عالمی منڈی میں قیمتوں کے بڑھنے پر معیشت کی کیا تیاری ہے، جواب؟ — ڈان نیوز اسکرین گریب
عالمی منڈی میں قیمتوں کے بڑھنے پر معیشت کی کیا تیاری ہے، جواب؟ — ڈان نیوز اسکرین گریب

اگست کی آخری تاریخ تھی، رات گئے اسٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر کا فون آیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک مخصوص صحافیوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے ایسا لگا کہ گورنر صاحب کا مقصد غیر رسمی بات چیت ہے مگر بعد ازاں جب ای میل پر باقاعدہ دعوت نامہ موصول ہوا تو انکشاف ہوا کہ ایک ہنگامی میڈیا بریفنگ ہو رہی ہے۔

میں گزشتہ 15 برس سے اسٹیٹ بینک کی رپورٹنگ کرتا چلا آیا ہوں اور معیشت کے نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک کو آگے بڑھتے دیکھا ہے۔ متعدد ہنگامی بریفنگز اور میڈیا ریلیز بھی رپورٹ کی ہیں۔ سب سے ذیادہ ایسی صورتحال کا سامنا اس وقت رہا، جب ڈاکٹر شمشاد اختر گورنر اسٹیٹ بینک تھیں۔

پاکستان کے سرکاری اداروں میں اسٹیٹ بینک وہ واحد ادارہ ہے جو عوام اور ذرائع ابلاغ میں سب سے ذیادہ قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ ادارے کی آزادی اور معیشت پر بغیر کسی دباؤ کے بے لاگ تبصرہ اور مسائل کی نشاندہی کرنا رہی ہے۔

مگر اب یوں لگتا ہے کہ اسٹیٹ بینک بھی حکومت کا کوئی ماتحت اور ذیلی ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ ماضی میں اسٹیٹ بینک کی معاشی جائزہ رپورٹ ملکی معیشت کا ایکسرے پیش کرتی تھی اور مسائل کی درست نشاندہی کرتی تھی۔ مگر اب تو یہ صورتحال ہے کہ معیشت میں تمام ترمشکلات کے باوجود اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ 'سب اچھا' ہی بتا رہی ہے۔

بینکوں کی من مانی پر بھی مرکزی بینک خاموش نظر آتا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک سے پہلے ہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بنیادی شرح سود میں کمی کا اعلان کردیتے ہیں۔

بہرحال ہم گورنر اسٹیٹ بینک محمود اشرف وتھرا کی ہنگامی میڈیا بریفنگ میں پہنچے، گورنر صاحب نے گفتگو کی ابتداء میں ہی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا اور میڈیا پر بھرپور چڑھائی کردی۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھا اور کہا کہ معیشت کے بارے میں پوری دنیا اچھی باتیں لکھ رہی ہے مگر پاکستان کا میڈیا اس کے برعکس تصویر پیش کر رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پیش کردہ اعداد وشمار کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا اصرار تھا کہ معیشت کا مثبت پہلو پیش کیا جائے کہ مہنگائی کم ترین سطح پر ہے، زر مبادلہ ذخائر بلند ترین سطح پر ہیں، بجٹ خسارہ کم ہوا ہے، ملک کے مجموعی قرضے، مقامی اور بیرونی کل ملا کر 19 ہزار ارب روپے سے زائد ہیں جن میں غیر ملکی قرضے 6 ہزار ارب روپے ہیں، اور امریکی ڈالرز میں حکومت پاکستان کا یہ قرضہ 57 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، نہ کہ 75 ارب ڈالر ہے۔

آئی ایم ایف کا 6 ارب ڈالر قرضہ بیلنس آف پے منٹ کے لیے ہے اسے حکومتی قرض نہ کہا جائے۔ ایف بی آر کا ریونیو 3 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ اگر ٹیکس وصولی نہ بڑھتی تو 4 ہزار ارب روپے کا اضافہ قرض بینکوں سے لینا پڑتا۔

جبکہ دوسری طرف یعنی صحافیوں کا سوال تھا کہ مہنگائی کم کرنے میں حکومت کا کیا کمال ہے، عالمی سطح پر ایندھن اور کموڈٹی مارکیٹ کریش کر گئی ہے اور اسی وجہ سے قیمتیں پاکستان میں بھی کم ہوئی ہیں، عالمی منڈی میں قیمتوں کے بڑھنے پر معیشت کی کیا تیاری ہے؟

