'پہلے گاتی تو بیٹیوں کی شادی نہ ہوتی'

اپ ڈیٹ 23 فروری 2016

ای میل

مائی دھائی—۔فوٹو/ بشکریہ مائی دھائی فیس بک پیج
مائی دھائی—۔فوٹو/ بشکریہ مائی دھائی فیس بک پیج

سندھ کے صحرائی علاقے عمر کوٹ میں جب ہم مٹی سے بنے ہوئے ایک گھر میں داخل ہوئے تو مائی دھائی کی آواز میں تھر کے ایک مخصوص گیت نے ہمارا استقبال کیا، خوبصورتی سے سجے ڈھول کو بھی مائی دھائی خود ہی بجا رہی تھیں.

مائی دھائی نے گذشتہ برس کوک اسٹودیو سیزن 8 میں اپنے 2 گانوں کی وجہ سے عالمگیر شہرت حاصل کی.

ہندوستانی ریاست راجھستان کے ضلع بارمر میں پیدا ہونے والی مائی دھائی نے گائیکی کا فن اپنی والدہ خند بائی سے وراثت میں پایا.

ان کی والدہ ہندوستانی صحرا کی ایک نامور لوک گلوکارہ تھیں، جو شادی بیاہ اور خوشی غمی کے موقع پر گیت گایا گرتی تھیں، اس فن کو ان کی بیٹی مائی دھائی ہجرت کے بعد پاکستان لے آئیں.

مائی دھائی کی کہانی کی ابتداء

زیادہ تر تھری لوگوں کی طرح مائی دھائی کو بھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کا خاندان ہندوستان سے ہجرت کرکے کب پاکستان منتقل ہوا، واضح رہے کہ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد سے 1965 تک ہندوستان سے لوگ پاکستان ہجرت کرتے رہے تھے.

مائی دھائی نے بتایا کہ بچپن میں وہ اپنی والدہ کے ہمراہ 'اپنے تھر میں' مقامی شادیوں میں جایا کرتی تھی، جہاں ان کی والدہ گیت گایا کرتی تھیں، اس طرح وہاں کے تمام گیت اور دھنیں ان کے ذہن میں نقش ہیں.

مائی ڈھاگی، جو اپنا نام بھی لکھنا نہیں جانتیں، اتنی سادہ ہیں کہ وہ تھر کو صرف 'اپنا تھر' کہتی ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ تھر پاکستان کا یا ہے یا سرحد پار کا.

اور ویسے بھی سرحدوں کی تقسیم نے یہاں کے لوگوں پر کچھ زیادہ اثر نہیں ڈالا کیونکہ دونوں طرف کی ثقافت قریباً یکساں ہی ہے.

مائی دھائی—۔فوٹو/ بشکریہ مائی دھائی فیس بک پیج
مائی دھائی—۔فوٹو/ بشکریہ مائی دھائی فیس بک پیج

مائی دھائی، مسلمان گلوگار برادری منگھار سے تعلق رکھتی ہیں، جو سرحد کی دونوں جانب موجود ہے اور اپنی مخصوص روایات اور ثقافت کو برقرار رکھے ہوئے ہے.

عمر کوٹ میں مقیم مائی دھائی نے تھر کی محب الوطن ہیروئن ماروی کے گائے ہوئے تمام گیتوں کو لازوال بنا دیا ہے.

منگھار، پاکستان اور ہندوستان کے صحراؤں میں لوگ گیتوں کے امین سمجھے جاتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سرحدوں میں تقسیم ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، یہ ایک دوسرے کی شادیوں یا خوشی کے مواقعوں پر جاتے ہیں اور اس تقریب کی مناسبت سے تیار کیے گئے لوگ گیت گاتے ہیں.

ان کا معاوضہ دو صورتوں میں ہوتا ہے، نقد رقم یا جانور یا پھر فصل کی کٹائی کے موقع پر باجرے کی تھوڑی سی مقدار اور اس تھوڑی سی مدد کی وجہ سے یہاں کے سیکڑوں روایتی لوگ گیت محفوظ ہیں.

بدقسمتی سے پاکستان میں یہ روایت اب دم توڑتی جارہی ہے اور اس کمیونٹی کے لوگوں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ شہروں کی طرف منتقل ہوجائیں اور اپنی گزر بسر کے لیے دوسری ملازمتیں تلاش کریں.

