ملا اختر منصور پر ڈرون حملہ: 'امریکا نے آگاہ کیا تھا'

اپ ڈیٹ مئ 22 2016

ای میل

اسلام آباد: پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رہنما ملا اختر منصور پر کیے جانے والے ڈرون حملے سے قبل امریکا نے معلومات کا تبادلہ کیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کے مطابق واقعے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی شناخت محمد اعظم کے نام سے ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کی شناخت کی تصدیق کی کوشش کی جارہی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ڈرون حملے سے متعلق معلومات آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نواز شریف سے شیئر کی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ڈرون حملہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی تھا اور امریکا کے ساتھ ماضی میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

اس سے قبل ملا منصور اختر کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان کو میڈیا کے ذریعے اس حوالے سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ’افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور ہلاک‘

امریکا کے فضائی حملے پر نفیس زکریا نے مزید کہا کہ اس حوالے سے پاکستان نے وضاحت طلب کر لی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصولوں پر مبنی موقف ہے کہ طالبان کو پرتشدد کاروائیاں ترک کرکے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔

انہوں نے پاکستانی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں فوجی کاروائی مسئلے کا حل نہیں۔

دوسری جانب امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو ٹیلی فون پر ڈرون حملے سے متعلق آگاہ کر دیا گیا تھا۔

اس حملے میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جا رہاہے۔

جان کیری کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی صدر کی ہدایت پر کیے گئے حملے سے افغانستان کی قیادت کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ قبل ازیں یہ رپورٹس سامنے آئی تھی کہ پاک افغان سرحد پر امریکی خفیہ طیارے کے حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے دو روز قبل امریکا، چین، پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے تھے جس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے معاملے کر زیر بحث لایا گیا۔

ڈرون حملے کے حوالے سے امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ جان کیری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس عمل سے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ امریکا افغانستان میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ ایک پر امن، متحدہ اور محفوظ افغانستان کے لیے اپنا کام جاری رکھے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملا اختر منصور افغانستان میں قیام امن کے خطرہ تھا، افغان عوام طویل عرصے سے بدامنی کا شکار ہیں، افغان طالبان کے امیر نے امن عمل اور مذاکرات کا واضح انکار کیا تھا۔

علاوہ ازیں افغان حکام نے بھی ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے مطابق ملا اختر منصور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنے۔

افغان خبر رساں ادارے خاما پریس کی رپورٹ کے مطابق این ڈی ایس نے مزید کہا کہ ملا اختر منصور کی طویل عرصے سے نگرانی کی جا رہی تھی، ہفتے کے روز سہ پہر 3:45 پر دالبندین میں نشانہ بنایا گیا۔

خاما پریس نے اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ملا اختر منصور کو بلوچستان میں ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں فضائی حملے کی تو تصدیق کی تاہم یہ بھی کہا گیا کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت ہوئی ہے یا نہیں۔

افغان طالبان کی تصدیق

دوسری جانب افغان طالبان کے ایک سینئر کمانڈر ملا عبدالرؤف نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں انہوں نے بتایا کہ ملا منصور کو جمعے کو پاک-افغان سرحدی علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

اس کے علاوہ افغان صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں حملے کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