقعات کم ہو کر 160 اور ان کی تعداد جولائی سے سمتبر میں مزید کم ہو کر 73 ہوگئی۔

سال 2015 میں خیبرپختون خوا کے آباد اضلاع میں 1536 انٹیلی جنس بیس آپریشن کیے گئے ہیں جن میں 6470 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، لیکن دہشت گردی کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق روزانہ 10 سے 11 دہشت گردی کے خطرات کا اندیشہ رہتا ہے۔ سال 2015 کے پہلے تین ماہ (جنوری سے مارچ) کے دوران 256 خطرات کا اندیشہ تھا جوسال کے آخری تین میں ماہ میں کم ہو کر 226 رہ گئے (لیکن اس میں کچھ اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے) اور سال کے درمیانی حصے میں یہ کم ہو کر 178 ہوگئے تھے۔

خیبر پختون خوا اور فاٹا میں سیکیورٹی کے حوالے سے بہت تبدیلی آئیں ہیں۔ امن کے قیام کے لیے آپریشن ضرب عضب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

لیکن جیسا کہ آج جمعہ کے روز سال نو کا پہلا سورج طلوع ہوا ہے تو ہمارے ذہنوں میں یہ سوال اب بھی موجود ہیں کہ، کیا 2015 میں حاصل ہونے والی کامیابیاں 2016 میں بھی جاری رہے گی؟ اور کیا امن برقرار رہے گا یا یہ عارضی ہے؟

تاہم قومی حوالے سے مجموعی صورت حال میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے جبکہ نئے سال میں رونما ہونے والے واقعات ہی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے حوالے سے مستقبل کا تعین کرسکیں گے۔

یہ خبر یکم جنوری 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں