ترکی میں ناکام فوجی بغاوت، 265 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2016

Email


ترک صدر طیب اردگان کے حامی نعرے لگا رہے ہیں—۔فوٹو/ اے پی
ترک صدر طیب اردگان کے حامی نعرے لگا رہے ہیں—۔فوٹو/ اے پی

انقرہ : ترکی میں عوام کی طاقت نے فوجی بغاوت کی کوشش ناکام بنانے کے بعد صدر رجب طیب اردگان کی حمایت میں ریلی نکالی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق باغی فوجیوں اور عوام کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 265 تک پہنچ گئی ہے جن میں 161 عام شہری اور پولیس اہلکار جبکہ 104 باغی شامل ہیں۔

بغاوت کی کوشش میں دو ہزار 745 ججز اور دو ہزار 839 فوجیوں کو ملوث قرار دیا گیا ہے۔

ترک صدر طیب اردگان نے الزام لگایا ہے کہ فوجی بغاوت کی کوشش کرنے والے انہیں قتل کرنا چاہتے تھے، انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرے۔

اپنے بیان میں ترک صدر نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر براک اوباما کو بارہا اپنے اس خدشے سے آگاہ کیا ہے کہ فتح اللہ گولن ترک سلامتی کے لئے خطرہ ہے اور اسے ترکی کے حوالے کیا جائے۔

اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ میں ایک بار پھر امریکا اور صدر اوباما سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس شخص کو ڈی پورٹ کریں یا پھر ہمارے حوالے کریں جو پنسلوانیہ میں 400 ایکڑ کے گھر میں رہتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکا فوجی بغاوت کی تحقیقات میں ترکی کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور گولن کے خلاف ملنے والے شواہد ترکی کو دے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ترکی میں فوج کے باغی گروپ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اُس وقت ناکام بنادی گئی تھی جب صدر رجب طیب اردگان کی کال پر عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

عوامی طاقت کے سامنے بے بس فوجیوں نے مختلف مقامات پر ہتھیار ڈال دیے تھے جنہیں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولو کے مطابق بغاوت میں ملوث 1563فوجیوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ملک بھر میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 265ہوگئی ہے جبکہ 1154 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

قبل ازیں ترکی کے قائم مقام چیف آف اسٹاف امیت دندار نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 194 ہے جن میں 41 پولیس اہلکار، 47 عام شہری، 2 فوجی افسر اور فوجی بغاوت کرنے والے 104 افراد شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ترکی : آرمی چیف بازیاب،فوجی بغاوت کا باب ہمیشہ کیلئے بند

انہوں نے مزید بتایا تھا کہ فوجی بغاوت میں ایئرفورس، ملٹری پولیس اور آرمر یونٹس کے زیادہ تر اہلکار شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کا باب ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا ہے۔

حالات 90 فیصد قابو میں ہیں، وزیراعظم

فوجی بغاوت ناکام ہونے کے بعد ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ باغیوں کو عبرتناک سزا ملے گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں، اپنی سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہرسال 15جولائی کو جمہوریت کا جشن منایا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو قوم نے بہترین جواب دیا، ترکی میں 90 فیصد حالات قابو میں ہیں، کچھ کمانڈرز اب بھی باغی فوج کے قبضے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات کا واقعہ ترکی کی جمہوری تاریخ پر سیاہ دھبہ ہے، اس معاملے پر جلد پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بغاوت میں شامل افراد کی گرفتاریاں اب بھی جاری ہیں، آئین میں سزائے موت کی گنجائش نہیں تاہم ہم بعض قانونی تبدیلیاں کریں گے تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک فتح اللہ گولن کا حامی ہے وہ ترکی کا دوست نہیں ہوسکتا اور اسے ترکی کے ساتھ حالت جنگ میں تصور کیا جائے گا۔

ترک آرمی چیف بھی بازیاب

اقتدار پر قبضے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ترکی کے آرمی چیف ہلوسی آکار کو بھی ایک کارروائی کے دوران بازیاب کرالیا گیا تھا۔

امریکی خبررساں ایجنسی نے ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چیف آف اسٹاف جنرل ہلوسی آکار کو انقرہ کے نواحی علاقے میں موجود ایک فضائی اڈے سے ایک آپریشن میں بازیاب کرایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باغی فوجیوں کے متعدد حامیوں نے بھی استبول کے مرکزی تقسیم اسکوائر پر ہتھیار ڈالے اس کے علاوہ 200 فوجیوں نے ملٹری ہیڈکوارٹرز پر خود کو سرینڈر کیا تھا۔

