پاکستان کی اچھی تصویر پیش کرنے کا سب سے تیر بہدف نسخہ کھیلوں کے ذریعے اپنے ملک کی برانڈنگ کرنا ہے۔ — فوٹو آئی این پی۔
پاکستان کی اچھی تصویر پیش کرنے کا سب سے تیر بہدف نسخہ کھیلوں کے ذریعے اپنے ملک کی برانڈنگ کرنا ہے۔ — فوٹو آئی این پی۔

حافظ رمضان مجھے اس لیے یاد ہے کہ وہ میرے بڑے بھائی کا کلاس فیلو تھا، اسے شاید یاد نہ ہو لیکن مجھے یاد ہے جب اسکول کے اندر کھیلوں کے مقابلے ہو رہے تھے تو وہ فٹ بال کی ٹیم میں تھا اور ایک دفعہ تو وہ فٹ بال کو کھلاڑیوں کے بیچ سے نکالتا ہوا یوں سب کو پیچھے چھوڑ گیا جیسے وہ اکیلا ہی کھیلنے آیا ہو۔

یاد کی کھڑکی سے وہ اسکول میں ہونے والی تکیہ لڑائی بھی بڑی دلچیسپ معلوم ہوئی جس میں ایک کھلاڑی دوسرے کے کندھے پر بیٹھ کر ایک تکیہ نما تھیلے مار مار کر مخالف کھلاڑی کو ایک رنگ سے باہر نکال دیتا۔ ہائی اسکول کے پانچ سالوں میں ایک بار ہونے والے انٹر اسکول کھیلوں کے مقابلے اب بھی میرے ذہن پر ویڈیو چلاتے ہیں۔

سو میٹر کی ریس، ریلے ریس، بوری ریس، فٹ بال، کبڈی بلکہ کبڈی سے یاد آیا کہ ہمارا کلاس فیلو مظہر جٹ کبڈی کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔

ہاں پرائمری اسکول میں بھی مجھے یاد پڑتا ہے کہ صرف ایک بار کھیلوں کے مقابلے ہوئے تھے اور میں اپنے اسکول کی کبڈی ٹیم کا حصہ تھا۔ سب سے کمزور تھا لیکن شہری بچوں سے زیادہ کبڈی کا حوصلہ تو ہر دیہاتی میں ہوتا ہی ہے۔

جب کبھی کھیل کے موضوع پر بنی فلمیں دیکھتا ہوں تو اسکول اسپورٹ کے یہ لمحات میرے ذہن پر چلنے لگتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں 2016 میں ہونے والی رلیز ہونے والی ہالی ووڈ فلم ریس کی کہانی بھی اسکول اور کالج کی اسپورٹس سے جڑی ہوئی ہے۔ میری پسندیدہ انگریزی فلمیں کوچ کارٹر، دی بلائند سائیڈ اور شاید درجنوں دیگر فلمیں ایسی ہیں جن میں اسکول اور کالج کی اسپورٹس کو موضوع بنایا گیا ہے۔

پڑھیے: اٹلی کا باجیو اور پاکستان کا رضا

اگر صرف امریکی فٹ بال پر ہی فلموں کو ہی موضوع بنا لیا جائے تو پچاس سے زائد فلمیں صرف ایک کھیل کے گرد گھومتی ہیں۔ ایسی ہی فلموں میں جوڈی نام کی فلم ایک فٹ بال کے کھلاڑی کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے جس کا مقصد کالج کی ٹیم کی طرف سے کھیلنا ہے اور وہ اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلتا۔

اگر اسی طرح باسکٹ بال کے موضوع پر فلموں کو تلاش کیا جائے تب بھی درجنوں فلموں کا موضوع یہ کھیل اور اسکول کالج کی اسپورٹس ہی ہے۔

اسکول کالجز میں اسپورٹس کی اہمیت سے شاید ہی کوئی انکار کرے لیکن کھیلوں کا کلچر جو مجھے یورپ میں بہت متاثر کرتا ہے اس کی پاکستان میں کافی حد تک کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں فٹ بال کی دو بڑی مشہور ٹیمز ہیں، ایف سی کوپن ہیگن اور برانڈبی۔ دونوں ٹیموں کا جب بھی میچ ہوتا ہے اسٹیڈیم میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔

دونوں ٹیموں کے مداح اپنے گلوں میں کڑھائی والے مفلر ڈال کر میدان میں آتے ہیں، ان مفلروں پر ان کی ٹیموں کے لوگو اور نعرے وغیرہ درج ہوتے ہیں۔ کمپنیاں بڑھ چڑھ کر اپنی اپنی ٹیم کو اسپانسر کرتی ہیں، شہر کے چوراہوں پر اپنی ٹیم کے خیر مقدمی بل بورڈ لگاتی ہیں۔

لوگ اپنی دکانوں میں اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے فخریہ بورڈ لگاتے ہیں اور جب میچ ہوتا ہے تب کروڑوں کی شرطیں لگائی جاتی ہیں۔ گیارہ بارہ کھلاڑی نہیں بلکہ تماشائیوں کا جم غفیر اس کھیل کا حصہ بنا ہوا ہوتا ہے۔

