راجن پور میں کومبنگ آپریشن، 8 'دہشت گرد' ہلاک

ای میل

راجن پور: سیکیورٹی فورسز نے پنجاب اور بلوچستان کے بارڈر پر کومبنگ آپریشن کے دوران 8 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود قبضے میں لے لیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ضلع راجن پور کے علاقے گیانداری میں کومبنگ آپریشن کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

دوسری جانب کومبنگ آپریشن کے دوران متعدد دہشت گردوں اور فراریوں کو گرفتار بھی کیا گیا اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرلیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔

نمائندہ ڈان نیوز کے مطابق پاک فوج نے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے گذشتہ روز مبینہ دہشت گردوں کی ریکی کی تھی اور آج صبح 10 بجے 6 ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ان کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی گئی۔

راجن پور کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عرفان اللہ نے اس حوالے سے بتایا کہ پنجاب پولیس اس آپریشن کا حصہ نہیں، جبکہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات بھی نہیں۔

ڈی پی او عرفان اللہ نے تصدیق کی کہ اس علاقے میں شیلنگ کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دہشت گرد آسٹریلین کمپنی کی جانب سے اس علاقے میں لگائے جانے والے ایک ہزار میگاواٹ کے ونڈ پاور پلانٹ پر حملہ کرنا چاہتے تھے جبکہ ان کا ایک مقصد پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کو بھی متاثر کرنا تھا۔

واضح رہے کہ رواں برس 8 اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملک بھر میں فوری طور پر کومبنگ آپریشنز شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں:آرمی چیف کا ملک بھر میں اسپیشل کومبنگ آپریشن کا حکم

اجلاس کے دوران انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملک بھر میں اسپیشل کومبنگ آپریشن اور بلوچستان میں خصوصی کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حملے کا مقصد بلوچستان کی سیکیورٹی کی صورتحال کو خراب کرنا ہے، تاہم سیکیورٹی کی صورتحال سنبھالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو شکست فاش ہوئی، جس کے بعد اب ان کی توجہ بلوچستان کی طرف ہوگئی ہے اور یہ حملہ خصوصی طور پر اقتصادی راہداری کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چھوٹو گینگ کے سربراہ سے تفتیش کریں گے، فوج

قبل ازیں رواں برس اپریل میں بھی راجن پور میں فوجی آپریشن کیا گیا تھا، یہ آپریشن 3 ہفتوں سے زائد تک جاری رہا تھا جبکہ اس میں چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو نے اپنے 13 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے تھے جبکہ فوج نے علاقے میں آخری ڈاکو کی موجودگی تک سرچ آپریشن کو جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں کئی دن تک اس علاقے میں کارروائیاں جاری رہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ راجن پور کے اس علاقے کو جرائم پیشہ عناصر سے صاف کیا جا سکا یا اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