ہم جب کبھی بھی کسی غیر ملکی شخص کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ملتا ہوا دیکھتے ہیں، تو کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ کیا پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز کسی ہندوستانی کو مل سکتا ہے، اور اگر مل سکتا ہے تو وہ شخص کون ہونا چاہیے؟

اس پر بات کریں گے لیکن اس سے قبل دو معروف صحافیوں لیری کولنس اور ڈامینیک لیپئر کی تحریر کردہ کتاب ’’Freedom at Midnight (آدھی رات کو آزادی)، سنِ اشاعت 1975، جس کا ترجمہ سعید سہروردی نے کیا ہے، کا جائزہ لیتے ہیں۔ کتاب کے صفحہ نمبر 92 سے 94 پر تحریر ہے کہ:

فریڈم ایٹ مڈنائٹ کتاب کا ٹائٹل— Amazon.com
فریڈم ایٹ مڈنائٹ کتاب کا ٹائٹل— Amazon.com

"جناح سے آخری ملاقات کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سوچا کہ اگر اسی طرح سارا وقت باتوں میں گزر گیا تو اس ملک میں خانہ جنگی کی آگ بھڑک اُٹھے گی اور انگلستان کی ساری عزت مٹی میں مل جائے گی۔

"ماؤنٹ بیٹن نے اپنے چیف آف اسٹاف لارڈ اسمے کی طرف دیکھا اور اداس لہجے میں کہا کہ جس بٹوارے کو ٹالنا ناممکن ہے، کیوں نہ اس کا انتظام اور طریقہ کار مرتب کرنا شروع کر دیا جائے۔

اپریل 1947 میں اگر مہاتما گاندھی، ماؤنٹ بیٹن یا جواہر لال نہرو کو ایک غیر معمولی راز معلوم ہوتا تو شاید ملک کے بٹوارے کو یقیناً ٹالا جاسکتا تھا۔ وہ راز فلم کے ایک ٹکڑے پر موجود تھا۔ فلم کا یہ ٹکڑا ہندوستان کی سیاست میں زبردست تبدیلی لاسکتا تھا۔ اس میں ایشیاء کی تاریخ پر لافانی نقوش قائم کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔

لیکن اس راز کو اتنی احتیاط سے محفوظ رکھا گیا تھا کہ برطانوی سی آئی ڈی کو بھی، جو دنیا میں بڑی شہرت رکھتی ہے، اس کی کوئی بھنک نہ ملی۔ اس فلم پر انسانی پھیپھڑے کا ایکس رے موجود تھا۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ پھیپھڑوں کا مالک بری طرح تپ دق کا شکار ہے اور زیادہ سے زیادہ دو یا تین سال زندہ رہ سکے گا۔

وہ ایکس رے فلم ایک سادہ لفافے میں بند تھی اور وہ لفافہ بمبئی کے ایک ڈاکٹر جے اے ایل پٹیل کے دواخانے کی مضبوط الماری میں بند تھا۔ یہ ایکس رے محمد علی جناح کے پھیپھڑوں کا تھا۔

نئے وائس رائے کے ہندوستان آنے سے نو ماہ قبل ڈاکٹر پٹیل نے وہ ایکس رے فلم ایکس پوز کی تھی، جس سے یہ ظاہر تھا کہ جناح کے دونوں پھیپھڑوں پر تب دق کا اثر ہے۔ اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح کی عمر 70 برس تھی۔

پھیپھڑوں کی کمزوری کی وجہ سے جناح کی صحت پیدائش کے وقت سے ہی خراب تھی۔ جنگ سے کافی پہلے پلوریسی کے حملے کی وجہ سے انہیں برلن میں علاج کروانا پڑا۔ اس کے بعد برانکائٹس کے حملے ان پر بار بار ہوتے رہے۔ ان حملوں نے ان کو جسمانی طور پر اس حد تک کمزور کر دیا تھا کہ اگر انہیں کوئی لمبی تقریر کرنی پڑتی تو وہ گھنٹوں ہانپتے رہتے۔

مئی 1946 میں جناح صاحب جب شملہ میں تھے تو ان پر برانکائٹس کا زبردست حملہ ہوا۔ ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح انہیں ساتھ لے کر بمبئی روانہ ہوگئیں۔ راستے میں ان کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ محترمہ فاطمہ نے ڈاکٹر پٹیل کو ارجنٹ کال کی۔ ڈاکٹر پٹیل بمبئی سے باہر ہی ٹرین میں آگئے۔

انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ان کا معزز مریض موت کے کتنے قریب آچکا ہے۔ بمبئی کے ایک ریلوے اسٹیشن پر ان کا استقبال کرنے کی جو زبردست تیاریاں تھیں ان کو جھیلنے کی سکت اس مریض میں نہ تھی۔

اس لیے وہاں پہنچنے سے قبل ہی ڈاکٹر نے جناح صاحب کو ٹرین سے اتار کر ایک ہسپتال میں داخل کروا دیا۔ اسی دوران ڈاکٹر پٹیل نے جناح کے پھیپھڑوں کا ایکس رے لیا اور انہیں وہ راز معلوم ہوگیا جسے آئندہ برسوں میں چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اگر جناح عام مریضوں کی طرح ہوتے تو انہیں اپنی بقایا ساری زندگی کسی سینی ٹوریم میں گزارنے کا موقع دیا جاتا۔

صحت یاب ہونے کے بعد جب انہیں ہسپتال سے چھٹی ملی تو ڈاکٹر پٹیل انہیں تنہائی میں اپنے دفتر لے گئے۔ انہوں نے اپنے دوست اور مریض کو بتایا کہ وہ کس مہلک بیماری میں گرفتار ہیں۔ اگر انہوں نے تناؤ سے بچنے کی کوشش نہ کی، آرام کا پورا خیال نہ رکھا اور سگریٹ کو نہ چھوڑا تو شاید ایک دو سال سے زیادہ زندہ نہ رہ پائیں۔

اس خبر کو سن کر جناح صاحب کے ماتھے پر شکن نہیں آئی۔ ڈاکٹر پٹیل سے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ اپنی ہنگامہ خیز زندگی کے بدلے وہ سینی ٹوریم کا پلنگ کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔

پاکستان کے قیام کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کی جدوجہد نازک دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے آڑے وقت میں کھیل ادھورا نہیں چھوڑا جا سکتا۔

جناح صاحب کو بخوبی معلوم تھا کہ اگر ان کی بیماری کی خبر کانگریس کو مل گئی تو ان کا سیاسی محاذ بدل جائے گا۔ وہ جناح صاحب کی موت کا انتظار کریں گے، پھر مسلم لیگ کے نرم دل رہنماؤں کو اس طرح متاثر کر لیں گے کہ پاکستان کا خواب ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ ڈاکٹر پٹیل ہر دوسرے ہفتے خفیہ طور پر انہیں طاقت کا انجکشن لگا دیتے تھے۔

جناح صاحب اپنا فرض پورا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ انہوں نے ڈاکٹر کی صلاح پر ذرا غور نہ کیا، انہیں موت سے زیادہ تاریخ کی فکر تھی۔ ماؤنٹ بیٹن نے جناح سے کہا، "بڑی تیز رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔" دراصل جتنی تیزی سے موت جناح کی طرف بڑھ رہی تھی، اس سے زیادہ تیز رفتاری سے جناح اپنے خواب کی تعبیر کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے تھے، یا جدوجہد کر رہے تھے۔

اسی حوالے سے ان دونوں صحافیوں کی ایک اور کتاب "(Mountbatten and the Partition of India (March 22-August 15, 1947" (ماؤنٹ بیٹن اور تقسیمِ ہند) مطبوعہ، وِکاس پبلشنگ ہاؤس دہلی میں بھی جناح صاحب کی صحت کے حوالے سے انکشافات شامل دفتر ہیں کہ اگر انگریز راج کو ان کی بگڑتی صحت کا اندازہ ہوتا تو شاید ہندوستان کا مستقبل الگ ہی ہوتا۔

ماؤنٹ بیٹن اینڈ دی پارٹیشن آف انڈیا — S Chand Publishing
ماؤنٹ بیٹن اینڈ دی پارٹیشن آف انڈیا — S Chand Publishing

