سانحہ کوئٹہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے اہم اجلاس

اپ ڈیٹ 10 اگست 2016

ای میل

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں کوئٹہ دھماکے کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور ملک کی اندرونی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شریک ہوئے۔

ڈان نیوز کے مطابق اجلاس میں سانحہ کوئٹہ کے بعد کی صورت حال اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نیشنل ایکشن پلان کے ان نکات پر غور کیا گیا جن پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکا، ان میں مدارس کی رجسٹریشن اور دہشت گردوں کی مالی معاونت وغیرہ شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلوانے سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے، جس میں چاروں صوبائی وزراء شریک ہوں گے۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران دیں گے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خودکش دھماکا

وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا، جب رواں ہفتے 8 اگست کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کے قتل کے بعد سول ہسپتال کے گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد وکلاء کی تھی جبکہ صحافی برادری بھی اس کی زد میں آئی اور نجی نیوز چینلز آج ٹی وی اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین حملے میں ہلاک ہوگئے۔

کوئٹہ خودکش دھماکے کے بعد سیکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سیکیورٹی ایجنسیوں کو ملک بھر میں اسپیشل کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف کا ملک بھر میں اسپیشل کومبنگ آپریشن کا حکم

اس واقعے کے بعد گذشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ 'نواز شریف ملک کے چیف ایگزیکیٹو ہیں، انھیں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو کوئٹہ حملے کی انکوئری کاحکم دینا چاہیے'۔

کوئٹہ حملے کو انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا تھا کہ ان پر دھماکے کی ذمہ داری عائد کی جائے، 'اگر وہ کوئٹہ حملے میں ملوث عناصر اور اس کے ماسٹر مائنڈ کو تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو نواز شریف کو چاہیے کہ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کے متعلقہ افسران کو برطرف کردیں'۔

یہ بھی پڑھیں:'کوئٹہ دھماکا انٹیلی جنس کی ناکامی ہے'

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا تھا کہ حکومت ہندوستان کی خفیہ ایجنسی 'را' پر دہشت گردی کے الزامات لگانے کے بجائے اپنے اداروں کی ناکامی پر توجہ دے۔