میں پاکستان میں رہنے والے یہودیوں کے لیے کچھ کر تو نہیں سکتا، خصوصاً ان کے قبرستانوں کے لیے، ہاں مگر جس طرح سبھی مذہبی برادریوں اور قومیتیوں میں موجود دلچسپ چیزوں اور ان کے تاریخی مقامات کے بارے میں لکھتا رہتا ہوں، ویسے ہی ان کے بارے میں بھی لکھ سکتا ہوں۔

اگر آپ ہمارے مستقل قاری ہیں تو آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصے قبل ہم نے یہودیوں کی مسجد اور قبرستان کے حوالے سے لکھا تھا۔ اس کے بعد فیس بک پر ایک پاکستانی یہودی نوجوان نے ہمیں ایک طویل فہرست ارسال کی جس میں کراچی میں بسنے والے یہودیوں کے نام تھے اور وہ ان کی بابت جاننا چاہتے تھے، خصوصاً ان کی قبروں کے کتبوں کے حوالے سے۔

ہم نے اس سے صرفِ نظر کیا کیونکہ ہمارا کام لکھنا ہے اور نشاندہی کرنا ہے، باقی کام ضروری نہیں کہ ہم ہی کریں۔ یہ ایک مذہبی، سماجی اور تاریخی ورثے کا معاملہ ہے اور ایسے ورثوں کی دیکھ بھال کے لیے ادارے موجود ہیں، لیکن یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ یہودیوں کے قبرستان کو اس حوالے سے کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

خیر بات آئی گئی ہوگئی، لیکن ہماری حیرانگی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب ہمیں ایک نامانوس نمبر سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ہم ایک طویل عرصے سے انسانی حقوق کمیشن پاکستان سے وابستہ ہیں اور انجان نمبرز سے اکثر کالز موصول ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے ہم نے اپنا ایک اصول بنا لیا ہے کہ معلوم نمبر سے آنے والی کال اٹینڈ کریں یا نہ کریں لیکن نامعلوم نمبر سے آنے والی کال ضرور اٹینڈ کرتے ہیں اور اٹینڈ نہ کر پائیں تو جوابی کال ضرور کرتے ہیں۔ کچھ عرصے قبل ہمیں ایک کال موصول ہوئی۔ نمبر خاصا طویل تھا لہٰذا یقیناً یہ پاکستان کا نمبر نہیں تھا۔ فون پر گفتگو یوں ہوئی۔

کالر: کیسے ہیں؟

ہم: جی ٹھیک ہوں، مگر آپ کون؟

کالر: ارے اختر بھائی میں 'ع'.

ہم: ع کون؟

ع: حضور آپ کا یونیورسٹی میں جونیئر تھا۔

ہم: ہاں یاد آیا... بولو خیر تو ہے؟

ع: یار وہ آپ نے یہودیوں کے قبرستان اور مسجد پر کچھ لکھا ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قبرستان کی صورت حال خاصی خراب ہے۔

ہم: ہاں ہاں

ع: تو کیا اس قبرستان میں جھاڑیوں وغیرہ کی صفائی ہو سکتی ہے؟

ہم: کیوں نہیں۔

ع: تو آپ یہ کروا سکتے ہیں؟

ہم: میں کیسے کرواؤں؟

ع: یار اختر بھائی کوشش تو کریں۔ پیسے آپ کو مل جائیں گے۔ باقی کام آپ خود کروا لیں۔

ہم: میں قبرستان کی نگران خاتون کے بیٹے کا نمبر بھیج دوں گا، اس سے بات کرو۔ وہ یہ کام کردے گا۔

ع: آپ نہیں کریں گے؟

ہم: یار سمجھا کرو، میں نہیں کرسکتا۔ ویسے ایک بات بتاؤ اس قبرستان میں تمہاری دلچسپی کیا؟

ع: (زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے) اختر بھائی ویسے تو لوگ تمہیں بہت ہی ہوشیار مؤرخ سمجھتے ہیں جو سندھ اور خصوصاً کراچی میں بسنے والے غیر مسلموں کے بارے میں نا صرف تحقیق کرتا ہے بلکہ لکھتا بھی ہے، اور آپ کو میرا پتہ ہی نہیں۔