ترک فوج کے ایک باغی گروپ نے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی   — ۔فوٹو/اے ایف پی
ترک فوج کے ایک باغی گروپ نے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی — ۔فوٹو/اے ایف پی

قبل ازیں صدارتی محل سے منسلک ایک عہدیدار کے مطابق ترک فوج نے انقرہ میں صدارتی محل کے باہر موجود ٹینکوں پر ایف 16 طیاروں سے بمباری بھی کی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل ترکی کے سیٹلائٹ آپریٹر پر حملے میں ملوث ایک ملٹری ہیلی کاپٹر کو بھی انقرہ کے ضلع گولباسی میں مار گرایا گیا تھا۔

بغاوت غداری ہے، ترک صدر

ترک صدر رجب طیب اردگان بغاوت کی کوشش کے بعد پریس کانفرنس کے دوران—۔فوٹو/ رائٹرز
ترک صدر رجب طیب اردگان بغاوت کی کوشش کے بعد پریس کانفرنس کے دوران—۔فوٹو/ رائٹرز

ترک صدر رجب طیب اردگان باغی فوجی گروہ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے بعد وطن پہنچے تھے۔

استنبول ایئرپورٹ پر پریس کانفرس کرتے ہوئے رجب طیب اردگان نے بغاوت کو 'غداری' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ صورتحال حکومت کے کنٹرول میں ہے اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور عوام پر گولیاں چلانے والوں کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

انہوں نے کہا تھا کہ پولیس اور جمہوریت پسند عوام نے باغی فوجیوں کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام بنادی اور ملکی سلامتی اور وحدت کو نقصان پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

ترک صدر نے ترکی میں بغاوت کا الزام عالم فتح اللہ گولن پر عائد کیا۔

عوام کو سڑکوں پر آنے کی کال

اس سے قبل ترک صدر صدر رجب طیب اردگان نے سی این این ترکی سے فیس ٹائم کے ذریعے ویڈیو کال کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'وہ بغاوت کی کوشش پر قابو پا لیں گے'۔

انہوں نے شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئیں۔

اردگان کا کہنا تھا، 'عوام کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں، اب وہ چوراہوں اور ایئرپورٹس پر جو کریں گے، انہیں کرنے دیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ بغاوت کی کوشش محمد فتح اللہ گولن نامی دینی مبلغ کے پیروکاروں کا کام ہے، جو کبھی اردگان کے اتحادی تھے، مگر اب امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان کا ترکی سے اظہار یکجہتی

فوجی بغاوت کی کوشش ناکام ہونے کے بعد پاکستان نے بھی ترکی سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے ترک وزیر خارجہ سے بات کی اور انہیں پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے بھی ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ترک صدر طیب اردگان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ فوجی بغاوت کے خلاف ترک عوام کا کردار قابل ستائش ہے، یہ جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھے جسے عوام نے ناکام بنادیا۔

بغاوت کس طرح ہوئی

ترک فوج کے ایک باغی گروپ نے حکومت کا تختہ الٹنے کا اعلان کرتے ہوئے ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی پر جاری ہونے والے بیان میں کہا تھا کہ ترکی میں مارشل لاء اور کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، جبکہ ملک اب ایک 'امن کونسل' کے تحت چلایا جا رہا ہے جو امنِ عامہ کو متاثر نہیں ہونے دے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ترکی کے جمہوری اور سکیولر قوانین کو نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ جلد از جلد نیا آئین تیار کیا جائے گا۔

ترک فوج کے ایک باغی گروپ نے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی —۔فوٹو/ اے پی
ترک فوج کے ایک باغی گروپ نے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی —۔فوٹو/ اے پی

ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں مرکزی شہر استنبول اور دارالحکومت انقرہ کے مرکزی چوراہوں پر عوام کی بڑی تعداد دکھائی دی، جو ترک پرچم لہراتے ہوئے منتخب حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کر رہے تھے۔ دونوں شہروں میں فائرنگ بھی ہوئی۔

انقرہ پر جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے نچلی پروازیں کیں، جبکہ دھماکے بھی سنے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے رپورٹرز نے ایک ہیلی کاپٹر کو فائر کرتے ہوئے بھی دیکھا جبکہ ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹروں نے انٹیلی جنس ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا تھا۔

نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق ایک ترک ایف سولہ طیارے نے دارالحکومت انقرہ کے اوپر ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جسے فوج کا باغی دھڑا استعمال کر رہا تھا۔