کتاب کے صفحہ نمبر 39 پر تحریر ہے کہ،"فریڈم ایٹ مڈنائٹ لکھنے کے دوران ان پر یہ انکشاف ہوا کہ قائد اعظم کے ذاتی معالج نے انہیں بتایا تھا کہ وہ تب دق (TB) کی وجہ سے قریب المرگ ہیں اور چھے یا سات ماہ سے زیادہ عرصے تک جی نہیں سکتے۔

انہوں نے ماؤنٹ بیٹن سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس بات کی آگاہی تھی؟ جواباً ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ، "نہ صرف میں بلکہ کوئی بھی اس بات سے آگاہ نہ تھا۔ کسی کو بھی اس کا اندازہ نہ تھا۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ میں اس صورت حال سے بے خبر تھا۔ میں نہیں جانتا کہ اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا تو میں کیا کرتا۔"

"جناح اپنی ذات میں انجمن تھے۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ دس ماہ کے عرصے میں ان کی موت واقع ہوجائے گی تو پھر میں خود سے یہ سوال کرتا کہ کیا انڈیا کو تقسیم ہونے کے بجائے متحد رہنا چاہیے؟ کیا میں گھڑی کے کانٹوں کو روک کر پیچھے کر دیتا اور صورت حال جوں کی توں رہتی؟ میں محسوس کرتا ہوں کہ جناح کو بذاتِ خود بھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ قریب المرگ ہیں۔ وہ بہت تند، سرد مہر، اور ناقابلِ فہم شخص تھے۔ مجھے ان کے حوالے سے کوئی بات حیران نہیں کرتی تھی۔ وہ ایک الگ ہی مخلوق تھے۔

"ویول اور ان کا عملہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھا کہ جناح سخت علیل ہیں لیکن جب میں دہلی پہنچا تو میں نے ایسی کوئی خبر نہیں سنی۔ ایسی کسی خبر کا میری بیوی، بیٹی، اور عملے کو علم نہ تھا۔ اگر مجھ سے پہلے کا عملہ اس بات سے آگاہ تھا تو انہوں نے وہ بات خود تک محدود رکھی۔ یہ ایک تباہ کن عمل تھا۔

"اگر میں اس صورت حال سے آگاہ ہوتا تو یقیناً معاملات کسی اور طور نمٹائے جاتے۔ لیاقت علی خان جو ایک معزز ہندوستانی تھے، ان سے معاملات آسانی سے طے کیے جاسکتے تھے۔ جناح ایک جنونی تھے۔ وہ مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہم ان کی موت کا انتظار کر سکتے تھے۔ ہاں البتہ یہ ہو سکتا تھا کہ ہم اپنی شرائط پر ان سے معاملات طے کر سکتے تھے۔"

ماؤنٹ بیٹن کے مطابق "تقسیمِ ہند سے قبل ہم ایک لمحے کے لیے بھی اگر یہ تصور کریں کہ جناح وفات پا چکے ہیں تو میں یہ یقین کر سکتا ہوں کہ کانگریس سکون کا سانس لیتی کہ ان کا انتہائی بڑا مخالف دنیا میں نہیں رہا ہے۔ جناح کے دیگر ساتھی ان کی پرچھائی بھی نہیں تھے۔ اس موقعے پر جو صورت حال ہوتی وہ ایسی ہی ہوتی کہ کانگریس زیادہ سے زیادہ چیزوں سے دستبردار ہو جاتی اور دوسرا گروہ اسے تسلیم کر لیتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت تھی جسے کبھی بیان نہیں کیا گیا۔"

ماؤنٹ بیٹن نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا فیلڈ مارشل لارڈ ویول، (جو 1943 سے لے کر 1947 تک انڈیا کے وائس رائے تھے) نے ان خبروں کو سنجیدگی سے نہیں دیکھا تھا، تو جواب دیا کہ انہیں ان خبروں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تھا۔ ان کی ماتحت دنیا کی بہترین سی آئی ڈی کام کر رہی تھی۔ مثلاً اگر میں کوئی معلومات حاصل کرنا چاہوں تو میں باآسانی سی آئی ڈی کو اس کے لیے کہہ سکتا ہوں۔

"برطانوی راج اپنے اختتام سے قبل دنیا بھر میں اس حوالے سے اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ اس کے پاس ایک لامحدود تنظیم تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر سی آئی ڈی کو اس بات کا علم تھا تو مجھے ضرور آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ مجھے ان معلومات سے محروم رکھنا ایک مجرمانہ حرکت تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ انڈیا کو متحد رکھنے کا آخری موقع تھا کیوں کہ جناح تنہا تھے۔"

