'دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے دم لیں گے'

اپ ڈیٹ 28 فروری 2016

ای میل

آرمی چیف جنرل راحیل کی شوال میں ہلاک اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت — فوٹو : بشکریہ آئی ایس پی آر
آرمی چیف جنرل راحیل کی شوال میں ہلاک اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت — فوٹو : بشکریہ آئی ایس پی آر
نماز جنازہ میں صوبائی وزراء نے بھی شرکت کی  — فوٹو : بشکریہ آئی ایس پی آر
نماز جنازہ میں صوبائی وزراء نے بھی شرکت کی — فوٹو : بشکریہ آئی ایس پی آر

پشاور: شوال میں ہلاک ہونے پاک فوج کیپٹن عمیر اور دیگر 3 فوجی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

پشاور میں نماز جنازہ میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، صوبائی وزراء اور سینئر فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔

نماز جنازہ پر جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے دہشت گردوں کے خاتمے کےلئے پرعزم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان میں افسر سمیت 4 فوجی اہلکار ہلاک


آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ تمام دہشت گردوں کو ملک بھر کے کونوں سے نکال کر ختم کر دیا جائے گا۔

جنرل راحیل شریف نے مزید کہا کہ جوانوں نے دہشت گردوں کو شوال سے بھاگنے نہیں دیا، دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔

علاوہ ازں آرمی چیف نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کا دورہ کیا جہاں آپریشن میں زخمی جوانوں کی عیادت کی۔

آرمی چیف نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔

خیال رہے کہ پاک-افغان سرحد کے قریب جھڑپ میں چار سیکیورٹی اہلکار اور 19 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

شوال میں نشانہ بننے والے کیپٹن عمیر کی آخری ویڈیو

آئی ایس پی آر نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت کیپٹن عمیر، حوالدار حکیم، سپاہی حمید اور سپاہی راشد بتائی تھی۔

گذشتہ روز ہی جنوبی وزیرستان میں پاکستان فضائیہ کے جیٹ طیاروں کی بمباری سے کم از کم 15 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

قبل ازیں شمالی وزیرستان میں ہی ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا تھے۔

یاد رہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان، جنوبی وزیر ستان سمیت سات ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا۔

حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن 'ضربِ عضب' کا آغاز کیا.

شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا دائرہ کار شمالی وزیرستان کے دور دراز علاقوں تک بڑھایا جس میں فورسز کو بڑی کامیابیاں ملیں۔

دوسری جانب پاک فوج کی جانب سے خیبر ایجنسی میں اکتوبر 2014 میں آپریشن 'خیبر-ون' شروع کیا گیا جبکہ مارچ 2015 میں آپریشن 'خبیر-ٹو' شروع کیا گیا، جو علاقے سے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے بعد ختم کردیا گیا تھا.

یہ بھی پڑھیں : ضرب عضب کا فیصلہ کن مرحلے کے آغاز کی ہدایت

شمالی وزیرستان میں پاک فوج نے جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا جو کہ تاحال جاری ہے البتہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے 3 روز قبل شمالی وزیرستان کے دورے کے موقع پر آپریشن کا آخری مرحلہ شروع کرنے کی ہدیات کی تھی۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جس میں سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ فورسز کو بھی نشانہ بنایا جا رہاہے۔

جس دن آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا تھا اسی روز سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