لیکن مائی دھائی اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انھیں عمرکوٹ کے شاعر اور سیاستدان سردار شاہ نے متعارف کروایا، ان کا کہنا تھا، 'تھر میں مائی دھائی جیسے کئی پھول (فنکار) موجود ہیں، خوش قسمتی سے صحرا میں کھلنے کے باوجود ان کی خوشو ضائع نہیں ہوئی'.

حقیقیت میں مرحوم سندھی شاعر اور ٹی وی پروڈیوسر حسن درس ہی وہ شخص تھے، جنھوں نے مائی دھائی کو سردار شاہ کے آباؤاجداد کے مزار پر گاتے ہوئے سنا اور انھیں حیدرآباد لے آئے.

مائی دھائی کے بڑے بیٹے محرم فقیر کے مطابق حسن درس کا کہنا تھا کہ مائی ایک دن نیویارک میں بھی پرفارم کریں گی اور یہ خواب اُس وقت پورا ہوا جب مائی دھائی نے گذشتہ برس مارچ میں نیویارک کی سٹی یونیورسٹی میں اپنے فن کا جادو جگایا.

نیویارک میں مقیم ایک صحافی حسن مجتبیٰ کے مطابق 'اگرچہ تھر اور راجھستان میں بولی جانے والی مارواڑی زبان بہت سے پاکستانیوں کو بھی سمجھ نہیں آتی، لیکن مائی دھائی کے انگریزی بولنے والے امریکی فینز محبت کی اس زبان پر جھوم رہے تھے، وہ مائی کے گیت، دھن اور ان کے ڈھول کی تھاپ کا مقابلہ امریکی گلوکاروں ٹینا ٹرنر اور بیٹی لیویٹے سے کر رہے تھے.'

مائی دھائی—۔فوٹو/ بشکریہ مائی دھائی فیس بک پیج
مائی دھائی—۔فوٹو/ بشکریہ مائی دھائی فیس بک پیج

ایک قومی سطح کی گلوکارہ کہلانے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مائی دھائی کی آنکھوں میں آنسو آگئے. انھوں نے بتایا، 'میرے نام کا مطلب ہے، ۔وہ جس نے کھانا کھا لیا ہو۔، لیکن قمست کی ستم ظریفی یہ ہے کہ مجھے اپنی زیادہ تر زندگی میں وافر مقدار مں کھانا نہیں ملا'۔

'تھر میں ہم منگھاروں کو بن بلائے لوگ سمجھا جاتا تھا لیکن اب لوگ پہلے مجھے بلاتے ہیں اور پھر میں وہاں جاتی ہوں، ایک تھری کے لیے یہ گزربسر کا ایک بہترین ذریعہ ہے.'

لیکن افسوس کے ساتھ کہ 72 سالہ مائی دھائی موسیقی کی اس صنف سے منسلک آخری خاتون ہیں، ان کا کہنا تھا، 'ہمارے قبیلے میں بہت سی لڑکیان ہیں، جو اچھا گا سکتی ہیں لیکن سمای دباؤ کی وجہ سے باہر جاکر اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کرسکتیں'.

واضح رہے کہ مائی دھائی گذشتہ 4 دہائیوں سے اس فن سے منسلک ہیں، لیکن انھوں نے بھی عوامی سطح پر گائیکی کا آغاز بہت دیر سے کیا.

مائی نے بتایا، 'میری برادری کے قریباً ہر شخص نے میرے عوامی سطح پر گانے کی مخالفت کی، اگر میں پہلے ہی عوامی سطح پر گانا شروع کردیتی تو کوئی میری بیٹیوں سے شادی نہیں کرتا اوریہی وجہ تھی کہ میں تھر میں پرفارم کرتے وقت گھونگھٹ نکالا کرتی تھی'.

3 دہائیوں قبل مائی بھاگی کے انتقال کے بعد سے مائی ڈھاگی تھرپارکر کی پہلی خاتون گلوگارہ ہیں.

واپسی کے سفر میں عمر کوٹ کے قلعے کو دیکھتے ہوئے یہی سوچ دماغ میں آئی کہ اگر قلعے کی دیواروں اور صحرا کے گیتوں کو محفوظ نہ کیا گیا تو مستقبل قریب میں یہاں لوگوں کا استقبال کرنے والا کوئی نہیں ہوگا.

یہ مضمون 21 فروری 2016 کو ڈان سنڈے میگزین میں شائع ہوا


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