ہندوستان جانے والی پاکستانی تحقیقاتی ٹیم میں 5 ارکان شامل ہیں — فوٹو : اے ایف پی
ہندوستان جانے والی پاکستانی تحقیقاتی ٹیم میں 5 ارکان شامل ہیں — فوٹو : اے ایف پی

امرتسر: پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لیے جانے والی پاکستانی ٹیم نے پٹھان ایئربیس کا دورہ کیا اور حملے کے حؤالے سے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔

تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو پٹھان کوٹ ایئربیس میں محدود رسائی دی گئی۔

ہندوستان کے اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے امرتسر پہنچی، جہاں سے براستہ سڑک ٹیم کو ایئر بیس تک لے جایا گیا۔

اس موقع پر پولیس نے ایئر بیس کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔

دوسری جانب ہندوستان کی بعض سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کی آمد پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔

ہندوستانی پنجاب کی سب سے بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے ایئر بیس سے کچھ دور احتجاجی مظاہرہ کیا، سیاہ جھنڈے اٹھائے مظاہرین پاکستان کے خفیہ ادارے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کی حکمران جماعت عام آدمی پارٹی (عاپ) کی جانب سے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : پٹھان کوٹ حملہ:پاکستانی تحقیقاتی ٹیم دہلی پہنچ گئی
ٹیم 5 تحقیقات کاروں پر مشتمل ہے — اے ایف پی
ٹیم 5 تحقیقات کاروں پر مشتمل ہے — اے ایف پی

واضح رہے دو روز قبل پاکستان کی 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور سے نئی دہلی پہنچی تھی۔

5 رکنی ٹیم کے سربراہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے چیف ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس محمد طاہر رائے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محمد عظیم ارشد اور سی ٹی ڈی گجرانوالہ کے انویسٹی گیشن آفیسر شاہد تنویر شامل ہیں۔

تصاویر دیکھیں : ہندوستانی ایئر بیس پر حملہ

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد آئی ایس آئی کے پہلے افسر ہیں جو سرکاری سطح پر کسی معاملے میں ہندوستانی فوج کی تنصیبات کا دورہ کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ پاکستانی ٹیم کے پٹھان کوٹ ایئر بیس کے دورے کا انتظام کیا گیا، تاہم اسے ہر مقام تک مکمل رسائی نہ دینے کا فیصلہ ہوا، تفتیشی ٹیم کو ایس پی گورداس پور سمیت 17 زخمیوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے بھی فہرست دی گئی تھی لیکن ہندوستانی حکام نے تمام افراد کے انٹرویو یا بیانات لینے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں : پٹھان کوٹ حملے کے بعد مسعود اظہر 'زیرِ حراست'

واضح رہے کہ گذشتہ روز نئی دہلی میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے صدر دفتر میں پاکستان سے جانے والی ٹیم کو حملے کے حوالے سے اب تک کی تفتیش پر بریفنگ دی گئی۔

یاد رہے کہ 2 جنوری 2016 کو پاکستانی سرحد سے محض 50 کلومیٹر دور پٹھان کوٹ میں ہندوستانی ایئر فورس کے ایئربیس پر دہشت گردی کا حملہ ہوا تھا اور ہندوستانی سیکیورٹی فورسز کے چار روز تک جاری رہنے والے آپریشن میں ہندوستانی فوج کے 7 اہلکار ہلاک جبکہ 6 حملہ آور بھی مارے گئے تھے.

یہ بھی پڑھیں: پٹھان کوٹ حملہ: نیشنل ہائی وے اسکواڈ کا کردار؟

اس حملے کی ذمہ داری کشمیری علیحدگی پسند گروہوں کے اتحاد یونائیٹڈ جہاد کونسل (یو جے سی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا.

دوسری جانب ہندوستان نے الزام لگایا تھا کہ دہشت گردوں کے سہولت کار پاکستان میں موجود ہیں، جبکہ کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو پٹھان کوٹ ایئربیس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ مسعود اظہر کے بھائی رؤف اور دیگر پانچ افراد بھی حملے میں ملوث تھے۔

یہ بھی پڑھیں : پٹھان کوٹ حملے بعد پاکستان میں جیش محمد کے دفاترسیل

اس سلسلے میں پاکستان کو چند فون نمبرز بھی فراہم کیے گئے جس پر پاکستان نے ہندوستان کو تحقیقات کی یقین دہانی کرائی اور فراہم کی گئی معلومات کی بنا پر پاکستانی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کیا۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