نیشنل ایکشن پلان : خفیہ اداروں کی کارکردگی کی تعریف

اپ ڈیٹ 04 اکتوبر 2016

ای میل

وزیر اعظم نواز شریف نیشنل ایکشن پلان کے جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں—فوٹو بشکریہ/ پی ایم ہاؤس
وزیر اعظم نواز شریف نیشنل ایکشن پلان کے جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں—فوٹو بشکریہ/ پی ایم ہاؤس

اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں قومی ایکشن پلان (نیپ) کا جائزہ اجلاس وفاقی دارالحکومت میں ہوا جس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اس میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ قوم کے غیر متزلزل عزم، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لاتعداد اور مستقل قربانیوں کے سبب مادر وطن کے طول و عرض میں سیکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور اتفاق رائے سے مرتب کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور شدت پسندی کے خلاف لڑائی ہماری قومی پالیسی کا لازمی جز ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوم توقع کرتی ہے کہ ہم اس برائی کو معاشرے سے ہمیشہ کے لیے نکال پھینکیں اور ہم قوم کے اعتماد کو کسی بھی صورت میں ٹھیس نہیں پہنچنے دیں گے۔

نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے یہ اب تک کا ہونے والا اہم ترین اجلاس ہے جس میں وزیر اعظم کے علاوہ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پارلیمانی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں صوبوں کا کردار

قومی سلامتی کے مشیرناصرجنجوعہ نے اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے قائم کمیٹی کے کنوینر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ناصر خان جنجوعہ نے نیپ پر عمل درآمد کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق نیپ کے ہر پہلو علیحدہ علیحدہ غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی اور صوبائی سطح پر اجماعتی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی ایکشن پلان کے تحت اب تک حاصل کی جانے والی کامیابیوں کو برقرار رکھا جاسکے اور ان حصوں پر بھی پیش رفت ہوسکے جن میں اب تک کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں۔

اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر نے اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نیپ کے عمل درآمد میں صوبوں کا کردار انتہائی اہم ہیں اور ہم سب پر یہ لازم ہے کہ ہم بطور مشن اس پر کام کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ’نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا‘

اجلاس میں نیپ کے مختلف حصوں پر مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی اتفاق کیا گیا جبکہ اس پر عمل درآمد کے دوران سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں کا بھی اعتراف کیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء وفاقی اور صوبائی خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی کو سراہا جن کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے کئی منصوبوں کا ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے۔

اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ خفیہ اداروں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا جہاں وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بہترین طریقے سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے سیکریٹری نے کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کے بعض پہلوؤں پر پریزینٹیشن دی۔

دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں تحقیقات، پروسیکیوشن اور عدالتی اپریٹس کے حوالے سے قوانین میں اصلاحات کی تجاویز بھی شرکاء کے سامنے رکھی گئیں تاکہ اس حوالے سے متفقہ طور پر مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مکمل اور بے جوڑ ربط ضروری ہے۔

اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے خفیہ اطلاعات کو اکھٹا کرنے، اس کے موازنے، تجزیے اور استعمال کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ اگست کے مہینے میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے بنائی جانے والی ٹاسک فورس بھی اس اجلاس میں اپنی رپورٹ بھی پیش کی جس میں یہ بتایا گیا کہ قومی ایکشن پلان پر کس حد تک عمل درآمد ہوا، کون سے علاقوں میں پیش رفت ہوئی اور کہاں مسائل کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے قائم کی جانے والی ٹاسک فورس میں تمام متعلقہ اداروں اور وفاقی و صوبائی ایجنسیوں کے سینیئر افسران شامل ہیں۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر اطلاعات پرویز رشید، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری، آرمی چیف راحیل شریف، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ناصر جنجوعہ، ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل ندیم ذکی منج اور ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیرارزم میجر جنرل طارق قدوس شریک ہیں۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

نیشنل ایکشن پلان کے جائزہ اجلاس کے فوری بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوگیا جس میں علاقائی اور خارجی معاملات زیر بحث آئیں گے اور خاص طور پر کنٹرول لائن پر کشیدگی اور کشمیر میں ہندوستان مظالم کے معاملے پر بات ہوگی۔

اس اجلاس کی سربراہی بھی وزیر اعظم نواز شریف کریں گے جبکہ اعلیٰ سول و عسکری قیادت بھی اس میں شریک ہوگی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کا اہم اجلاس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا تھا جس کے دوران تمام جماعتوں نے مسئلہ کشمیر پر حکومتی موقف کی حمایت کی تھی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا تھا تاکہ دنیا کو واضح پیغام دیا جاسکے۔

واضح رہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے سول ہستپال دھماکے کے بعد 11 اگست 2016 کو نیشنل ایکشن پلان پر ایک اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں غیر ملکی ایجنسیوں سے نمٹنے کے لیے مربوط اور موثر حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس اداروں کو تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ پاکستان میں امن کی مکمل بحالی حکومت اور تمام ریاستی اداروں کی اولین ترجیح برقرار رہے گی اور ملک کے ہر کونے سے دہشت گردی اور شدت پسندی کو جڑ سے ختم کرکے دم لیا جائے گا۔