کتاب کے صفحہ نمبر 42 پر ماؤنٹ بیٹن کے حوالے سے رقم ہے کہ "اگر جناح علالت کے سبب دو برس قبل وفات کر جاتے تو ہم انڈیا کو متحد رکھ سکتے تھے۔ جناح فردِ واحد تھے جو ہماری اس کوشش کو ناممکن بنا سکتے تھے۔ میں یہ نہیں جانتا کہ یہ کس قدر ناممکن تھا، تاوقتیکہ میں جناح سے ملاقات نہ کر لیتا۔

"مجھے اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد تھا۔ مجھے یقین تھا کہ میں ہندوستانیوں کو اس بات پر قائل کر سکوں گا کہ وہ دانشمندانہ فیصلہ کریں۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ میں اپنے تئیں لوگوں کو قائل کر سکتا تھا، بلکہ اس لیے بھی تھا کہ میں حقائق کو صحیح شکل میں پیش کرسکتا تھا۔ لیکن مجھے اس بات کا ادراک نہ تھا کہ جناح کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ ہو سکتا تھا۔ وہ مکمل طور پر اپنا ذہن بنا چکے تھے۔ میں ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا تھا۔"

قائدِ اعظم، لارڈ ماؤنٹ بیٹن، لیاقت علی خان اور جواہر لال نہرو 3 جون 1947 کے تقسیم کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں.
قائدِ اعظم، لارڈ ماؤنٹ بیٹن، لیاقت علی خان اور جواہر لال نہرو 3 جون 1947 کے تقسیم کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں.

جناح صاحب اپنی صحت کے حوالے سے بہت ہی محتاط تھے اور قیامِ پاکستان کے بعد وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی مخدوش صحت کے بارے میں کسی کو ذرہ برابر بھی اندازہ ہو سکے۔ قائدِ اعظم اکیڈمی کی مطبوعہ کتاب "قائد اعظم میری نظر میں"، طبعِ اول مارچ 1984، کے صفحہ نمبر 34 پر عبدالحمید اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’ایک دن قائدِ اعظم نے مجھے پیغام بھجوایا کہ وہ جمعرات کو صبح 9 بجے نیچے آ کر ریزیڈنسی کا پرانا فرنیچر دیکھیں گے۔

"ہم لوگ مقررہ وقت سے کچھ دیر پہلے تیار ہوگئے۔ ابھی 9 بجنے میں سترہ منٹ باقی تھے کہ قائد اعظم کے اردلی نے آکر اطلاع دی کہ ان کی طبیعت مضمحل ہے، اس لیے وہ نہیں آسکیں گے۔ اس دن کے بعد سے قائد اعظم کی صحت خراب ہوتی چلی گئی اور ہم نے انہیں نیچے آتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آخری مرتبہ جب وہ زیارت سے کوئٹہ روانہ ہو رہے تھے تو انہیں اسٹریچر پر لایا گیا۔ روانگی کے وقت قائد اعظم نے حکم دیا کہ مجھے اسٹریچر پر لے جاتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوئی انگریز میری یہ حالت نہ دیکھے۔

"اتفاق سے ریزیڈنسی میں اس وقت ایک انگریز افسر ایس ڈی اسکاٹ موجود تھا جو شاید پولیس کپتان تھا اور سیکورٹی کا نگران تھا۔ میں نے اس سے جا کر کہا کہ قائد اعظم آنے والے ہیں آپ باہر جا کر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیں۔ وہ سمجھدار افسر تھا نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ باہر چلا گیا اور اپنے آدمیوں کی تعیناتی کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔

"جب قائد اعظم کو گاڑی میں بٹھایا جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ، "مجھے گاڑی میں اس طرح بٹھاؤ کہ میں اپنے عوام کو دیکھ سکوں۔" جب زیارت سے روانہ ہوئے تو اپنا داہنا ہاتھ آہستہ آہستہ ہلا کر لوگوں کو خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ زیارت میں یہ ان کا آخری قیام تھا۔"

قائد اعظم کی بگڑتی صحت اور بقول محترمہ فاطمہ جناح، وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے غیر سنجیدہ رویے پر ہم اس سے قبل لکھ چکے ہیں۔ اسی حوالے سے زاہد چوہدری کی کتاب "پاکستان کی سیاسی تاریخ کی جلد نمبر 4، بہ عنوان جناح لیاقت تضاد اور پنجابی مہاجر تضاد" کے صفحہ نمبر 64-63 پر رقم ہے کہ:

’’شریف الدین پیرزادہ نے اپنے ایک مضمون میں ایم اے رحمان کا ایک خط شایع کیا ہے جس میں ڈاکٹر الٰہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان کی زبانی متذکرہ واقعہ کی وہ تفصیل بیان کی گئی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے سنی تھی۔

ان کے مطابق قائد اعظم پر دوا کا بڑا موافق اثر ہو رہا تھا اور وہ صحت یاب ہو رہے تھے۔ ایک روز لیاقت علی خان قائد اعظم سے ملنے کے لیے زیارت آئے۔ وہ ان کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹے تک رہے۔ ابھی ان کی ملاقات جاری ہی تھی کہ دوا کھلانے کا وقت ہو گیا، لیکن کرنل الٰہی بخش اندر جا کر دوا نہیں دے سکتے تھے کیوں کہ اندر جو ملاقات جاری تھی وہ رازدارانہ تھی۔ چناںچہ وہ باہر انتظار کرتے رہے تاکہ جوں ہی ملاقات ختم ہو وہ انہیں دوا دے سکیں۔

جب لیاقت علی خاں ملاقات کر کے کمرے سے باہر آئے تو کرنل الٰہی بخش فوراً کمرے میں داخل ہوئے اور قائدِ اعظم کو دوا دینی چاہی۔ انہون نے دیکھا کہ قائدِ اعظم پر سخت اضطرابی و افسردگی طاری تھی۔ انہوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد کرنل کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔

قائدِ اعظم کے انتقال کے فوراً بعد میرے والد کو لیاقت علی خان نے بلوا بھیجا۔ لیاقت علی خان نے ان سے پوچھا کہ اس روز زیارت میں جب میں کمرے سے باہر نکل آیا اور آپ اندر گئے تو قائد نے آپ سے کیا کہا تھا۔ کرنل الٰہی بخش نے لیاقت علی خان کو بہتیرا یقین دلانے کی کوشش کی کہ قائد نے آپ دونوں کے مابین ہونے والی گفتگو کے بارے میں مجھ سے قطعی کوئی بات نہیں کی تھی سوائے اس کے کہ اس کے بعد قائد نے دوا کھانی بند کر دی تھی۔

لیکن الٰہی بخش کے جواب سے لیاقت علی خان کو تسلی نہیں ہوئی۔ لیاقت علی خان کافی دیر تک انہیں زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور کرنل الٰہی بخش کمرے سے نکلنے لگا تو لیاقت علی خان نے واپس بلوایا اور تنبیہ کی کہ اگر میں نے کسی اور ذریعے سے متذکرہ ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو تمہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔"

پڑھیے: "وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میں کتنا عرصہ زندہ رہوں گا"

ہمارے خیال میں اگر دنیا میں کوئی ایسا ہندوستانی ہے، جسے پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز دیا جانا چاہیے تو وہ ڈاکٹر جے اے ایل پٹیل ہیں، جنہوں نے مئی 1946 میں قائد اعظم کا طبی معائنہ کیا تھا اور انہیں یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ قائد اعظم اپنی بیماری کے سبب زیادہ عرصہ جی نہیں سکتے۔

یہ ایک بہت بڑی بات ہے کہ انہوں نے اس بات کی اہمیت کے پیشِ نظر مکمل طور پر پروفیشنل انداز میں اسے خود تک محدود رکھا، اور ان کی اس رازداری نے ہی ہندوستان کے آخری وائسرائے کے الفاظ میں برِصغیر کا نقشہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ زاہد چوہدری کے مطابق لیاقت علی خان نے جو کچھ ڈاکٹر الٰہی بخش کے ساتھ کیا، اس کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بھی ذہن میں ضرور جنم لیتا ہے کہ اگر لیاقت علی خان کو اس بات کا علم ہو جاتا کہ جناح صاحب قریب المرگ ہیں تو وہ کیا کرتے؟