صالح محمد شاہ: نصف صدی تک راج کرنے والی آواز

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2016

ای میل

صالح محمد شاہ کا پروگرام گوٹھانی کچہری ریڈیو اسٹیشن کا وہ پروگرام تھا جس نے پچاس سال تک لوگوں کے دلوں پر راج کیا۔ — فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان۔
صالح محمد شاہ کا پروگرام گوٹھانی کچہری ریڈیو اسٹیشن کا وہ پروگرام تھا جس نے پچاس سال تک لوگوں کے دلوں پر راج کیا۔ — فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان۔

ریڈیو پاکستان حیدرآباد اسٹیشن کو اگر بڑے اداکاروں، صداکاروں، فنکاروں اور گلوکاروں کی نرسری کہا جائے تو بالکل غلط نہ ہوگا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کی عمر 61 برس ہے۔ 17 اگست سن 1955 کو ہوم اسٹڈیم ہال کے چار کمروں میں اس ریڈیو اسٹیشن کی نشریات شروع ہوئیں، 11 سال بعد یعنی سن 1968 میں یہ اسٹیشن موجودہ عمارت میں منتقل ہوئی جس کا افتتاح اس وقت کے صدر ایوب خان نے کیا۔

یہ ریڈیو اسٹیشن بھی کسی ریل گاڑی کی مانند ہے۔ فن کی گٹھڑیاں اٹھائے کئی فنکار آتے ہیں، ہر ایک کو اپنے اسٹیشن پر اترنا ہوتا ہے۔ حیدرآباد ریڈیو اسٹیشن پر یوں ہی لوگ آتے گئے ، چلتے اور رکتے گئے۔

ابھی ریڈیو حیدرآباد دو سال کی عمر کو پہنچا ہی تھا کہ ایک دبلا پتلا کمزور جسامت کا نوجوان اسٹیشن پر پہنچا۔ اس کا نام صالح محمد شاہ تھا۔ وہ آٹھویں کلاس یعنی فائنل پاس پرائمری استاد تھا، لیکن ریڈیو اس کا جنون تھا۔ اسے اس کے عزیز سید منظور نقوی ریڈیو اسٹیشن لائے تھے۔

صالح محمد شاہ نے اپنے کریئر کی شروعات ریڈیو کے ڈراموں میں چھوٹے موٹے کردار کی ادائیگی سے کی، مگر جنون کا تقاضا تھا کہ وہ مستقل طور پر ریڈیو سے جڑنا چاہتے تھے اور کام کی لگن بھی عروج پر تھی۔

پھر ہوا یہ کہ ایک دن اسٹیشن پر کوئی اناؤنسر چھٹی پر گیا تو ریڈیو انتظامیہ نے اناؤنسمنٹ کی ذمہ داری اس نوجوان صالح محمد کے سپرد کردی۔

نوجوان صالح کی اناؤنسمنٹ میں آواز و ادائیگی کا انداز اسٹیشن ڈائریکٹر کو بھا گیا۔ بالآخر صالح محمد شاہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے اناؤنسر بن گئے۔

یہ وہ وقت تھا کہ جب سندھ میں ریڈیو ڈراموں کی مقبولیت اپنی انتہا کو تھی۔ کہتے ہیں کہ جب گاؤں گوٹھوں میں کوئی ریڈیو ڈرامہ شروع ہوتا تو گاؤں کی اوطاقوں میں سوائے صداکاروں کی آواز کے اور کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔

پڑھیے: پی ٹی وی کے دس بہترین لانگ پلے

اسی دوران انہوں نے آغا سلیم کے ڈرامے 'گلن جھڑا گھاؤ' (پھولوں جیسے زخم)، امر جلیل کے 'سجن سفر ھلیا' (ساجن سفر کو چلے)، علی بابا کے ڈرامے 'رن جا راھی' (ریگستان کے مسافر) اور 'تموچن' میں مرکزی ہیرو کا کردار ادا کیا۔ یہ سب ڈرامے سپر ہٹ ہوئے۔

1958 میں حیدرآباد اسٹیشن سے دیہاتیوں کی گفتگو پر مبنی ’گوٹھانی کچہری‘ کے نام سے ایک پروگرام شروع ہوا جس کے لیے 80 برس کے کسی معمر، جہاں دیدہ، دور اندیش، سماجی سائنس کے ماہر اور لوک دانش رکھنے والے کردار کی ضرورت تھی۔