ہم: نہیں نہیں کچھ تو بتاؤ؟

ع: بھائی میں اور میرا ننھیال یہودی ہیں۔ میری نانی اسرائیل منتقل ہونے سے قبل آخری یہودی خاتون تھیں جو اس قبرستان کا خیال رکھتی تھیں۔ اگر یقین نہ آئے تو قبرستان کی نگران خاتون سے پوچھ لینا اور ہاں ایک قبرستان اور بھی ہے یہودیوں کا کراچی میں، وہ بھی ڈھونڈ نکالو تو پھر مزا آئے گا۔

ہم: یہ تو میں کر لوں گا لیکن یار بات ہضم نہیں ہو رہی۔

ع: اختر بھائی آپ تو ریسرچ کے آدمی ہو، ڈھونڈو گے تو مل ہی جائے گا۔ اچھا کم از کم اتنا تو کر دیں کہ کچھ قبروں کی تصویریں بھیج دیں تاکہ وہ میں اپنی کمیونٹی کے ساتھ شیئر کر سکوں، شاید ان قبروں میں ان کے پیاروں کی قبریں ہوں۔ اگر وہ پاکستان نہیں آسکتے تو کیا ہوا کم از کم ان کے کسی رشتے دار کے کتبے کی تصویر ان کے لیے ایک یادگار ہوگی جسے وہ محفوظ کر سکتے ہیں۔“

ابھی کچھ دن قبل یہودی قبرستان جانے کا موقع مل گیا تھا، لیکن وقت کم تھا چنانچہ میں نے کچھ قبروں کے کتبوں کی تصویریں بنا لیں جو آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ اور ہاں میں ایک اور یہودی قبرستان بھی گیا تھا لیکن اس میں قبروں کے کتبے نہیں ہیں۔ اس قبرستان کا ذکر پھر کسی بلاگ میں کریں گے۔ فی الحال یہودیوں کے قبرستان کی حالت اور وہاں کی قبروں پر لگے کتبوں کی بات کرتے ہیں۔

یہودیوں کی قبروں پر لگے ہوئے کتبوں کے بارے میں ایک دلچسپ بات ہمیں اپنے بھتیجے محسن سومرو نے بتائی کہ ان کتبوں پر صرف عمر نہیں لکھی ہوئی ہوتی بلکہ مہینے اور دن بھی لکھے ہوتے ہیں۔ یہ ایک اور دلچسپ چیز تھی۔ مثلاً ایک کتبے پر تحریر ہے کہ:

موزس سولومن میدھیکر

سنِ پیدائش 12 نومبر 1855

عمر 70 سال 11 مہینے 5 دن

انتقال 17 اکتوبر 1926

یہودیوں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ صرف کراچی تک محدود تھے، لیکن یہودی قبرستان کے ایک کتبے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ کراچی کے علاوہ بھی سندھ کے دیگر شہروں میں خدمات انجام دیتے تھے۔ ایک قبر حیدرآباد کے سول ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر ایلیزر جیکب بھوراپکر کی بھی ہے، جن کا سالِ پیدائش 1850 اور وفات 1922 کی ہے. اسی طرح سے ایک قبر کراچی کی یہودی برادری کے نائب صدر ابراہام ریوبن کمار لیکر کی ہے.

پاکستان میں یہودیوں کی موجودگی اور پھر اچانک پراسرار طور پر غائب ہوجانے کے حوالے سے بہت سی کہانیاں گردش میں رہی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہودیوں کی پاکستان میں موجودگی کے معاملے کو شہرت ڈان میں شائع ہونے والے ہمارے بلاگ "کراچی کی یہودی مسجد“ سے حاصل ہوئی۔

ہم نے پوری کوشش کی تھی کہ کراچی میں یہودیوں کے قبرستان اور ان کی آبادی کے بارے میں مکمل معلومات دیں۔ ہم اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔ لیکن بلاگ چھپنے کے تقریباً دو سال بعد مختلف ٹی وی چینلز نے یہودی قبرستان کی کراچی میں موجودگی کے حوالے سے "انکشافات" شروع کر دیے۔ لیکن صاحب بات وہی ہے 90 سیکنڈ کی اسٹوری میں 1866 سے 1951 تک کی تقریباً 90 برسوں کی تاریخ کو نہیں سمیٹا جا سکتا، اور اس برادری کی تقسیم سے پہلے اور بعد کراچی میں موجودگی، یہاں ان کا رہن سہن اور ان کے یہاں سے جانے کے واقعات نہایت تحقیق طلب ہیں، جن پر بات کرنے میں شاید ہی کسی کو دلچسپی ہے.