پانی کی کمی سے مرتب ہونے والے 7 جسمانی اثرات

30 جنوری 2016

ای میل

— کریٹیو کامنز فوٹو
— کریٹیو کامنز فوٹو

پانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے، اور اس کی کمی پورے جسم پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔

اور جسم میں پانی کی کمی کے لیے بہت زیادہ دوڑنے کی بھی ضرورت نہیں، کافی دیر تک پانی نہ پینا ہی جسم میں اس کی کمی کا باعث بن جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ایک خاتون کے جسم میں پانی کی مجموعی مقدار 38 سے 45 لیٹر جبکہ ایک مرد میں 42 سے 48 لیٹر تک ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ وقت کے لیے پانی کی کمی کا مطلب ہے کہ آپ کے پورے جسم کا توازن بگڑ جائے۔

یہاں پانی کی کمی کے ایسے ہی اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔

جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا مشکل

آپ کی معمولی سی سرگرمی بھی جسم میں حرارت پیدا کرتی ہے مگر ہمارا بنیادی درجہ حرارت مستحکم رہتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جسم مختلف عمل جیسے پسینہ خارج کرکے درجہ حرارت کو مستحکم رکھتا ہے مگر جب آپ پانی کی کمی کا شکار ہو تو پسینہ خارج ہی نہیں ہوتا اور اس کا مطلب ہے کہ جسم کو ٹھنڈا کرنے کا میکنزم بھی درست طریقے سے کام نہیں کرپاتا اور وہ حرارت جسم میں قید ہوکر درجہ حرارت کو بڑھانے لگتی ہے۔

پسینہ خارج ہونا رک جاتا ہے

اگر جسم میں پانی کی کمی ہوجائے تو اس کے اندر پسینے اور پٹھوں میں خون کی سپلائی کے لیے مناسب مقدار میں سیال نہیں ہوتا تو وہ اپنے کچھ کاموں کو بند کرنا شروع کردیتا ہے۔ اگر آپ کا جسم اعضاءتک خون کی سپلائی کی کوشش کرے گا تو پسینہ خارج ہونا رک جائے گا۔ اگر پانی کی کمی کو پورا نہ کیا جائے تو وہ خون کی شریانوں کو ہی بند کرنا شروع کردیتا ہے مگر ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔

دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے

انسانی جسم کا 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے اور اس کا بڑا ذخیرہ خون کی صورت میں ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جسم میں پانی کی کمی کی صورت میں خون کا والیوم گھٹنے لگتا ہے مگر ہمارا دل خون پمپ کرنے کا کام اسی رفتار سے جاری رکھتا ہے تاکہ اعضاءکو معمول پر رکھا جاسکے۔ اپنی کی کمی کے باعث دل کا کام مشکل ہوجاتا ہے اور جب وہ کمی پورا نہیں کرپاتا تو مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دماغی صلاحیت میں کمی

کبھی چیزیں بھولنے لگتے ہیں، الجھن کے شکار اور دماغ میں دھند چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور پھر اچانک احساس ہوتا ہے کہ آپ تو پیاسے ہیں؟ ہمارے دماغ پانی کی کمی کو پسند نہیں کرتا اور ایسا ہونے کی صورت میں دماغ کے کچھ حصوں کا حجم گھٹنے کا امکان ہوتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق مردوں اور خواتین میں ایسا ہونے کی صورت میں مختلف طریقے سے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے خواتین چڑچڑی ہوجاتی ہیں، کام کرنا مشکل ہوتا ہے اور سردرد ہونے لگتا ہے۔ اس کے مقالبے میں مرد تناﺅ، خوف اور تھکان محسوس کرنے لگتے ہیں جبکہ ان کی یاداشت بھی متاثر ہوتی ہے۔

نمکیات کی کمی

اگر آپ نے کافی دیر سے پانی نہیں پیا اور اتنی دیر پسنیہ بہتا رہا تو اس بات کے پورے امکانات ہیں کہ جسم کو نمکیات کی کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

بدبو دار سانسیں

کسی مصروف دن میں پانی پینا ہوسکتا ہے آپ بھول جائیں مگر دن کے اختتام پر ہوسکتا ہے کہ آپ دیکھیں جب بھی آپ کا منہ کھلتا ہے تو لوگ دور ہٹ جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی سے سانس میں بو پیدا ہوسکتی ہے جس کی وجہ یہ تھوک میں اہم اینٹی بیکٹریل خصوصیات ہوتی ہیں اور پانی کی کمی کی صورت میں منہ میں لعاب دہن کی مقدار کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں بیکٹریا پھیلنے لگتے ہیں اور سانس میں بو پیدا ہوجاتی ہے۔

جلد خشک ہونا

اگر تو آپ اپنی جلد کو صحت مند اور چمکدار رکھنا چاہتے ہیں تو مناسب مقدار میں پانی پینا نہ بھولیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کے نتیجے میں جلد کی نمی بھی ختم ہونے لگتی ہے اور وہ خشک ہوکر پھٹنا شروع ہوجاتی ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