پاناما کیس سے حامد خان کی دستبرداری پر عمران مایوس

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2016

ای میل

عمرا ن خان اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے ہیں — فوٹو: ڈان نویز
عمرا ن خان اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے ہیں — فوٹو: ڈان نویز

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں حامد خان کے دستبردار ہونے پر افسوس ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق عمران خان نے پاناما کیس کے لیے چار رکنی ٹیم کا اعلان کردیا ہے جس میں بابر اعوان، نعیم بخاری، سکندر مہمند اور ملیکہ بخاری کو شامل کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں حامد خان کی دستبرداری پر افسوس ہے اور اب پاناما کیس میں پی ٹی آئی پینل کی سربراہی نعیم بخاری کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں لیگل ٹیم میں تبدیلی پر غور کیا گیا، ن لیگ کی پاناما کیس میں کوئی تیاری نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: پاناما کیس: حامد خان کی پی ٹی آئی کی نمائندگی سے معذرت

ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کو سپریم کورٹ پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا ہے، تحریک انصاف نے پورا زور لگایا تاکہ پاناما کیس کو دبایا نہ جاسکے، جمہوری ممالک میں پاناما لیکس پر تحقیقات شروع ہوچکی ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس تاریخی اہمیت کا حامل ہے، احتساب سے ڈرنے والے نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہیں، کمزور ٹیموں سے بڑے بڑے میچ جیتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ نوازشریف کی 3تقاریر میں قطری شہزادے کا تذکرہ نہیں کیا گیا، انھوں نے سوال اٹھایا کہ عدالت میں جواب کے وقت قطری شہزادہ کہاں سے آگیا؟

عمران خان نے کہا کہ لندن شواہد کے لیے نہیں بیٹوں سے ملنے گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما کیس: 'شریف خاندان کی دستاویزات جھوٹ پر مبنی'

تیسری شادی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ شادی سنت رسول ہے لیکن فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔

اس سے قبل اسلام آباد میں عمران خان کی صدارت میں پی ٹی آئی کا اہم اجلاس ہوا جس میں جہانگیر ترین، شیریں مزاری، نعیم الحق اور علیم خان نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں عمران خان کے دورہ لندن میں ہونے والی پیش رفت پر مشاورت کی گئی جبکہ عمران خان کی جانب سے پاناما لیکس کے حوالے سے اکھٹے کیے گئے مزید شواہد کا جائرہ بھی لیا گیا۔

پی ٹی آئی کے اجلاس میں پاناما لیکس کی اگلی سماعت کی تیاری اور لیگل ٹیم کی تبدیلی کے حوالے سے معاملات بھی زیر غور آئے۔

مزید پڑھیں: پاناما گیٹ کیس:حامد خان کی جگہ پی ٹی آئی کا وکیل کون؟

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے سینئر وکیل اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حامد خان نے پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس میں پی ٹی آئی کی نمائندگی سے معذرت کرلی تھی۔

حامد خان کے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ٹیلی فونک رابطے میں پاناما لیکس کے مقدمے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ‫گئی، جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران میڈیا پر جاری مہم پر تشویش کا اظہار کیا ‫گیا۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر جاری مہم کے بعد میرے لیے کیس کی مزید پیروی کرنا ممکن نہیں۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کیس میں حامد خان کی خدمات پر انہیں سراہا اور کہا کہ خواہش ہے کہ حامد خان قانونی ٹیم کی معاونت جاری رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’قطری شہزادے کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جاری پاناما پیپرز کے مقدمے میں حامد خان اور نعیم بخاری پی ٹی آئی کی نمائندگی کر رہے تھے۔

گذشتہ ہفتے منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے پی ٹی آئی کے شواہد کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کے 680 صفحات پر مشتمل دستاویزات کا شریف خاندان کی لندن میں پراپرٹیز سے کوئی لینا دینا نہیں۔

کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے ایک جج کی جانب سے یہ ریمارکس بھی دیئے گئے تھے کہ ’ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کونسا وکیل کس کی نمائندگی کر رہا ہے۔

کیس کی آئندہ سماعت 30 نومبر کو ہوگی۔