آپ نے پچھلے دنوں میں روس اور برطانیہ کے فٹ بال مداحوں کی جھڑپوں کی خبریں بھی سن رکھی ہوں گی۔ یہاں پر بھی فین اپنے جذباتی پن کا مظاہرہ کرتے ہیں، حتیٰ کہ کوپن ہیگن جیسے پرامن شہر میں پولیس کو بہت مستعد ہونا پڑتا ہے لیکن کھلے دل سے لوگ ہر میچ پر اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے آتے ہیں، اپنے بچوں کو ساتھ لاتے ہیں۔ کسی بھی فٹ بال میچ پر خواہ وہ ٹی وی پر ہی کیوں نہ ہو، سارا شہر سنسان ہو جاتا ہے۔

پڑھیے: کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

ہمارے ہاں ایسا رش کرکٹ کا میچ ہوتا ہے لیکن پھر بھی ہمارے ہاں اسکول اور کالج لیول پر کھیلوں کا اتنا رجحان نہیں جتنا کہ ہونا چاہیے۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کھیلوں نے پروفیشن کا روپ نہیں دھارا، سوائے کرکٹ کے جہاں اچھے کھلاڑی کی بے شک تعلیم کم لیکن اس کی زندگی شاندار ضرور ہوتی ہے۔ باقی کھیلوں میں ہمارے ہاں کوئی بھی کھیل ایک پیشے کی حیثیت حاصل نہیں کر پایا جس کی وجہ سے ہمارے ہاں اسپورٹس کلچر ناپید ہے۔

والدین کبھی بھی اپنے بچوں کا کھلاڑی بننا پسند ہی نہیں کرتے۔ اور وہ اپنے اس عمل میں سچے بھی ہیں کیونکہ ہمارے ہاں کھلاڑیوں کا مستقبل اتنا روشن نہیں جتنا کہ دنیا میں ہے۔

لیکن پاکستان میں یہ بات سمجھے جانے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں نامور ہونے اور پاکستان کی اچھی تصویر پیش کرنے کا سب سے تیر بہدف نسخہ کھیلوں کے ذریعے اپنے ملک کی برانڈنگ کرنا ہے۔

اگر ہمارے اسکول کالجز کی اسپورٹس کو مقامی کمپنیاں سپورٹ کرنے لگ جائیں اور قومی سطح پر نجی ادارے اس بات میں فخر محسوس کریں کہ وہ فلاں کھیل کو سپورٹ کر رہے ہیں تو یقیناً ملک و قوم کے لیے یہ ایک بڑی خدمت ہو گی۔

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، جان شیر، اور جہانگیر خان کی میراث اب کس کے پاس ہے؟َ اکی، بھولا اور جھارا کے نام لیوا اب کتنے ہیں؟ صرف کرکٹ ہی ہمارا کھیل نہیں بلکہ ہر وہ کھیل جو اقوام عالم میں کھیلا جاتا ہے، جن سے اولمپکس سجائے جاتے ہیں ان تمام کھیلوں کو اسکول کالج سے لے کر پروفیشنل دھارے میں لانا کسی کی ذمہ داری تو ہے نا؟

پڑھیے: قومی کرکٹ بچانی ہے تو اسکول کرکٹ بحال کریں

لیکن اب جیسے اسکول ہمارے گلی محلوں میں اگ آئے ہیں، جن میں کھیلنے کو تو کجا، کھل کر چلنے کی جگہ بھی نہیں، وہاں کھیلوں کو کس طرح اپنایا جا سکتا ہے؟

سب سے بڑھ کر یہ لوگوں کو باور کروایا جائے کہ کھیل میں ٹیلنٹ کی بھی اتنی ہی قدر ہے جتنی تعلیم کے بعد نوکری کرنے کی، تو شاید ملک میں بہت سے اچھے کھلاڑیوں کو تلاش کرنا آسان ہو پائے گا۔ لیکن ابتدا تو ارباب اختیار کو ہی کرنی ہے جنہوں نے ان سرگرمیوں کی سرپرستی کرنی ہے۔ ان کھیلوں کو نہ صرف اسکول کی سطح تک بلکہ ایک صنعت کی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے جس سے لوگ اپنی زندگی بھی سنوار پائیں۔

ایک ویب سائٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ آمدن والے کھیل کچھ اس طرح ہیں۔

10-سائکلنگ

9-بیس بال

8-آئس ہاکی

7-ٹینس

6-فٹ بال

5-امریکن فٹ بال

4-گالف

3-آٹو ریسنگ

2-باکسنگ

1-باسکٹ بال

اگر اس کو کھلاڑیوں کے حساب سے دیکھا جائے تو اس وقت سب سے زیادہ کمانے والا کھلاڑی فٹ بالر ہے.

ان سبھی کھیلوں کے راستے اسکول اور کالجز کی اسپورٹس کے ذریعے ہم تک آتے ہیں۔ میں اپنی قوم سے آشنا ہوں، ان کو بس راستہ دکھا دیا جائے تو یہ پہاڑوں کا سینہ چیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گلی محلے میں معمولی باتوں پر ایک دوسرے پر لاتوں گھونسوں کی بارش کر دینے والوں کو باکسنگ کے عالمی رنگ تک، سڑکوں پر ون وہیلنگ کرنے والوں اور سمندر کنارے موٹر سائیکلیں دوڑانے والوں کو موٹر کراس اور موٹو جی پی تک کیسے لے کر جانا ہے، اگر ہمارے دانشور کچھ اس پر بھی سوچیں تو کیا ہی بات ہے۔

شاید اسی جارحانہ مزاج کو درست سمت میں موڑ کر ہم دنیا میں اپنے پر تشدد اور غیر مہذب ہونے کے تاثر کو ختم کر سکیں؟