دھماکے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا—۔ڈان نیوز
دھماکے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا—۔ڈان نیوز

مرادن: صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں واقع ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 18 زخمی ہوگئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) فیصل شہزاد نے بتایا کہ دھماکا خودکش تھا، جس میں 8 سے 10 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے میں 18 افراد زخمی ہوئے، جنھیں مردان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

امدادی ٹیمیں بھی فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچیں—۔ڈان نیوز
امدادی ٹیمیں بھی فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچیں—۔ڈان نیوز

پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد عمارت کے اندر کچھ دہشت گرد گھس گئے اور انھوں نے فائرنگ شروع کردی.

دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں جبکہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکھٹے کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس مردان کے کینٹ ایریا میں مال روڈ پر واقع ہے، جو کافی گنجان آباد ہے اور یہاں لوگ اچھی خاصی تعداد میں موجود ہوتے ہیں. اس علاقے میں اس سے قبل بھی کئی دھماکے ہوچکے ہیں۔

دھماکے کے مقام کا نقشہ—۔
دھماکے کے مقام کا نقشہ—۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ برس 29 دسمبر کو بھی ضلع مردان میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفتر کے باہر خود کش بم دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کم ازکم 21 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں:مردان : خودکش دھماکے میں 26 افراد ہلاک

نادرا دفتر کے باہر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدہ ہونے والے گروپ جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا.

دوسری جانب، ٹی ٹی پی کی جانب سے واقعہ کی مذمت کی گئی اور کالعدم تنظیم کے ترجمان محمد خراسانی نے اپنے بیان میں کہا ’عوامی مقامات پر دھماکوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں‘۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے بھی طالبان کی جانب سے مذمت کی تصدیق کی تھی.


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں