جینے کی خواہش میں مرنے چلے

03 اگست 2016

ای میل

خودکشی عدم برداشت اور انتہا پسندی کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو زندگی سے فرار حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے —وکی میڈیا کامنز
خودکشی عدم برداشت اور انتہا پسندی کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو زندگی سے فرار حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے —وکی میڈیا کامنز

"تو کیا تم اپنی زندگی سے خوش اور مطمئن نہیں ہو؟'' میں نے اپنے ساتھی کی جانب نجی نوعیت کا سوال اچھال دیا جو گزشتہ کئی روز سے مالی پریشانیوں اور گھریلو حالات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور اداسی کی تصویر بنا میرے سامنے بیٹھا تھا۔

"نہیں یار! بس جی رہا ہوں اور جن حالات میں جی رہا ہوں اس سے تو مرنا بہتر ہے۔" اسد نے شکستہ لہجے میں گویا خود کلامی کی اور اٹھ کر اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا اور میں سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ کیا وجوہات ہوسکتی ہیں کہ اسد اور اس جیسے کئی جیتے جاگتے نوجوان زندگی کے خاتمے کو مسائل کا آسان حل تصور کرنے لگتے ہیں اور موت کے قدر دان بن جاتے ہیں۔

خودکشی کا عمل کوئی نیا تو نہیں اور اس کا کوئی پہلو اچھوتا نہیں مگر اس عمل کا تسلسل اور اس میں اضافہ ضرور تشویش ناک امر ہے۔ ہمارے دین نے بھی خدا کے کاموں میں مداخلت اور ایسے عمل کو حرام اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ زندگی کوئی جنگ نہیں جسے میں اور آپ جیتنے کے لیے آئے ہیں تو پھر اس کے سامنے ہار کیوں اور کیسے مان لی جاتی ہے؟

پڑھیے: خودکشی باعثِ بدنامی کیوں؟

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہر چالیس سیکنڈ میں ایک شخص خود کو اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتارتا ہے۔ عالمی سطح پر سالانہ خودکشی سے اموات کی تعداد لگ بھگ ایک ملین یعنی دس لاکھ ہے. ایچ آر سی پی کی رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ پاکستان میں ایک سال کے دوران لگ بھگ 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ افراد خودکشی کی جانب قدم اٹھاتے ہیں۔

جن میں سے تقریبا آٹھ ہزار افراد زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ماہانہ خودکشی کرنے والوں کی تعداد 600 سے زائد جبکہ ہرروز خود پر عرصہ حیات تنگ کرنے والوں کی تعداد 15 سے 20 بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک کے غیر مستحکم معاشی نظام، بے روزگاری، غربت، مہنگائی ،تعلیمی عمل میں عدم دلچسپی، عشق و محبت میں ناکامی اور ڈپریشن کے باعث موت کو زندگی پر ترجیح دے رہی ہے۔

زندگی نعمت خداوندی ہے اور ہم اسے قدرت کے طے شده نظام کے تحت بھرپور اور مثبت انداز سے گزارنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ پھر وہ کیا عوامل ہیں جن کے باعث ہمارے نوجوان کم عمری اور ناسمجھی میں کیے گئے فیصلے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ روشن مستقبل کے خواب دیکھنے والی آنکھیں موت کی وادی کا راستہ چن لیتی ہیں؟

میرے مشاہدے کے مطابق معاشرتی ناہمواریاں تو ہر پاکستانی کا مقدر بن ہی چکی ہیں، مگر انسان کی ذہنی و جذباتی کیفیت، اس کی حساسیت، اس کے اندر کی تنہائی، آس پاس کے انسانوں سے اس کی توقعات و خواہشات، قریبی رشتوں سے تعلقات، ان کے لہجوں اور ان سے ناچاقیوں کے باعث اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ جس سے اس کے اپنے گھر والے بھی بے خبر رہتے ہیں۔

پڑھیے: دو بچوں کی 'خود کشی' کا ذمہ دار کون؟

یہ ایسے عوامل ہیں جو ایک شخص کو پہلے تو کمزور بناتے ہیں اور پھر اسے زندگی کے خاتمے پر اکساتے ہیں۔ نوعمری میں یا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ہر عاقل و بالغ شخص اپنی زندگی کے فیصلے خود لینے کا مجاز بن جاتا ہے۔ اگر اسے درست سمت، صحیح رہنمائی اور بروقت آگہی نہ ملے تو اس کا ذہن الجھنوں کا شکار ہو کر اسے کسی بھی طرح کے غلط فیصلے یا جذباتی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے۔

