اسلام آباد: وزارت داخلہ کی جانب سے دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک اور پریڈ گراؤنڈ میں دھرنے کے شرکاء کو دیا جانے والا دو گھنٹے کا الٹی میٹم ختم ہونے کے باوجود دھرنا جاری ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت پنجاب ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس جاری ہے جس میں دھرنے کی صورت حال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

ادھر ذرائع کے حوالے سے ڈان نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومتی نمائندوں کے ہمراہ علماء کا ایک وفد دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد ڈی چوک پہنچ چکا ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو ڈی چوک پر دھرنے کے شرکاء کے خلاف ممکنہ آپریشن کیلئے الرٹ کردیا گیا ہے جس کے بعد پولیس، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے میڈیکل اسٹاف کو بھی تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئیں ہیں۔

اس سے قبل ڈان اخبار کی رپورٹ میں کیپیٹل پولیس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ 500 سے زائد مظاہرین کو اتوار کی رات قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے جھڑپوں کے دوران گرفتار کیا گیا، جن میں کچھ رہنما بھی شامل ہیں۔ بقیہ گرفتاریاں پیر کو عمل میں آئیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے ڈی چوک اور پریڈ گراؤنڈ میں دھرنے میں شامل افراد کو گرفتار نہیں کیا گیا، لیکن دھرنے سے باہر جانے والے مظاہرین کی گرفتاری عمل میں آئی، (چاہے وہ کسی بنیادی ضرورت کے لیے گئے ہوں یا دھرنا چھوڑ کر گئے ہوں)۔

واضح رہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پنجاب پولیس کے سابق کمانڈو ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تقریباً 2 ہزار مظاہرین نے وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون ایریا ڈی چوک میں دھرنا دے رکھا ہے۔

مزید پڑھیں:پارلیمنٹ کے باہر ممتاز قادری کے حامیوں کا دھرنا

ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار مظاہرین کو کچھ پولیس تھانوں سمیت مختلف مقامات پر رکھا گیا اور بعدازاں انھیں اسلام آباد کے قریبی ضلعوں کی جیلوں میں منتقل کردیا گیا۔

ایک پولیس اہلکار کے مطابق گرفتار شدگان کی جیلوں میں منتقلی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

مذکورہ اہلکار نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ بہت زیادہ تعداد میں گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، لہذا کیپیٹل پولیس پہلے اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ جس جیل میں مظاہرین کو بھیجا جارہا ہے، وہاں جگہ موجود ہے یا نہیں۔

سنی تحریک (ایس ٹی) اور تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں یہ مظاہرین اتوار کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ممتاز قادری کے چلہم میں شرکت کے لیے پہنچے اور بعد ازاں انھوں نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا آغاز کیا۔

یہ مظاہرین تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچے، جہاں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں، پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا جب کہ آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا۔

حکومتی درخواست پر پاک فوج کے دستوں کو بھی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون کی سیکیورٹی کیلئے طلب کرلیا گیا۔

ان مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک ریڈ زون میں دھرنا دے رکھا ہے، ان مطالبات میں ملک میں شریعت کا نفاذ، دہشت گردی اور قتل سمیت مختلف مقدمات میں گرفتار کیے گئے سنی علماء اور رہنماؤں کی غیر مشروط رہائی، ممتاز قادری کو شہید تسلیم کیا جانا، راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قادری کے سیل کو قومی ورثہ قرار دینا اور توہین کے قوانین میں کسی بھی قسم کی ترمیم نہ کیے جانے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

اتوار کی شام سے شروع ہونے والا مذہبی جماعتوں کا احتجاج تاحال جاری ہے، تاہم دھرنے میں شریک افراد کی تعداد گذشتہ روز 10 ہزار سے کم ہو کر 2 ہزار رہ گئی تھی۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