اس وقت صالح محمد شاہ کی عمر محض بیس بائیس برس ہی تھی لیکن جب انہوں نے اس پروگرام میں 80 برس کے اس مطلوبہ کردار کی صداکاری کی تو ریڈیو نے انہیں اس کردار کے لیے قبول کر لیا۔

کچہری کا تھیم سندھ کے دیہاتوں میں لوگوں کے مابین ہونے والی گفتگو سے لیا گیا تھا۔ گاؤں گوٹھوں میں دن بھر کی مصروفیات کے بعد پیپل، نیم، ببول اور ٹالہی کے گھنے درختوں کے جھرمٹوں کے بیچ بسے گاؤں کے بڑے بوڑھوں کی گفتگو کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ جہاں دیدہ، دور اندیش اور سماجی سائنسدان دیہاتی لوگ جب اپنی گفتگو کی گانٹھوں کو کھولتے تھے تو رات ان کی باتوں میں ہی گزر جاتی تھی۔

محلے کی باتیں، گاؤں کی باتیں، شہر کی ترقی، سماجی حالات، ملکی صورتحال اور پھر بات آ کر سیاست پر ختم ہوتی تھی۔ فجر کی اذان کے ساتھ باتوں کی گٹھڑی پھر سے باندھ دی جاتی۔

اب تو گھنی چھاؤں والے درخت بھی قصہء ماضی بن چکے ہیں۔ نہ درخت، نہ چھاؤں، نہ وہ محبتیں اور نہ ہی وہ کچہریاں اور محافل رہی ہیں۔ مگر جب وہ محفلیں زندہ تھیں تب انہیں ریڈیو اسٹیشن پر بھی سجایا گیا تھا اور ان کا مرکزی کردار تھا فتح خان۔

فتح خان کا اصلی نام بھلے ہی صالح محمد شاہ تھا مگر ریڈیو نے جو نام بدلا تو باہر کی دنیا نے بھی صالح محمد شاہ کو نہیں فتح خان کو جاننا شروع کردیا۔ پروگرام کے کردار فتح خان کو ڈاڈو (دادا) یا جھونو (بڈھا) کے نام سے پکارتے تھے، لہٰذا سامعین نے بھی انہیں انہی ناموں سے پکارنا شروع کردیا۔

نوجوان صالح محمد شاہ عرف فتح خان — تصویر بشکریہ ریڈیو پاکستان
نوجوان صالح محمد شاہ عرف فتح خان — تصویر بشکریہ ریڈیو پاکستان

ریڈیو حیدرآباد سے نشر ہونے والے اس پروگرام نے ایک سال کے اندر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔ روزانہ سینکڑوں تعریفی خطوط ملتے، لوگ فتح خان سے نہایت عزت و احترام کا اظہار کرتے، بوریوں میں بھرے خط کھول کر ریڈیو انتظامیہ بھی حیران ہو جاتی۔ مقبولیت کے پیش نظر پروگرام کا دورانیہ بھی بڑھایا گیا۔ نوجوان صالح محمد شاہ 80 برس کے معمر شخص کا کردار خوب نبھا رہا تھا۔

جب پہلی بار کسی اخبار میں انٹرویو کے ساتھ سید صالح محمد کی تصویر شایع ہوئی تو لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ ایک نوجوان لڑکا ضعیف بابے کی صداکاری آخر کس طرح کر لیتا ہے۔

پھر یہ بھی ہوا کہ ریڈیو اسٹیشن کے باہر لوگوں کا ایک ہجوم صرف صالح محمد شاہ کو دیکھنے کے لیے آتا تھا اور کئی کئی گھنٹے لوگ انتظار کرتے تھے۔ یہ اس پروگرام کی مقبولیت ہی تھی کہ لوگوں نے نہ صرف اپنے بچوں کا نام فتح خان کے نام پر رکھا، بلکہ اس پروگرام کے دیگر کردار گھنور خان، جانن خان، کمال خان، میرن خان کے نام بھی رکھے۔

جانن خان کا کردار عبدالحق ابڑو کرتے تھے، گھنور خان کا کردار عبدالکریم بلوچ، میرن خان کا کردار سید منظور نقوی اور کمال خان کا سرور بلوچ ادا کرتے تھے۔

یہ تمام لوگ بڑے براڈ کاسٹرز، پروڈیوسرز اور پھر عبدالکریم بلوچ تو پی ٹی وی کراچی سینٹر کے جنرل مینجر بھی رہے تھے۔

ساٹھ کی دہائی میں جس گھر میں ریڈیو تھا یا جن کی ریڈیو تک رسائی تھی، اس گھر کی تین نسلوں کو فتح خان اور ریڈیو پر نشر ہونے والی کچہری ضرور یاد ہوگی۔