انسانی فطرت ہے کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں ناکامی یا شرمندگی کا سامنا کرنے والا فرد خود کو کسی کامیاب شخص سے ایک قدم پیچھے تصور کرتا ہے۔ اپنے آس پاس نظر ڈالیں اور مفلسی اور مایوسی کی بے شمار مثالیں پائیں۔ غریب مائیں بچے دریا میں پھینک کر اپنی جان لے رہی ہیں۔ باپ بھوکے بچوں کو زہر دے کر خود کو سولی پر لٹکا لیتے ہیں۔ امتحانی پرچے میں نمبر کم آنے پر والد کی ڈانٹ کے ڈر سے بچہ خود سوزی کرلیتا ہے۔

کراچی کے دو طلباء اسکول کے کلاس روم میں باہمی مشاورت سے محبت میں ناکامی کے بعد پستول کا ٹرگر دبا کر اپنی زندگی پار لگا لیتے ہیں۔ اٹک کی کم سن بچی بڑی بہن کے ڈانٹنے پر زہریلی گولیاں کھا کر جان دے دیتی ہے۔

لاہور کے مقامی ہوٹل میں رابعہ نصیر اپنے ساتھی کے رویے پر دل برداشتہ ہو کر خودکشی کرلیتی ہے۔ اسلام آباد میں نیب کی تفتیشی ٹیم کا سرکاری افسر کامران فیصل ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے خود کو موت کے حوالے کرتا ہے۔ کراچی کا میڈیکل اسٹوڈنٹ عبد الباسط امتحانی مرکز پر دیر سے پہنچنے کی پاداش میں پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلیتا ہے۔

پڑھیے: خودکشی کا رجحان: علامات پہچانیے

موت کے دروازے پردستک دینے والوں میں دنیا کے چند نامور، کامیاب اور جانے مانے افراد بھی شامل ہیں جو اسی راہ کے مسافر بنے اور دنیا سے وداع لے چکے۔ اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی نے ٹرین کے نیچے آکر جان دی تھی۔ اداکارہ مارلن منرو، بالی وڈ اداکارہ پروین بوبی، دیویا بھارتی، جیا خان، نفیسہ جوزف، اداکار گرو دت، ڈائیریکٹر من موہن ڈیسائی اور ٹاپ گن کے ڈائیریکٹر ٹونی اسکاٹ جیسے نام سماجی مسائل اور ذہنی تناؤ کا مقابلہ نہ سکے۔

طبی ماہرین کے مطابق خود کشی کا براہ راست تعلق ڈپریشن یعنی ذہنی تناؤ یا اسٹریس سے ہے۔ جس کے باعث ہمارے اپنے خود کو تنہا پا کر، ایک خول میں بند ہوجاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے سنجیدہ نوعیت کے مسئلے کو سننےکے لیے کسی کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ اس کا حل ہے۔

اگر انسانی نفسیات کو کسی حد تک سنجیدہ سطح پر لیا جائے تو ان علامات کے حامل افراد سے ملاقات اور بات چیت کے ذریعے ان کے مسائل کا کوئی حل ضرور تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ان کی منفی سوچ کا سر کچلا جاسکتا ہے، انہیں زندگی کی جانب لانے میں کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ ایسے وقت میں اپنوں کے نرم رویے، پرخلوص لہجے اور پیار کے دو جملے ناتواں اور نامراد شخص کے اندر زندگی کی نئی روح پھونک سکتے ہیں۔

وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ترقی پذیر ملک پاکستان کے باسیوں کے مسائل کو کسی حد تک حکومت وقت کی ذمہ داری سمجھا جائے اور اس احساس کو اجاگر بھی کیا جائے۔ لیکن ہم اپنے قریبی رشتوں کی ذہنی وجذباتی حالت کو پس پشت ڈال کر ہر گز ان کی زندگیوں کو موت کے کنویں میں نہیں دھکیل سکتے۔

خودکشی عدم برداشت اور انتہا پسندی کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو زندگی سے فرار ہونے میں مدد دیتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اپنوں اور کے ان ارادوں سے واقف نہ ہوں جو آپ کو اور اس دنیا کو چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر بیٹھے ہوں اور آپ کف افسوس ملتے ره جائیں!