’شکر ادا کرنے والوں کو بہت پہلے تشکر کرنا چاہیے تھا‘

02 نومبر 2016

ای میل

اسلام آباد: وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا جس میں 25 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں وزیر وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ چند دن پہلے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے صدر پاکستان آئے، انہوں نے پاکستان کی معاشی واقتصادی ترقی کی تعریف کی۔

سپریم کورٹ میں جاری کیس سے متعلق انہوں نے کہا ’کہ میرے لئے سب سے زیادہ باعث اطمینان یہ بات ہے کہ پاناما پیپرز کا معاملہ سپریم کورٹ سے حل ہوگا‘۔

یہ بھی پڑھیں:یوم تشکر : عمران خان کا شیخ رشید کو ٹیلی فون

انہوں نے کہا کہ میں یہ مسلسل کوشش کرتا رہا اور میں نے بذات خود سپریم کورٹ کوکمیشن بنانے کی درخواست کی تھی، ایک قانون بھی تشکیل دیا اور ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی لیکن ہماری یہ کوششیں ناکام رہی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ اس معاملے کو صرف اور صرف سڑکوں پر اُچھالیں لیکن شکر ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آگیا جہاں آئین اور قانون کے مطابق اُس کا فیصلہ ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کا شکرگزار ہوں جنہوں نے سڑکوں پر احتجاج کو مسترد کردیا، شکرانے ادا کرنے والوں کو بہت پہلے شکر ادا کرنا چائیے تھا، ہمارا موقف پہلے دن ہی سے بڑا واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والے شرمندہ ہونگے 2014ء کمیشن کے فیصلوں کے بعد بھی اُن کو شرمند ہ ہونا پڑاتھا، انہوں نے اس قوم کے 126 دن ضائع کرنے اور معاشی نقصانات کے بعد کبھی بھی انہوں نے شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جن معاملات پر غور کیا گیا ان میں افغان مہاجرین کی واپسی، نیشنل میری ٹائم پالیسی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری شامل تھی۔

علاوہ ازیں کابینہ کے اجلاس میں کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی جبکہ لاک ڈاؤن کی صورتحال سے نمٹنے میں وزارت داخلہ کی کوششوں کو بھی سراہا۔

اس موقع پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں نے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور میں پولیس اور ایف سی کے جوانوں کی تعریف کرنا چاہوں گا جو ریاست کی رٹ بحال کرانے کے لیے اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے تمام اداروں سے مایوس ہوکر پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے 2 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کرنے اور دارالحکومت کو ’لاک ڈاؤن‘ کرنے کا اعلان کردیا تھا اور اس مقصد کے لیے عمران خان نے ملک بھر سے کارکنوں کو بنی گالہ پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔

حکومت کی جانب سے کارکنوں کو بنی گالہ اور اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی جارہی تھی، پنجاب اور خیبر پختوانخوا ہے داخلی راستوں کو کنٹینرز لگاکر بند کردیا گیا تھا جبکہ بنی گالہ جانے والے راستوں پر بھی ناکے لگائے گئے تھے اور پی ٹی آئی کے سینئر عہدے داروں اور ارکان اسمبلی کو بھی بنی گالہ جانے سے روکا جارہا تھا۔

تاہم یکم نومبر کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت نے سارا منظر نامہ تبدیل کردیا، عمران خان نے لاک ڈاؤن کی کال واپس لے لی، حکومت نے ناکہ بندیاں ختم کرنے کے احکامات جاری کیے اور کاروبار زندگی معمول پر آنے لگا۔