مزید پڑھیے: بیچارہ ریڈیو پاکستان

کہتے ہیں کہ اس پروگرام کی وجہ سے ریڈیو خریدنے کا رجحان بھی بڑھا۔ آغا سلیم کے ایک مضمون میں اس بات کا ذکر ہے کہ "میں جب ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں تھا تو گاؤں کا ایک شخص میرے پاس آیا، اس نے فرمائش کی کہ مجھے ایسا ریڈیو چاہیے جس میں فتح خان کی کچہری نشر ہوتی ہو۔

ہم دن کو دو بجے ریڈیو کی دکان پہنچے۔ اس بندے کو ریڈیو لے کر دیا، لیکن وہ فتح خان کے پروگرام کا وقت نہیں تھا اس لیے اس شخص نے ریڈیو خریدنے سے ہی انکار کردیا۔ پھر ہم نے وہ ریڈیو اس وقت خریدا جب فتح خان کا پروگرام براہ راست نشر ہو رہا تھا۔"

مشہور ڈرامہ نویس عبدالقادر جونیجو نے ایک جگہ ذکر کیا ہے کہ ''اس زمانے میں ہم نے سنا کہ فتح خان جھڈو شھر کے نزدیک گاؤں آہوری میں آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی گاؤں کے آدھے لوگ فتح خان کو دیکھنے نکل پڑے، کارواں جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا اورلوگ اس میں شامل ہوتے گئے۔ جب ہم لغاری برادری کے اس گاؤں پہنچے تو سینکڑوں لوگ جمع ہو چکے تھے، میزبانوں نے خوب خاطر تواضع کی، اور وہاں میں نے پہلی بار صالح محمد شاہ کو دیکھا۔''

"واہ جھونا تیری تو بلے بلے ہے۔" یہ الفاظ بھی عبدالقادر جونیجو کے ہیں، جبکہ مشہور مصنف و ڈرامہ نویس علی بابا مرحوم صالح محمد شاہ کو "آواز کا شاہ بھٹائی" کہتے تھے۔

فتح خان کی اسی کچہری کی مقبولیت سے وقت کی سرکار نے اپنا فائدہ بھی اٹھانا چاہا۔ سن 1960 میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اس پروگرام کا نام بدل کر "جمہور کی آواز" رکھنے کی ہدایت دی اور اس جمہور کی آواز کے پیچھے اصل مقصد جنرل ایوب خان کی "بنیادی جمہوریت" کے نظام کا فروغ تھا۔

حاکم وقت کی ہدایات پر اپنے اقتدار کو تقویت بخشنے کے لیے جہاں تمام سرکاری وسائل بروئے کار لائے گئے وہاں ریڈیو پاکستان حیدرآباد اسٹیشن کو بھی اپنا حصہ ڈالنا پڑا۔

30 اگست 1984 کو شہر ٹھٹھہ میں کچہری پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران کھینچی گئی تصویر — تصویر بشکریہ ریڈیو پاکستان
30 اگست 1984 کو شہر ٹھٹھہ میں کچہری پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران کھینچی گئی تصویر — تصویر بشکریہ ریڈیو پاکستان

تمام بڑے اسٹیشنز ریڈیو پاکستان لاہور، پشاور، کراچی اور حیدرآباد کو دیہاتوں میں بنیادی جمہوریت متعارف کروانے کا ایک ٹاسک دیا گیا۔

صالح محمد شاہ بھی اس سرکاری پروگرام میں اوپر سے ملنے والی ہدایات کے تحت کام کرتے رہے لیکن پروگرام کے انداز یا فارمیٹ کی وجہ سے فتح خان کی مقبولیت میں ذرا برابر بھی کمی نہیں آئی کیونکہ ان کی آواز اور انداز پہلے کی طرح برقرار تھا۔

جانیے: ہر دور میں مقبول پاکستانی لیجنڈ اداکار

آگے چل کر اس پروگرام کا نام فتح خان کی کچہری رکھا گیا۔ پھر یہ پروگرام آخر تک اسی نام سے چلتا رہا۔

صالح محمد شاہ قریب تین دہائیوں تک پی ٹی وی سے جڑے رہے۔ ریڈیو پر ان کی سحر انگیز صداکاری کا ہی کمال فن تھا کہ ریڈیو کے بعد ٹی وی پر بھی ’اوطاق’ کے نام سے پروگرام شروع کیا گیا۔ اس ٹی وی پروگرام نے بھی بالخصوص دیہی عوام کے درمیان کامیابیوں کے ریکارڈ قائم کیے۔

کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ کے والد عبدالستار پیرزادہ، مخدوم طالب المولیٰ، ممتاز بھٹو اور جی ایم سید جیسے کئی بڑے نام فتح خان کی کچہری پروگرام سننے کے شوقین تھے۔

صالح محمد شاہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو کافی پسند کرتے تھے شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے پاکستان ٹیلیویژن کے پروگرام اوطاق کی ایک قسط میں انہوں نے ’جیے بھٹو‘ کا نعرہ بلند کر دیا، جس کے نتیجے میں ضیاء کے دورِ حکومت میں ان کے پروگرام پر پورا ایک سال پابندی عائد رہی۔

جب حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والے ٹھیکیداروں نے فتح خان کی آواز پر پابندی لگائی تو جی ایم سید نے ریڈیو حکام کو خط لکھ کر احتجاج کیا اور مولانا گرامی نے اپنے اخبار میں ایڈیٹوریل لکھا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد پھر سید صالح محمد شاہ کی آواز ریڈیو پر گونجنے لگی۔

وہ صرف اناؤنسر، براڈکاسٹر، پیشکار، صوتی اثرات چھوڑنے والے ایک صداکار ہی نہیں تھے بلکہ سندھی زبان کے ماہر تھے، سماج کی رگ پر ان کا ہاتھ تھا، لوک فہم کے داعی تھے، شاہ لطیف شناس تھے اور جس تحت اللفظ کے ساتھ شاہ بھٹائی کی شاعری کو پڑھتے اس طرح کوئی اور نہیں پڑھ پاتا۔

پڑھیے: فاطمہ جناح اور ریڈیو کے فرمانبردار ٹرانسمیٹر

ستر کی دہائی کے شروع میں صالح محمد شاہ نے شاہ کی شاعری کو اپنی آواز میں ریکارڈ کروانا شروع کیا، لیکن وہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ مگر جب مشہور افسانہ نویس شوکت حسین شورو سندھالوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے تو ان کی کوششوں سے یہ منصوبہ پایہء تکمیل تک پہنچا۔ آج بھی صالح محمد شاہ کی آواز میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تمام رسالہ ریکارڈ شدہ موجود ہے۔

سید صالح محمد شاہ بلا کے حاضر دماغ اور جگت باز تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے کئی ساتھی اور دوست آج بھی ان کی جگت بازیوں پر دل کھول کر ہنسا کرتے ہیں اور ان کی کئی جگتیں براہ راست نشریات میں بھی نشر ہو جایا کرتی تھیں۔

اس زمانے میں دو فنکار فیروز گل اور قمر سومرو کے بال نہیں ہوا کرتے تھے، ان کے لیے تو فتح خان اپنی کچہری میں ہی کہا کرتے کہ "جانن خان اوپر چیلیں اڑ رہی ہیں انہیں بھگاؤ، کہیں ہمارے فنکاروں کے سروں پر چونچیں نہ مار جائیں۔"

سید صالح محمد شاہ نے اپنی زندگی میں ایک فلم میں بھی کام کیا۔ رنگ محل نامی فلم میں رشید ہمیرانی ہیرو تھے جبکہ صالح محمد شاہ نے ان کے باپ کا کردار ادا کیا تھا۔

1957 سے ریڈیو اسٹیشن کے ساتھ صالح محمد شاہ کا جو سفر شروع ہوا، اس کا اختتام ستمبر 2007 میں ہوا۔ ستمبر کی پہلی تاریخ ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوئی، اس آخری دن تک وہ ریڈیو اسٹیشن کے ساتھ جڑے رہے۔ ڈرامہ نویس ماکن شاہ رضوی ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ یکم ستمبر 2007 کو وہ کچہری پروگرام کی نشریات ختم ہونے کے بعد گھر لوٹے جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔

فتح خان کو جو مقبولیت اور محبت سندھ بھر کی عوام نے دی وہ شاید ہی کسی اور کے حصے میں آئی ہو۔ وہ نصف صدی تک ریڈیو پر راج کرنے والے واحد صداکار تھے، پہلے ریڈیو ان کی پہچان تھی لیکن پھر ان کی شخصیت ریڈیو پاکستان حیدرآباد کی پہچان بن گئی۔

صالح محمد عرف فتح خان ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے کاک محل کے وہ رانے تھے جن کے چلے جانے سے ریڈیو پاکستان حیدرآباد آج بھی اداسی میں ڈوبا ہوا ہے۔