زرمبادلہ ذخائر تو قرض لے کر بڑھائے ہیں اور قوم نے ان قرضوں کو واپس بھی تو کرنا ہے، تر سیلات زر پر جو انحصار تھا، خلیجی ملکوں کے بحران سے ان میں کمی ہو رہی ہے اور مالی سال کے پہلے مہینے میں واضع کمی دیکھی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کا قرضہ حکومت کا ہو یا اسٹیٹ بینک کا اسے واپس بھی تو کرنا ہے۔

برآمدات تو مسلسل گر رہی ہیں اور درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، بڑھتے تجارتی خسارے کو کم کرنے پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ پاکستان کے بیرونی وسائل مسلسل سکڑ رہے ہیں۔

زرمبادلہ کمانے کے دو بڑے ذریعے ہیں برآمدات اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر، جس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے تو پھر زرمبادلہ کیسے کمایا جائے گا؟ شرح سود کم ترین سطح پر ہے تو پاکستان میں بچتوں کی شرح بھی تو کم ترین سطح پر ہے۔ اس کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟

عوام کی بینکوں میں رکھی گئی رقوم پر وفاقی حکومت اور بڑے صنعت کار کم ترین شرح سود پر قرض حاصل کررہے ہیں، عوام کو بچت بڑھانے کے لیے کیا سہولیات فراہم کی گئی ہیں؟

سوالات اور جوابات کی وجہ سے گورنر صاحب کا غصہ تو بڑھتا رہا مگر وہ سوالات کا جواب دینے کے بجائے مسلسل الجھتے رہے۔ ہمارے ساتھی انجم وہاب نے سوال کیا کہ، تو پھر آپ کے مطابق ملک کے دیوالیہ ہونے کا۔۔۔۔

ابھی انجم کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ گورنر صاحب کو جیسے کوئی جھٹکا لگ گیا ہو اور پھر انجم وہاب پر خصوصی اور میڈیا بریفنگ میں موجود باقی صحافیوں کی حب الوطنی پر عمومی شک کا اظہار کردیا۔ گورنر صاحب کا کہنا تھا کہ، لفظ دیوالیہ استعمال ہی کیوں کیا جائے۔۔۔۔

زرمبادلہ ذخائر میں قرض کا حصہ شامل ہونے کے حوالے اس خاکسار کے سوال کا بھی الٹا ہی جواب ملا۔ میرا کہنا تھا کہ جس زرمبادلہ ذخائر کا ذکر ہورہا ہے وہ آئی ایم ایف، عالمی مالیاتی اداروں اور کمرشل مارکیٹ سے لیا گیا قرض ہے، یہ کسی ترسیلات زر یا برآمدات کی آمدنی سے زرمبادلہ ذخائر کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر نہیں پہنچایا گیا ہے۔

مگر یہ معاملہ بھی گورنر صاحب غصے کی آڑ میں گول کر گئے۔

ایک اور رپورٹر عامر فاروق نے سوال کیا کہ سیاسی عدم استحکام معیشت کو کس قدر نقصان پہنچاتا ہے؟

اس سوال پر گورنر صاحب خوش ہوئے اور لگتا تھا کہ وہ یہی بات کہنا چاہ رہے ہیں۔ محمود اشرف وتھرا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جب بھی سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو معیشت میں گراوٹ آتی ہے، سیاسی عدم استحکام معیشت کے لیے نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔

ایسے وقت میں جب معیشت پر کڑی سیاسی تنقید ہو رہی ہو، لاہور اور راولپنڈی میں تحریک قصاص، تحریک نجات اور دیگر تحاریک چل رہی ہوں ایسے میں گورنر اسٹیٹ بینک کی معیشت پر میڈیا بریفنگ کے واضح سیاسی اہداف نظر آتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک گورنر کا عہدہ ایسا ہے جس کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اس پر تقرری وزیر اعظم کرسکتا ہے مگر مقررہ مدت سے قبل اس عہدے پر موجود فرد کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔ اس عہدے کو یہ تحفظ دینے کا مقصد یہ ہے کہ معیشت کی آزاد اور خود مختار طریقے سے نگرانی اور جائزہ لیا جاسکے جو کہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

لگتا ہے کہ سیاسی حکومتوں کے تعلقات اسٹیٹ بینک گورنرز سے اچھے نہیں رہتے یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی سابقہ اور مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت میں تین گورنر اپنی مدت ملازمت پوری نہیں کرسکے ہیں۔

اس لیے جہاں اسٹیٹ بینک کو اپنے طور پر معیشت پر بات کرنے کا حق حاصل ہے تو وہیں دیگر معاشی تجزیہ کاروں کو اپنے اپنے نکتہ نظر سے معیشت کو دیکھنے اور تبصرہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ یہ کام کسی کے جذبہ حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھے بغیر کیا جائے۔