پروفیسر حامد کے دہشت گردوں سے مقابلے کی داستان

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2016

ای میل

اسسٹنٹ پروفیسر سید حامد حسین— ڈان نیوز فوٹو
اسسٹنٹ پروفیسر سید حامد حسین— ڈان نیوز فوٹو

چارسدہ: باچا خان یونیورسٹی حملے میں اپنے شاگردوں کو بچانے کی کوشش میں جان قربان کرنے والے کیمسٹری کے استاد کو 'شہید' اور 'جنٹلمین' جیسے القاب کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

بدھ کی صبح جب طالبان نے حملہ کیا تو یونیورسٹی میں کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر سید حامد حسین نے اپنے شاگردوں کوکمرے میں ہی رہنے کا حکم دیا۔

ان کے طالبعلموں نے بتایا کہ حامد حسین نے کیسے موقت سے قبل طالبان کو فائرنگ کے ذریعے مصروف رکھا جس کی وجہ سے انہیں جان بچانے کے لیے وقت ملا۔

ایک طالب علم نے رپورٹرز کو بتایا کہ انہوں نے تین دہشت گردوں کو 'اللہ اکبر' کے نعرے بلند کرتے ہوئے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑیوں کی جانب بڑھتے دیکھا۔ 'ایک طالب علم نے کھڑکی سے کمرے سے باہر چھلانگ لگا دی۔ ہم نے اسے پھر اٹھتے نہیں دیکھا ۔'

طالبعلم نے بتایا کہ اس نے حامد حسین کو پستول اٹھائے دہشت گردوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ اس کا کہنا تھا کہ 'پھر وہ (حامد حسین) نیچے گر گئے اور دہشت گرد جیسے ہی(رجسٹرار) آفس میں داخل ہوئے ہم وہاں سے بھاگ گئے۔'

جیولوجی کے طالب علم ظہور احمد نے بتایا کہ جیسے ہی پہلی گولی چلنے کی آواز آئی تو حامد حسین نے اسے کمرے سے باہر نکلنے سے منع کیا ۔

طالبعلم کے مطابق اس نے حامد حسین کو گولی لگتے ہوئے اور دو دہشت گردوں کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ 'میں اندر بھاگا اور پھر پیچھے کی دیوار کو عبور کرتے ہوئے بھاگنے میں کامیاب ہوا۔'

سوشیالوجی کے ایک طالبعلم نے حامد حسین کو 'قابل قدر اور بڑا انسان 'قرار دیتے ہوئے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دہشت گردوں نے براہ راست ان پر فائرنگ کی ۔

پروفیسر حامد حسین کو ٹوئٹر پر بھی بڑے پیمانے پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور صحافی اور استاد رضا احمد رومی نے ایک ٹوئیٹ میں پروفیسر حامد کو 'شہید تعلیم' قرار دیا۔

صدر مملکت ممنون حسین نے پروفیسر سید حامد حسین کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے خاندان کے ساتھ اظہار افسوس کیا۔

پاک فوج نے کئی گھنٹے کے آپریشن کے بعد یونیورسٹی کو کلیئر قرار دے دیا جب کہ پولیس کے مطابق اس حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔

فوج کے مطابق آپریشن کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کیاگیا تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ ہلاک ہونے والے 20 افراد میں دہشت گرد بھی شمار کیے گئے ہیں یا نہیں۔

یاد رہے کہ 2014 میں پشاور کےآرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد خیبر پختونخوا میں تدریسی عملے کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی گئی تھی ۔

تاہم یونیورسٹی کی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے عملے کے پاس اسلحہ کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ شدت پسندوں سے لڑنا اساتذہ کام نہیں ہے۔